دل کا دورہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے جانئیے 356

دل کا دورہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے جانئیے

انجائنا اور دل کا دورہ 2 علیحدہ امراض نہیں ہیں بلکہ اک ہی مرض كے 2 مختلف مدارج اور مظاہر ہیں . انجائنا شدت میں کم اور دل کا دورہ شدید تر ہے .

لیکن یہ ضروری نہیں کے ہمیشہ انجائنا اور اِس كے بعد لازمی طور پر دل کا دورہ ہو .
کچھ لوگوں کو صرف انجائنا کا درد ہوتا ہے .
کچھ کو صرف دل کا دورہ
کچھ کو پہلے انجائنا اور بعد میں دل کا دورہ
بعض اوقات دل کا دورہ كے بعد انجائنا کا درد ہونے لگتا ہے اور یہ منحصر ہے بیماری کی عمر عادت اور اطوار اور خون رسانی كے متبادل نظام پر .
دِل كے زندہ رہنے اور کام کرنے كے لیے فیول کی ضرورت ہوتی ہیں . یہ فیول اسے آکسیجن اور غذا کی صورت میں دِل کی تجی شریانیں فراہم کرتی ہیں . کسی بھی دوسرے پٹھے کی طرح دِل کو بھی جس قدر زیادہ کام کرنا ہو . اسے اسی قدر زیادہ فیول کی ضرورت ہو گی اگر ضرورت زیادہ ہو اور فیول کی فراہمی کم ہو تو دِل كے پٹھے اِس کمی پر احتجاج کرتے ہیں . ایسا اِس صورت میں ہوتا ہے جب دِل کی تجی شریانیں بیماری کی وجہ سے تنگ ہو جاتی ہیں یا ان میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خون ضرورت كے مطابق مہیا نہیں کر سکتیں . دِل كے احتجاج یا شکایت کا اظہار انجائنا كے درد کی صورت میں ہوتا ہے .
انجائنا شریان میں جزوی یا عارضی رکاوٹ كے نتیجہ میں ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شریان بالکل بند ہو جائے تو پٹھے كے جس حصہ کو خون ملنا بند ہو جاتا ہے وہ مردہ ہو جاتا ہے . میڈیکل کی زبان میں اسے میوکارڈیال انفرکشن کہتے ہیں . عام فہم زبان میں اسے ہارٹ اٹیک یا کوروناری تھرومبوسیس کہتے ہیں .
ہارٹ اٹیک ( دِل كے دورہ ) کا سبب اک طویل دورانیے کی بیماری آتھیروکلیروسس ( شریان کا بند ہو جانا ) ہے اِس بیماری میں دِل کی تجی شاریانیں بتدریج تنگ ہوتی ہوئی بلاآخر بند ہو جاتی ہیں .
یہ مرض اگرچہ سُستی كے ساتھ فروغ پاتا ہے لیکن اِس کا آغاز بلوغت كے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے . اِس کی علامت ہارٹ اٹیک ہے لیکن یہ علامت اچانک سامنے آتی ہے . اِس کی موجودگی کا اظہار بعض اوقات اس وقت ہوتا ہے جب پہلے سے تنگ شریان میں خون کا کوئی لوتھڑا ( کلوٹ ) یا تھرومبوسیس بن جاتا ہے . خون کی سپلائی رک جاتی ہے . اور دِل ، دِل کی اذیت ( دل کے دورے ) کا شکار ہو جاتا ہے .
دِل كے پٹھے کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کا انحصار اِس بات پر ہے کے شریان بند ہونے پر کتنی دیرخون کی سپلائی اِس حصے کی رکی رہی . دِل كے پٹھے کو اگر نقصان پہنچے تو اِس کی خون کو گردش میں لینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے . اگر آکسیجن سے محروم حصہ زیادہ بڑا ہے تو دِل غیر مستعدی سے پمپ کرنا شروع کر دیتا ہے چنانچہ خون کی گردش ناکافی ہوتی ہے اور زندگی کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے . اتفاق سے دِل کی بالائی شاریانوں ( تجی شاریانوں ) كے ذریعے فیول فراہم کرنے کا اک نیٹ ورک میسر ہوتا ہے . عام طور پر اک شریان کی مکمل بندش پیور نظام كے کسی چھوٹے سے حصے کو متاثر کرتی ہے . یہی وجہ ہے کے دِل كے دوروں کی اکثریت میں پٹھوں کا پمپ بذات خود ناکارہ نہیں ہوتا . دِل كے پٹھے اور ریشوں کو چاہے تھوڑی سی جگہ پر نقصان پہنچے لیکن اگر اِس سے دِل كے برقی نظام میں خلل پرے تو نتائج تشویش ناک ہوتے ہیں . % 50 ہارٹ اٹیک مہلک ثابت ہوتے ہیں ان میں سے آدھی اموات اٹیک کی علامات شروع ہونے كے اک 2 گھنٹوں میں واقع ہو جاتی ہیں . کچھ اموات تو محض چند منٹ میں ہو جاتی ہیں . ان اموات كے بیشتر سبب دِل كے برقی نظام میں خلل ہوتے ہیں .
دِل کی رفتار میں یکایک کمی یا مکمل بند ہونا برقی نظام میں کمپلیکشن کی اک صورت ہے . یہ اس وقت رونوما ہوتی ہے . جب دِل كے ریشو کا وہ علاقہ جو برقی رو کی ترسیل کرتا ہے . متاثر یا مردہ ہو جائے . اک انتہائی خطرناک اور جان لیوا کمپلیکشن فوری طور پر برقی کارکردگی کا درہم برہم ہونا ہے . جسے وینٹریکل فیبریلاشن کہتے ہیں . اک دفعہ جب برقی سگنل پیدا ہونے بند ہو جائیں تو پمپ کرنے کا معاون فال ختم ہو جاتا ہے . اور یہ سگنل حل نا ہوں تو چند منٹ كے اندر موت واقع ہو جاتی ہے .
اگر ہارٹ اٹیک چند گھنٹے میں کمپلیکشن کا اظہار نا کرے تو اگلے ہفتے كے دوران موت کا خطرہ % 5 رہ جاتا ہے . ادویات سے علاج اور خون كے لوتھروں ( کلوٹ ) کو تحلیل کرنے كے اقدامت سے زندگی كے امکانات مزید روشن ہو جاتے ہیں .

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.