داستانِ لازوال محبت 513

داستانِ لازوال محبت

میرا منگیتر اکثر چھٹی والے دن اجا تا تھا۔ پھو پھو کا جو بیٹا تھا ۔ہم گھنٹوں باتیں کرتے اور وقت کب گزر جاتا اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ میرےلیے خود چاءے بناتا ۔چاءےکاہرگرم گھونٹ مجھے اس کی محبت کا احساس دلاتا۔ محبت کا جزبہ کب شدت اختیار کر گیا مجھے اندازہ ہی نہ ہوا۔ گھنٹوں فون پر لمبی باتیں ہوتی ۔لیکن پھر بھی بات کرنے کی خواہش ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی۔بی اے مکمل ہوتے ہی ہماری شادی ہونے والی تھی۔ لیکن محبت ہر ایک کو راس نہیں اتی۔ کالج سے واپسی پر ایک کار مجھ سے ٹکراءی۔ آدمی اتر کے میرے پاس ایا تو میں نے بہت تلخ کلامی کی اس سے ۔وہ کچھ نہی بولا ۔صرف ایک جملا اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔تم میرے دل میں اتر گی۔ میں وھاں سے غصے مے گھر اگی۔ اور یے بات اپنے منگیتر کو بی بتای۔ اسنے کہا چھوڑو ٹینشن مت لو۔پھر ھم اپنی باتوں میں مگن ہوگے۔ اگلے دن وہ پھر کالج کے با ہر کھڑا تھا۔ میں نظر انداز کر کے چلی گءی۔میں اسے نظر انداز کرتی رہی لیکن وہ مسلسل میرے پیچھےاتارہا آور محبت کا اظہار کرتا.میں نے اسے بتایا بھی کہ میری منگنی ہو چکی ہے.لیکن اس پر میری بات کچھ اثرنہ ھوا .مجھے ذہنی کوفت ہوتی اسے دیکھ کر. میں نے گھر ذکر کیاتو گھر والوں نے مجھے کالج جانے سے منع کر دیا.وہ ہمارے گھر تک بھی پہنچ گیا .اور میرے گھر والوں کو دھمکی دی ک اگر اس کی شادی کہیں اور کی تومیں اس لڑکے کی جان لے لوں گا.جب میرے منگیتر کو یہ بات پتہ چلی تو اس نے کہا ہم اسی ہفتے شادی کریں گے.میں دیکھ لوں گا اسکو.پھرہم شادی کی تیاریو ں میں مصروف ہو گیے لیکن میرے دل میں ڈر بھی تھاکے وہ سر پھرا کچھ کر ہی نہ دے……اور پھر میرا شک درست ثابت ہوا اس نے میر ے منگیتر کو اغوا کر وا دیا اور دھمکی دی کہ اگر تمنے مجھ سے شادی نہ کی تو تمہارے منگیتر کو جان سے مار دوں گا. آپنی محبت کو بچانے کی خاطرمیں نے فیصلہ کیا اور شادی کی ہامی بھرلی.پھر اس سر پھیرےسے میری شادی ہو گءی…..اس نے میرے کزن کو چھوڑ دیا.میری پھو پھو نے میرےکزن کو انگلینڈ بھیج دیاکہ وہ طیش میں آکر کہیں کچھ غلط قدم نا اٹھا لے….شادی تومیں نے کر لی اس سے لیکن میں اس کو دل میں جگہ نہ دے سکی.مجھے اس کی ہر بات بری لگتی.وہ بے پناہ محبت کرتا مجھ سے لیکن میرے دل میں تو کوءی اور ہی بسا تھا.وہ میری ہر بات کا خیال رکھتا .اکثر میرے لیے خود کھانا بناتا.مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھا نا کھلانے کی کوشش کرتا تو میں اسے جھڑک دیتی کہ تم جو مرضی کر لو میں تم سے محبت نہیں کروں گی.لیکن وہ ہمیشہ مجھ سے محبت سے پیش اتا .اس کی بے پناہ محبت کبھی کبھی میرے دل کو موم کر دیتی.لیکن میں کبھی اظہار نہ کرتی.ایک دن مجھے پتہ چلا کے اسے بلڈ کینسر ہے .اور اس کی پاس بہت کم وقت ہے.میرے تو پاوں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گءی.میرےدل میں جو محبت تھی اسکے لیے وہ مزید شدت اختیار کر گءی.لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی.میں ہر وقت اب اس کاخیال رکھتی .رات بھر اس کے پاس بیٹھی رہتی.اور ایک رات اس نے میرے ہاتھوں میں دم توڑ دیا.پر میری روح کا اسسے ایسا رشتہ جڑ چکاتھا.کہ اس کے علاوہ میں نے کبھی کسی کا سوچا نہی.میرا کزن بہی میںرے پاس واپس ایاکہ مجھ سے شادی کر لو.لیکن میری تو روح کا رشتہ جوڑ چکاتھا میرے شوہرسے.میں کسی اور کو اب اپنی زندگی میں جگہ نہیں سکتی تھی.مجھے تب نکاح کے لفظوں کے اثر کا اندازہ ہوا کہ جب ایک روح دوسری روح سے مل جاءے تو ہر چیز کی طلب ختم ہو جاتی ہے.پھراس کی یادیں ہی زندگی کو روشن اور پر نور رکھتی ہیں…میں اج بہی اپنے شوہر سے بے پنا ہ محبت کرتی ہوں. اور میں اج بہی اپنے شوہر کی یادوں کے ساتھ اسی گہر میں رہتی ہوں.کیونکہ جب نکاح ہو جاءے تو عورت بلکل بدل جاتی ہے.اور وہ بس اپنے شوہرکی ہی ہو جاتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.