امرا ض قلب سے چھٹکا رہ حاصل کریں 260

امرا ض قلب سے چھٹکا رہ حاصل کریں

آجکل اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری تھی وہ جوانوں‌کو بھی ہو رہی ہے جی ہاں‌ہم دل کی بیماریوں کا ذکر کررہے ہیں، ہم آج آپ لوگوں سے چند ایسی باتیں شئیر کریں گیں جن کی مدد سے آپ امرا ض قلب سے چھٹکا رہ حاصل کریں گیں.

دل کے امراض اج کل %50 تک بڑھ چکے ہیں، عورتوں کی نسبت مرد امراض قلب میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔آپ نے کبہی سوچا اسکی بڑھتی وجوہات کیا ہیں۔ اسکی ایک وجہ وراثتی کروموسومز بھی ہیں۔دوسری یہ کہ ابلی سبزیوں کا کم اورتلی غزاؤں کا زیادہ استعمال ،وزن کا بڑھنا اور کولیسٹرول اسکی بڑھتی وجوہات ہیں۔ اسکے علاوہ ہم نے مصنوعی زندگی کو فوقیت اور فطرت سے دوری ہے۔ غزا کی غزایت کے برعکس اسکی لزت کو اہمیت دی جاتی ہے۔اسکا علاج بہی بہیترین غزا ہی ہے۔

احتیاط اور علاج:-

دل کے مریض کو گہی کی بجا ے کوکنگ ایل کا استعمال کرنا چاہیے۔

دل کے مریض کونہار منہ سیب اور دودھ کا استعمال کرنا چاہیے۔

برگ گاو زبان 5 تولہ اور طبا شیر ایک تولہ پیس کر سفوف بنا لیں۔ یہ دل کو مضبوط کرتا ہے اور دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

روزانہ کی خوراک میں خشک میوہ جات کا استعمال کریں دل کی بیمارریوں کے لئے خشک میوہ جات کا استعمال کریں اس سے دل کے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں آپ اور اس سے اپکا کسٹرول بی کنٹرول رہتا ہے ۔
امریکا کے ماہرین نے تحقیق کی ہے کے خشک میوہ جات میں وٹامن دل کے امراض کے لئے بہت مفید ہے ۔

گرمی کی وجہ سے دل گھبراے تو املوں کا مربہ یا آملوں کا رس استعمال کریں اس سے دل کو راحت اور سکون ملے گا۔

دل کے مریض سنگترے اور سیب کا استعمال کریں

دل کی بند شریانیں کھولنے کے لیے لیموں کا رس ایک پیالی، ادرک کا رس ایک پیالی، لہسن کا رس ایک پیالی، اور سیب کا سرکہ ایک کپ ۔۔۔ان کو دھیمی انچ پر پکاءیں ۔جب پک کر 3 کپ رہ جاے تو ٹھنڈا ہونے پر 3 پیالی شہد ملا ئیں اور صبح روزانہ 3 چمچ استعمال کرئں ۔بند شریانیں کھل جائیں گی۔

آیک کپ پانی ابالنے کے لیے رکھیں اس میں ایک چمچ انار دانہ ڈال دیں۔ جب ادھا کپ رہ جاے تو پی لیں یہ دل اور میدہ دونوں کے لیے فایدہ مند ہے۔

آس کے علاوہ روحانی علا ج کے لیےسورت رعد کی ایت نمبر 28 کو 41 دفعہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پیں۔ انشااللہ دل کی تکلیف دور ہو جاے گی۔

زندگی اللہ تعا لی کا انمول تحفہ ہے۔ اسکی حفا ظت کریں ۔اپ صحت مندانہ عادات کو اپنایں۔ صرف مزیدا ر کھانوں کا استعمال نہ کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.