اسلامی معاملات میں عملی قدم اٹھائیں صرف باتیں نہیں 203

اسلامی معاملات میں عملی قدم اٹھائیں صرف باتیں نہیں.

اس نے موبائیل پر نظم لگائی اور امی کو آواز دی
” امی آئیے !! وہ والی نظم سنیں جس پر ٹی وی چینل کے خلاف بڑا ہنگامہ ہوا تھا اور پروگرام کرنے والی خاتون کو پاکستان سے باہربھاگنا پڑ گیا تھا۔۔۔”
” اچھا آتی ہوں ! بس ایک منٹ ! ۔۔”
اس نے آواز تیز کردی ۔نظم کےبول تھے :” علی سے آج ہے زہرہ کی شادی ”
نظم بڑی اچھی تھی ۔ ماں بیٹے جیسے کھو سے گئے ۔ہر بول دولہا ، دولہن کے درجات کی بلندی کا اعلان کر رہا تھا ۔ اس بول پر تو بے ساختہ امی جان کی زبان سے نکلا : “الحمد للہ ”
“سلامی میں ملی مرضی خدا کی ۔۔۔! ”
” لکھنے والے نے کیا خوب لکھا ہے ! حق ادا کردیا محمد ﷺ کے اہل بیت سے محبت کا ! ” سبحان اللہ ۔۔۔سبحان اللہ !” اختتام پر جمیل نے موبائیل بند کر دیا ۔
غزالہ نے بیٹے کے چہرے پر نگاہ ڈالی ۔جذبات عقیدت و محبت سے پر تھے ۔ چند لمحوں بعد اس نے کہا ،
” بیٹے سنا تم نے ! باعث تخلیق کائنات محمد ﷺ کی لاڈلی بیٹی کی شادی کس سادگی سے ہوئی ؟ نہ بری کے جوڑے ۔۔۔۔!
نہ جہیز کا انتظام ۔۔۔بس گھر کی ضرورت کی چند چیزیں ، وہ بھی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زرہ بکتر فروخت کر کے ان پیسوں سے لاکر رکھ دی تھیں ۔ وہ چیزیں کیا تھیں ؟ آٹا پیسنے کی چکی ، پانی لانے کے لیے مشکیزہ ، برتن کے نام پر پیا لہ اور ایک مٹی کا بڑا برتن ! ۔۔۔ادھر سرور کائنات ﷺ نے ایک خادمہ کو بھیجا کہ فاطمہ کے گھر کا کمرہ درست کر دے ۔۔خادمہ نے کمرے میں جھاڑو لگائی اور کمرے کے اندر ایک جناب مٹی جمع کر کے چبوترا بنا دیا گیا۔ یہ ان کی نشست گاہ تھی ۔ایک لکڑی لاکر چبوترے کے ساتھ گاڑ دی کہ کپڑے ٹانگ دیں ۔بس یہ تھا حجلہ عروسی ۔۔یہ ساری تفصیل میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی ۔۔”
جمیل خاموشی سے سن رہا تھا۔وہ بولے جارہی تھیں ۔”لوہا گرم ہے اس پر چوٹ لگانے کا یہ ہی موقع ہے ! ”
انہوں نے سوچا ۔بے موقع کی جانے والی بات اثر نہیں کرتی ۔
” مگر آج کل ایسی شادیاں کہاں ہوسکتی ہیں ؟ ” اس نے دھیمی آوازمیں سوال کیا
” کیوں نہیں ہو سکتیں ؟ اتنی سادہ نہ سہی مگر ممکن حد تک تو سادگی اور کفایت سے کام لیا جا سکتا ہے ۔فضول خرچ کو سیسے بھی اللہ نے شیطان کا بھائی کہا ہے ۔”
” ممکن حد تک سادگی کا مطلب میں سمجھا نہیں ۔”
” وہ اس طرح کہ لڑکی والوں سے محبت اور اخلاص نیت سے کہہ دیا جائے کہ آپ بالکل زیر بار نہ ہوں ، جو بھی آسانی سے کر سکیں ہم خوش دلی سے قبول کریں گے اور ہم جو بھی تیاری کریں وہ آپ قبول کر لیں ۔ امید ہے کہ آپ اور ہم مل کر سادگی سے شادی کروانے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے ۔ان شاء اللہ بر کت اور رحمت ہمارے ساتھ ہو گی ۔”
“۔۔۔لڑکی کے والدین پر دولہا کی طرف سے زیادہ مہمانوں کی میزبانی کا بوجھ نہ ڈالا جائے ،پچیس، تیس افراد جائیں اور رخصتی کرا لائیں ۔۔اللہ اللہ خیر صلا! ہاں ولیمہ سنت رسول ہے ! بجٹ کی گنجائش کے مطابق دعوت دی جائے ، ایک یا دو ڈشیں رکھی جائیں ۔۔۔ٹھیک وقت پر احترام اور سلیقے سے کھا نا پیش ہونا چا ہیے۔”
” ۔۔۔کاش ! لوگ یہ طریقہ اپنا لیں ۔مقابلہ بازی اور دکھا وا نہ کریں ۔دلہن کو ہزاروں لاکھوں کا لباس پہنادیں ، سر پر سونے کا تاج اور کیفیت یہ ہو کہ بقول شاعر ؔ
سر پہ پہنے تاج ایرانی
دل کو ہے قرض کی پریشانی
ماحول پر چھائی ہوئی سنجیدگی کو کم کرنے کے لیے انہوں نے یہ شعر سنا یا تھا مگر لگتا تھا بات کچھ زیادہ اثر کر گئی ۔وہ یو ںہی خاموش بیٹھا تھا ۔
“۔۔سن رہے ہونا ں میری بات ؟ ”
” جی جی سن رہا ہوں ۔۔۔”
” یہ سب کچھ کرنے کے لیے ہمت بھی چاہیے اور جذبہ خیر خواہی بھی ۔۔لیکن کوئی تو آگے بڑ ھے ؟ کوئی تو اس شاہراہ پر قدم رکھے ۔پہلا قدم ہی راستہ متعین کرتا ہے ۔بارش کا پہلا قطرہ جب زمین پر گر تا ہے تو پھر جھڑی لگ جاتی ہے ! پہلے قطرے کے بغیر بارش نہیں ہوا کرتی !! کون کرے گا یہ سب ؟ کون ہوا کے مخالف چلے گا ؟ کون ؟ آخرکون ہو گاوہ خوش نصیب جو ایک مثال بنے گا اور صدقہ جاریہ کا مستحق ٹھہرے گا ۔۔۔! ”
دوسرے ہی لمحے مضبوط لہجے میں آواز آ ئی :
” امی جان ! میں بنوں گا بارش کا پہلا قطرہ ۔۔۔! “یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے جمیل نے سر جھکا لیا ۔
” جیو میرے لعل ! اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت عطا فر مائے! جزاک اللہ خیرا کثیرا ” مان کے لبوں سے تو دعا ہی نکلتی ہے جو بات مان لی جائے اس کے لیے تو خاص طور پر اور جو نہ مانے اس کے لیے بھی..
بس پھر غزالہ نے جو سوچا تھا کہ سادگی سے شادی کرنی ہے ، وہی کیا ۔مناسب جوڑا بنا یا ۔رنگ اور کام بہت نفیس تھا لیکن قیمت ایک حد کے اندر جو سوچی تھی ۔ پھرسب نے دیکھا ولیمے میں بریانی تھی ! اکثریت کا پسندیدہ کھانا اور ایک روٹی کی ڈش تھی ۔۔وہ بھی یہ سوچ کر کہ بہت سے لوگ چاول سے پرہیز کرتے ہیں اور بہت سے روٹی نہیں کھاتے !
نہ پہناؤنیاں تھیں نہ ہرایک کے چار چار جوڑے بنائے ۔ خاندان بھر حیران تھا ۔۔کچھ نے باتیں بنائیں اور کچھ منہ میں انگلی داب کر رہ گئے ۔ لیکن معاملات سکون اور اطمینان کے ساتھ طے ہوئےکہ فرمان رسولؐ ہے : وہ نکاح بہترین ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔۔۔لہذا نہ قرض کی مصیبت ، نہ اخراجات کا پہاڑ جیسا بوجھ! لوگوں کا کیا ہے ، وہ تو بھول جاتے ہیں ۔۔۔لاکھوں خرچ کرو تب بھی اور سادگی سے ہزاروں میں نمٹاؤ تو بھی ۔۔۔۔ہم نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنا جائز کر رکھا ہے ۔خود ساختہ رسم و رواج کی پابندیاں ایسے لاگو کی ہوئی ہیں جیسے قانون الٰہی کی پابندی ہونی چاہیے ۔ان پابندیوں پر عمل کرنے کے بعد بجائے سکون کے ذہنی ،جسمانی ، روحانی ہر طرح کی بے چینی اور دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہےمگر ہم سب کچھ سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ بے مقصد ، لایعنی فضول کام کیے جاتے ہیں کیوں کہ بڑے بوڑھے یہ کرتے چلے آئے ہیں! ”
لمبی چوڑی تقریروں ، تبصروں ، تجزیوں اور باتوں کے بجائےایک مثال بن جانا مطلوب وقت ہے !
کیا آپ ایسی مثال بنیں گے ؟

صبا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟