کیل مہاسوں اور چھائیوں کا دیسی علاج 413

کیل مہاسوں اور چھائیوں کا دیسی علاج

ہماری پہلی پوسٹ میں ہم نے کیل مہاسوں کی وجوہات بیان کی تھی اور اب ہم آپ کو کیل مہاسوں اور چھائیوں کا دیسی علاج بتائیں گیں جو امید ہے کہ آپ کو ان مسائل سے مستقل نجات حاصل کرنے میں معاون ہوں‌گیں.

دیکھا گیا ہے کہ عموماً لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیوں کو سب سے پہلے جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہیں کیل مہاسے اور چھائیاں . انہیں انگلش میں پمپلز ، ایکنی بھی کہا جاتا ہے اور یہ لڑکیوں کو پریشان کرنے کی لیے کافی ہوتے ہیں . انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہہ ان مہاسوں کی وجہ سے چہرے کی خوبصورت اور شادابی میں فرق آجائے . کوئی بھی لڑکی یہ کبھی نہیں چاہتی کہہ اِس کی چہرے پر بدنما داغ ہوں . آپ کو اب پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں . یہاں ہم آپ کی لیے چند ایسی ہدایت پیش کر رہیں ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنے چہرے کو کیل مہاسے سے نجات دلا سکتی ہیں اور یوں آپ کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آئے گا .
کیل مہاسوں اور چھائیوں کی وجوہات :

جو خواتیں ابتدائی عمر میں جلدکی حفاظت کو نظر انداز کرتی ہیں وہ عموماً باقی عمر پچھتاووں کی ساتھ گزارتی ہیں کیوں کہہ جوان عمری میں غیر متوازن غذا اور جسمانی ورزشوں سے گریز نا صرف جلد کی خرابی کا باعث بنتا ہے بلکہ ڈھلتی عمر کی ساتھ جورو کی درد کا سبب بھی بنتا ہے .

خشک ہوا جلد کی خرابی کی ایک اور بڑی وجہ ہے . یہ آپ کی جلد کو خشک اور بے رونق کر دیتی ہے اور اگر آپ فوری طور پر پانی کا استعمال نہیں بڑھائیں گی تو یہ آپ کی جلد کی ساری ترو تازگی چھین لے گی . خشک ہوا صرف چہرے کی جلد کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اِس سے سارا جسم متاثر ہوتا ہے . تمام جلد کھینچی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور اگر احتیاطی تدابیر اختیار نا کی جائیں تو جلد خشکی اور جھریوں اور چھائیوں کا شکار ہو جاتی ہے اور یہی خشکی پِھر بالوں کی گرنے اور دانے پھنسیوں کا بھی سبب بنتی ہے . پانی کا کم استعمال اِس کی بنیادی وجہ ہے .

کیل مہاسوں کی دو وجوہات ہیں ، اول جلد کی چکناہٹ اور دوم مناسب دیکھ بھال سے غفلت . عام طور پر چکنی جلد پر زیادہ دانے نکلتے ہیں . اگر آپ کی غذا میں مصالحے ، روغنیات اور چکنائی زیادہ مقدار میں شامل ہوں گی تو اِس سے بھی جلد پر دانے نکل آئیں گے . کیل مہاسوں سے چھٹکارے کی لیے سب سے موثر علاج کلینیزنگ ہے .

جلد پر ایک غدود پایا جاتا ہے جسے سیباکیووس کہتے ہیں . اِس سے ایک روغن سیم خارج ہوتا ہے . یہ قدرتی موسچرائزر ہوتا ہے . ان کی ارتکاز کی ہی وجہ سے جلد میں سوزش ہوتی ہے اور یہ کیل مہاسوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں .

بالغوں میں کیل مہاسے نمودار ہوتے ہیں تو %90 ایسے افراد ہوتے ہیں جنہیں اوائل نوجوانی میں یہ عارضہ لاحق ہو چکا ہوتا ہے جبکہ % 8 ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلی مرتبہ 20 کی دھائی کے آخر میں ان کا تجربہ ہوتا ہے . ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہہ بالغوں کو اگر یہ ہو تو وہ زیادہ سنگین نہیں ہوتا . ٹین ایجز کے کیل مہاسے زیادہ شدید نوعیت کے ہوتے ہیں . تاخیر سے یا بلوغت کے بعد مہاسے اِس وجہ سے نمودار ہوتے ہیں کہہ بعض اوقات ہارمونز کی تبدیلیوں کا ری ایکشن دیر سے ہوتا ہے . یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن میں یہ تکلیف عین شباب میں رونوما ہونے سے رہ جاتی ہے . پِھر بلوغت کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے . اِس کی متعدد وجہ ہیں . اکثر اوقات موروسی عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے . اگر آپ کی والدین میں سے کسی کو ٹین ایجز میں یہ تکلیف نہیں ہوئی اور بلوغت کی بعد اِس سے واسطہ پڑا تو امکان ہے کہہ آپ کی ساتھ بھی یہی ہو گا . اِس طرح بعض عورتوں کو ایام کی مختلف مراحل میں کیل مہاسوں کا سامنا ہوتا ہے . اکثر اوقاات ایام کی آغاز سے فوراً قبل یا دورانِ حمل ایسا ہوتا ہے . اِس کی وجہ سے ایام کی بے قاعدگی بھی لاحق ہوتی ہے .

کیل مہاسوں اور چھائیوں کا دیسی علاج

وجہ کوئی بھی ہو جب کیل مہاسے بلوغت کی بعد اور پختہ عمر میں ظاہر ہوتے ہیں تو زیادہ پریشان کن بن جاتے ہیں کیوں کہہ اِس عمر میں کیل مہاسوں کی توقع کوئی نہیں کرتا . پِھر شادی یا پیشہ وارانہ زندگی بھی دَر پیش ہوتی ہے . لہذا پختہ عمر کی عورتوں کو ان سے زیادہ پریشانی لاحق ہوتی ہے . ان کا کوئی ایک فوری جادویی علاج تو ممکن نہیں ہے البتہ ماحیرین متعدد اقدامات بتاتے ہیں جنہیں اختیار کر کے ان سے نجات حاصل کرنا یا ان کی شدت میں کمی کرنا ممکن ہوتا ہے .

آئل یا روغن اِس مسئلے کو بڑھانے کا سبب ہیں .

جلد کو صاف رکھنا چاہیے . چہرے کو دن میں دو تِین مرتبہ دھونا چاہیے .

ایسی کاسمیٹک کا استعمال ترک کر دینا چاہیے جو آئل بسے ہوں ان کی جگہ واٹر بسے میک اپ استعمال کرنے چاہیے .

رات کو میک اپ ضرور اُتار دینا چاہیے .

چہرے کو صرف دھونا ہی کافی نہیں ، اِس مقصد کی لیے بنائی جانے والی کریم اور جیلی وغیرہ کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے . عام طور پر بینزویل پروزیدی ، ریتینویک ایسڈ ، اینٹی بایوٹک لوشن اور سولپحور کریم علاج کی لیے استعمال ہوتی ہے وہ مصنوعات جن میں تو تریویل ہوتا ہے مفید ثابت ہوتی ہیں ان سے بیکٹیریا کی پیدائش میں کمی واقعی ہوتی ہے . ہماری نظر میں ٹوٹکوں کے مقابلے میں کیل مہاسوں اور چھائیوں کا دیسی علاج بس یہی ہے جو آپ کو بتا دیا گیا ہے.

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.