موسم سَرما میں جلد کی حفاظت 324

موسم سَرما میں جلد کی حفاظت

اکتوبر کا آخری ہفتہ شروع ہو چکا ہے اور پاکستان کے بہت سے علاقوں میں سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے اور بڑے بزرگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں آج ہم آپ کو موسم سَرما میں جلد کی حفاظت کے کچھ دیسی ٹوٹکے بتائیں گیں جو امید ہے آپ کو اس سردی کے موسم میں اچھی طرح سے انجوائے کا موقع دیں گیں.

سرد موسم بعض لوگوں كے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے ، خشک سرد اور تیز ہوائیں ، برفباری کی وجہ سے جلد کا خشک ہونا وغیرہ اِس موسم کی تکلیف دہ باتیں ہیں . کاحس طور پر ہونٹ اور یری واگھیرا اِس موسم میں بری طرح متاثر ہو جاتی ہے اور اگر آپ کسی بیماری میں مبتلا ہوں تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے . موسم سَرما میں جلد کی حفاظت كے لیے ان باتوں کا خیال رکھیں :

موسم سَرما میں جلد کی خشکی اور خارش سے محفوظ رہنے كے لیے ضروری ہے کہہ بہت زیادہ گرم پانی سے غسل نا کیا جائے . جوانوں ، خواتیں اور بچوں سب کو نیم گرم پانی سے غسل کرنا چاہیے . غسل سے پہلے کسی اچھے آئل کا مساج کرنا جلد كے لیے اچھا ہے اور غسل كے بعد جسم خشک کرنے كے بعد کسی اچھے موسچرائزر کا استعمال جلد کو ترو تازَہ کر دیتا ہے . موسم سَرما میں اولڈ ایج كے لوگوں کو چاہیے کہہ ایک دو دن چھوڑ کر غسل کریں اور غسل كے بعد کوئی اچھا موئسچر جلد پر لگا لیں .

خارش كے علاوہ خشکی سرد موسم میں بے حد پریشان کرتی ہے . خاص طور پر سَر کے بالوں سے نکل کر آنكھوں کی آئیبرو اور ایئرز كے اندر تک پھییل جاتی ہے اور ان میں ہونے والی خارش مریض کو بے چین کر دیتی ہے . ان مریضوں میں ہونے والی خشکی کو صرف اینٹی ڈینڈرف سے دور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اِس کا مکمل علاج کرنا نہایت ضروری ہے جو کسی ماہر امراض جلد سے کرانا چاہیے .

جن خواتین کی جلد خشک ہو تو انہیں تیز خوشبو والے صابن سے چہرہ بار بار نہیں دھونا چاہیے بلکہ اِس كے لیے موسچرائزر سے صابن یا فیس واش کا استعمال زیادہ سود مند ہے اسی طرح چکنی جلد كے لیے کولڈ کریم کا استعمال مناسب نہیں . ایسی جلد میں قدرتی ذریعہ سے موئسچر پوہنچایا جا سکتا ہے . جیسے کوکونٹ آئل کا مساج چکنی جلد كے لیے نہایت عمدہ ہے . رات سوتے وقت اچھی کولڈ کریم لگانا اور دن میں کسی اچھے لوشن کا استعمال جلد کو تازہ اور خشکی سے پاک رکھتا ہے . اسی طرح اچھے موسچرائزر کا استعمال بڑوں سے لے کر چھوٹے یعنی نوزایداہ بچوں تک پر کیا جاسکتا ہے .

جو لوگ نماز پابندی سے پڑھتے ہیں . اگر وہ ہر وضو كے بعد چہرے اور ہاتھ پاؤں پر کوئی اچھا سا موئسچر جتنا مرضی لگانا چاہیں لگا سکتے ہیں ، اِس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا .

سردیوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہہ اونی کپڑوں کا استعمال جسم میں خارش پیدا کر دیتا ہے . ایسا ان لوگوں كے ساتھ زیادہ ہوتا ہے ، جن کی جلد نازک اور حساس ہوتی ہے تو ایسے افراد اونی کپڑے پہننے سے پہلے کاٹن كے کپڑے مثلاً کاٹن کی ٹی شرٹ اور پاجامہ پہن لیں اور اِس كے بعد اوپر سے وولی کپڑوں کا استعمال کریں ، اِس طریقے سے خارش اور جلد کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے .

سردیوں میں خشک ہوائیں انسانی جلد پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے . سرد اور خشک ہواؤں كے ساتھ ہی ہاتھ پیروں اور چہرے کی جلد پھٹنا شروع ہو جاتی اور ان پر موجود نمی غاءیب ہو جاتی ہے . جس کی وجہ سے کھردرا پن نمایاں ہوتا ہے .

سرد موسم میں جلد کو ترو تازہ رکھنے كے لیے ضروری ہے کہہ صاف پانی کا استعمال بڑھا دیا جائے . سردیوں میں ملنے والے پھل جیسے کہ سنگترے، گاجر ، مولی اور دیگر موسمی پھل اور سبزیوں کا استعمال جسم میں پانی کی کمی کو پُورا کر دیتا ہے ، جس کی وجہ سے جلد میں نمی موجود رہتی ہے .

موسم سَرما میں جلد کو خشکی کا سامنا ہوتا ہے . خشک موسم اور سردی کی وجہ سے چہرہ بے رونق سا دکھائی دیتا ہے . اگر موسم سَرما میں روزانہ ایک گلاس دودھ میں دو سے تِین چمچ خالص شہد ملا کر پی لیں تو ایک تو چہرہ کی رونق برقرار رہتی ہے اور دوسرا خشک موسم چہراح کی جلد وغیرہ کو متاثر نہیں کرتا اور چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہو تا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.