رنگ گورا کرنے کا گھریلو ٹوٹکا 131

رنگ گورا کرنے کا گھریلو ٹوٹکا

رنگت کی سیاہی پیدائیشی ہو یا دھوپ کی وجہ سے باتیں یکساں سننے کو ملتی ہیں، آج ہم آپ کے ساتھ رنگ گورا کرنے کا گھریلو ٹوٹکا اور اس کے ساتھ چہرے کی رنگت گورا نہ ہونے کی اصل وجوہات کو شئیر کریں گیں امید ہے کہ آپ کی بہت ساری باتیں یا سوالات جن کا جواب آپ کو آج تک نہیں ملا وہ مل جائے گا.

رنگت سیاہ کیوں ہوتی ہے ؟

طویل میڈیکل ریسرچ سے یہ بات واضع ہوئی ہے کے جلد کی گہرائی میں واقع خلیات “میلانن (Melanin)” اک مادہ تیار کرتے ہیں . میلانن (Melanin) دراصل قدرت کی طرف سے اک حفاظتی تدبیر ہے . یہ مدعا جلد کو سورج کی تپش شعاعون سے تحفظ فراہم کرتا ہے . جب بھی سورج کی شعائیں جلد پر پڑتی ہے تو میلانن (Melanin) کی تیاری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ تیار ہونے كے بعد جلد کی گہرائی سے نکل کر اوپری سطح پر آجاتا ہے . کیوں کے میلانن (Melanin) میڈ کی رنگت سیاہ ہوتی ہے لہذا جلد کی رنگت بھی سیاہ پر جاتی ہے جہاں گوری جلد میں میلانن (Melanin) کی نیچے سے اوپر منتقلی رک جاتی ہے چنانچہ وہاں جلد سیاہ نہیں ہوتی .
بعض حساس قسم کی جلدوں میں یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے چنانچہ اگر ایسے افراد شدید دھوپ میں مستقل رہیں تو ان کی جلد بھی تیزی سے کالی پڑنے لگتی ہے . کچھ افراد کی جلد میں میلانن (Melanin) نیچے سے اوپری سطح تک آنے میں بتدریج تباہ ہو جاتا ہے اِس طرح یہ نقصان ہوتا ہے کے سورج کی شعاعوں كے مضر اسارات رونماں ہونے لگتے ہیں اور مختلف جلدی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے . بعض اوقات جلد كے اندر میلانن (Melanin) کی تیاری اور اس کی اوپری سطح پر منتقل کی راہ میں پیتھالوجیکل مسائل بھی حائل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جلد پر سیاہ دھبے پر جاتے ہیں کیوں کے سورج کی روشنی میں میلانن (Melanin) زیادہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن جب جلد کی بیرونی سطح پر جانے میں اسے رکاوٹ ہوتی ہے تو یہ جلد پر دھبوں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور اگر اِس كے باوجود احتیاط نا کی جائے اور شدید دھوپ میں رہا جائے تو یہ دھبے اور بھی گہرے اور پکے ہو جاتے ہیں .

مذکورہ سطور میں سیاہ رنگت کی وجہ میں میلانن (Melanin) کا کردار سامنے آتا ہے جو جلد کی حفاظت كے لیے ضروری تو ہے مگر اِس کی زیادتی سیاہ رنگت کا سبب بن جاتی ہے . سیاہ رنگت كے تَدارُک میں سب سے زیادہ اہمیت اِس بات کو حاصل ہے کے مختلف طریقوں سے میلانن (Melanin) کی تیاری میں کمی کر دی جائے .

بہرحال سیاہ رنگت چاہے پیدائشی ہو یا وقت کی وجہ سے دونوں میں یکساں احتیاط اور علاج كے طریقےاستعمال کیے جاتے ہیں . اِس میں سب سے اہم تو یہ ہے کے سورج کی تپش شعاعون میں ممکن حد تک خود کو محفوظ رکھیں اور اگر سورج کی روشنی میں نکلنا ضروری ہے تو سورج کی کرنوں کو روکنے والی حفاظتی اشیاء “سن بلاک کریم” لگا کر باہر جائیں .

اگر آپ رنگ گورا کرنے كے لیے رات کو سونے سے پہلے لیمن ، عرقِ گلاب کیلیسرین کو مکس کر كے چہرے پر لگائیں تو اِس سے آپ کو نا صرف فائدہ ہو گا بلکہ چہرہ کس بھی قسم كے مضر اثرات سے محفوظ رہے گا .

رنگ صاف کرنے كے لیے ہدایت

سورج کی تیز شعاعوں سے ممکن حد تک خود کو محفوظ رکھیں .
روزانہ غسل کی عادت اپنائیں . غسل كے دوران کسی موٹے کپڑے سے جلد کو خوب اچھی طرح ملین تا كے مردہ خلیات دور ہو جائیں . غسل كے بعد اک چمچ شہد کھا کر ٹھنڈے پانی کا اک گلاس پیین . اِس كے بعد کسی سوتی کپڑے میں برف کا ٹُکْڑا رکھ کر چہرے پر بہت آہستگی سے مساج کریں .
رات کو سونے سے پہلے شہد یا گھیا کا گودا چہرے پر اور ہاتھ پیروں کی جلد پر لگائیں اور صبح دھو لیں .
خوراک میں وٹامن سی سے بھرپور چیزیں زیادہ استعمال کریں .
روزانہ 10 سے 12 گلاس پانی ضرور پیئں . پانی پیتے وقت یہ خیال ضرور رکھیں کے اِس كے فوراً بعد غذا نا کھائی جائے اور کسی بھی قسم کی غذا كے فوراً بعد بھی پانی استعمال نا کریں .

رنگ گورا کرنے کا گھریلو ٹوٹکا

تازہ دودھ سے چند روز چہرہ دھونے سے رنگت نکھر آتی ہے .
روزانہ ناشتہ میں اک گلاس گاجر کا جوس پی لیں چہرہ نکھر جائے گا .
پودینے کی پٹیاں لے کر انہیں ابال لیں اور اِس کا پانی نہار منہ پینے سے رنگ گورا ہو جاتا ہے .
سرسوں کی کھال میں سنگترے اور لیمن كے چکی ملا کر اُبْٹَن بنا لیں . روزانہ چہرے پر لگائیں سانولہ پن دور ہو جائے گا . بادام ہلدی اور چاول پیس کر ان میں تھوڑا سا دودھ شامل کر لیں پِھر چہرے پر لگائیں . چند دنوں میں واضع فرق محسوس ہو گا .
اک مرغی کا انڈا ، دودھ اک تولا اور تھوڑا سا خالص شہد لیں اور اِس کا امیزا تیار کر كے چہرے پر صبح شام ملیں اور آدھے گھنٹے كے بعد چہرے کو دھو ڈالیں . صرف 15 دن میں آپ کا چہرہ گورا ہو جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟