کامیابی کا راز 94

اسرائیلی قوم کی ترقی اور کامیابی کا راز کیا ہے

کامیابی کا راز
میں آج آپ کے ساتھ ایک ریسرچ شیئر کرنا چاہتی ہوں جو کچھ عرصہ پہلے ہوئ۔ ڈاکٹر سٹیفن کارلیون 3 سال اپنے کچھ پراجیکٹس کے لیے اسرائل میں ر ہے۔ہم جانتے ہیں اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کا تمام دنیا کی معشیت پر بہت حد تک کنٹرول ہے۔۔عالمی فیصلے انکی منشاء کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف گورنمنٹ کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاست انکی مٹھی میں ہے۔ اج تک جتنے نوبل پرائز دیے گئے سواے 2مسلمانوں کے سب کے سب یہودیوں کو ملے۔اسکے علاوہ جتنے بہی بڑے بڑے برینڈز ہیں سب یھود یوں کے ہی ہیں۔ تقریبًآ %7 0فیصد کاروبار یہودیوں کے پاس ہے۔

یہ تمام چیزیں یہ ثابت کرتی ہیں کے وہ ایک کامیاب قوم بلکہ نسل ہیں۔ ان میں ایسے گر ضرور ہیں۔ کہ وہ پوری دنیا پر چھائے ہوے ہیں۔ ڈاکٹر سٹیفن نے ریسرچ شروع کر دی کہ کیا یہ اللہ تعالی کی طرف سے blessed ہیں کہ یہ اتنے ذہیں ہہں اتنی قابلیت ہیں ان میں کہ کوئ انکو ہرا نہی سکتا کوئ انکو مات نہی دے سکتا۔

یاد رہے!
کہ اگر اپ اسرائیل کو دنیا کے نقشے پر دیکھیں تو ایک dot سے بس تھوڑا سا بڑا ہے۔ ابادی60لاکھ ہے۔ تو اسمیں ہر بندہ کیسے اتنا قابل ہے۔ ؟؟؟؟؟

سٹیفن کارلیون کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ عورتیں جو حاملہ ہوں وہ Math کے سوالات بقاعدگی سے حل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس میں انکا شوہر بہی ساتھ شامل ہوتا ہے۔ باقاعدہ بول کے سمجھانے کے انداز میں مشق کو حل کیا جاتا ہے۔ جسے ہم مینٹل میتھ بہی کہتے ہیں۔ ۔۔۔کیونکہ انکا ماننا ہے کے ماں جو کھاتی ہے اور جو ذہنی مشاغل وہ کرتی ہے اسکا ڈائیرکٹ اثر بچے پر پڑتا ہے۔ حاملہ خاتون کو پرسکون ماحول میں رکھا جاتا ہے جہاں نہ تو ساس کے تانے ہوتے ہیں نہ ہی شوہر کا تلخ رویہ ۔ ان کو ایسے دیکھا جاتا ہے کے وہ ایک ایسے انسان کو جنم دینے جا رہی ہے جو دنیا کے لیے کچھ کر سکے۔ انکا فوکس ہوتا ہے ایک ذہین انسان کو پیدا کیا جاے ۔۔۔۔

خوراک: –
حاملہ خاتون کی خوراک میں دودھ ،بادام، مچھلی میں ضرور شامل ہوتی ہے۔ کیونکہ انکی ریسرچ یہ بہی بتاتی ہے کے مچھلی زہنی نشونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

زبان: – ان کے بچے جب بولنا شروع کرتے ہیں تو وہ 3 زبانیں بولتے ہیں ۔عربی ۔عبرانی۔ انگریزی

کھیل: –
یہ موبائیل گیمز اور کارٹون ہمارے بچے ہی کھیلتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو تیر اندازی سکھاتے ہیں۔ اسکے علا وہ دوڑ میں بہی ان کے بچے حصہ لیتے ہیں
ان کا ماننا ہے کے جو تیر اندازی کرتے ہیں ۔مستقبل میں وہ بہت بہترین فیصلے کر سکتے ہیں۔ انکے فیصلے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ ۔

سگریٹ: –
ہمارے ہاں سگریٹ پینا عام سی بات ہے ہم اپنے بڑوں اور بچوں کے سامنے بلا جھجک سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں ۔اور ہم حاملہ خاتون کا بہی خیال نہی کرتے۔ لیکن جیسا کے اپ جانتے ہیں سگریٹ کے بہی بڑے بڑے برینڈز یہودیوں کے ہیں۔ لیکن ان کے اپنے ہاں سگریٹ نوشی منع ہے اگر اپ مہمان بہی ہیں تب بہی وہ اپکو گھر میں سگریٹ پینے کی اجازت نہی دیتے ۔انکا یہ بہی مانن ہے کے سگریٹ DNA اور نئ جینز کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تعلیم: –
تعلیم کے میدان میں بہی جب ہم اپنے بچوں کو 1+2 سکا رہے ہوتے ہیں تب وہ اپنے بچوں کو conceptual math سکھا رہے ہوتے ہیں جسے کاروباری میتھ بہی کہتے ہیں. ہمارے بچے اج بی 12 انڈے 60 کے ائے تو 6 انڈے کتنے کے ہوں گے اس سوال پر پریشان ہوجاتے ہیں.کیونکہ ہمارے ہاں رٹہ ازم کو Follow کیا جاتا ہے. ڈاکٹر سٹیفن کارلیون کا یہ بہی کہنا ہے کے میں نے جب اسی عمر کے بچوں کےکیلفورنیا کے ساتھ مقابلہ کیا تو کیلفورنیا والے بچےزہنی استعداد میں اسرایل کے بچوں سے چھ سال پیچھے تھے. اب ہمارے ہاں جو Version of study پڑھایا جا رہا ہے اسکے بارے میں یہ پتہ ہی نی ہوتا کہ اس سے کیا target achieve ہوں گے اور انے والے وقت میں ہمیں اس کے پڑھنے سے کیا فا ئدہ ہوگا۔ ہائ لیول میں ہم ارٹس دکھ لیتے ہیں ۔۔وہ سائنس کے پڑھنے کو فوقیت دیتے ہیں پھر یونیورسٹی لیول پر وہ کاروبار کو فوکس کرتے عملی تعلیم پر فوکس ہوتا ہے انکا۔ وہ مختلف گوپ بناتے ہیں اور جو گروپ 10 لاکھ ڈالر earn اس پوجیکٹ سے کماتا ہے ان کو ہی ڈگری دی جاتی ….اور ہم میں 95% لوگ اس لیے پڑھتے ہیں کہ نوکری مل جاے .کاروبار کی طرف تو زہن ہی نہی جاتا.اس لے لوگ پھر ہماری اس عادت سے فاعدہ اٹھاتے ہیں اور تمام معشیت کو کنٹرول کیا ہوا ہے.

قرضہ:-اسکے علاوہ یہودیوں نے ایک کمیونٹی بنائ ہے جہاں وہ کاروبار کے لیے بلا سود قرضے فراہم کرتے ہیں صرف ییودیوں کو….جس کے پاس بہترین کاروباری idea ہو اسکو قرضہ دے دیا جاتا ہے.اسکے علاوہ میڈیکل کے سٹوڈنٹ کو بھی نوکری کے بجائے نجی کاروبار کرنے کیلے قرضہ دیا جاتا ہے. …
آب ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے کیا ہم نے ایک قابل اور زہین نسل کو پیدا کرنا ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ملک کے لیے بھی کچھ کر سکے….اسکے لیے سب سے پہلے ہمیں آپنی سوچ کو بدلنا ہوگا نوکری کو زہن سے نکال کر کاروبار کو ترجہح دینی ہوگی. کیونکہ دین اسلام میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ تجارت ہی بہترین ہے….خود کو ذہنی غلامی سے ازاد کر لیں اور ان باتوں پر عمل سے بہت بہتر مستقبل اپکا منتظر کھڑا ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟