میری بہن کو گُڑیا بہت پسند ہے 19

میری بہن کو گُڑیا بہت پسند ہے

یہ ایک سچی کہانی ہے – ریڈمسٹ ایک چھوٹا بچہ جو کہ عمر میں 6 یا 7 سال کا ہو گا ، ایک دوکان كے سامنے کھڑا تھا . اس نے دوکان دَار سے کچھ کہا اور دوکان دَار نے اسے منع کر دیا .
پھر وہ لڑکا دوکان سے تھوڑی دور کھڑا ہوکے کبھی اپنی پاکٹ میں ہاتھ مارتا اور کبھی دوکان میں رکھی ایک گُڑیا ( ڈول ) کو دیکھتا . یہ سلسلہ قریب 15 منٹ چلا . دور کھڑا ایک آدمی بہت دیر سے اس بچے کو دیکھ رہا تھا . اس نے سوچا کیا ماجرا ہے زرا پتہ لگاؤں جیسے ہی آدمی آگے بڑھا ، لڑکا دوکاندار كے پاس جا كے بولا میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں . ان پیسوں سے یہ گُڑیا خریدی نہیں جا سکتی کیا ؟
دوکاندار بولا نہیں . پھر وہ لڑکا دُکھی ہوکے پیچھے مڑا اور اس آدمی سے پوچھا انکل سچ میں اتنے پیسوں سے گُڑیا نہیں ملے گی ؟
واقعتاَ پیسے بہت کم تھے . سو اس آدمی نے کہا نہیں بیٹا تمہارے پاس پیسے نہیں ہے . لڑکا دُکھی ہوکے آگے بڑھنے لگا .
پھر اس ادمی نے پوچھا تمہیں وہی گُڑیا کیوں چاہیے بیٹا ؟ لڑکا بولا : میری بہن کو گُڑیا بہت پسند ہے . یہ گُڑیا میں میری بہن کو جنم دن پرگفٹ دینا چاہتا ہوں.
میں یہ گُڑیا میری ماں کو دونگا تایکہ وہ جب میری بہن كے پس جائے تو وہ اسے دے دے گی . آدمی نے پوچھا : تمہاری بہن کہاں رہتی ہے ؟ لڑکا : میری بہن بھگوان كے پاس رہتی ہے . اور پاپا کہتے ہے بہت جلد میری ماں بھی بھگوان كے پاس چلی جائے گی . اس آدمی كی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن بچہ بولتے ہی جا رہاتھا .
میں پاپا سے کہونگا ماں اور کچھ دن لیٹ کر كے جائے تایکہ میں اور پیسے جمع کر سکو . اور گُڑیا خرید سکو . اس آدمی کا دِل بھر گیا اور اس نے اپنی پاکٹ سے 100 روپے کا ایک نوٹ نکال كے اس بچے کو کہا دکھاؤ بیٹا ذرا پھر سے تمھارے پیسے گنیے جائیں شاید ان پیسوں سے وہ گڑیا آجائے .
آدمی نے پیسے گننے کا بہانہ کیا اور کہا تمھارے پاس تو بہت پیسے ہیں . گُڑیا آجائیگی . پھر اس نے دوکان دَار کو 100 روپے دے کے اس بچے كے لیے وہ گُڑیا خرید دی . بچہ تھینکس بولا اور کہا میری ماں کو سفیدگلاب بھی بہت پسند ہے . اور وہ اپنی پاکٹ سے ایک فوٹو نکالا اور کہا یہ میرا فوٹو ہے . سچ مچ بچہ فوٹو میں بہت سُندر لگ رہاتھا .
بچہ بولا میں یہ فوٹو اپنی ماں کو دونگا تایکہ وہ میری بہن کو دے دے گی . اور میری بہن یہ فوٹو دیکھ كے مجھے ہمیشہ یاد کریگی . آدمی كے آنکھوں میں آنسو آگئے مگر وہ اپنے آپکو سنبھالتے ہوئے اس بچے کو خدا حافظ کہ کر چل دیا اور کہا بیٹا اپنا خیال رکھنا . پھر آدمی اپنے گھر چلا گیا . لیکن اس آدمی کو رات بھر نیند نہیں آئی . پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا 5 دن پہلے نیوز پیپر میں خبر چھپی تھی کہ ایک دارو كے نشے میں دھت لڑکے نے کار چلاتے ہوئے ایک اسکوٹر والے کو ٹکر مار دی تھی . جہاں موقع پر ہی اسکوٹر والے کی چھوٹی لڑکی کی موت ہو گئی تھی جبکہ اس کی بیوی کو گہری چوٹیں آئی تھیں .
اس نے سوچا کہیں یہ اس بچے کی ماں بہن تو نہیں ؟ یہ سوچتے ہوئے صبح ہو گئی اور اس نے نیوز پیپر میں پڑھا کیہ ایکسیڈنٹ میں اس عورت کی بھی ڈیتھ ہو گئی ہے . آدمی سچ جاننے کیلئے اس اڈریس پہ گیا تو دیکھا سچ مچ اس بچے کی ماں مر گئی تھی . اور اسکی لاش گھر كے باہر رکھی ہوئی تھی . لاش كے سینے پہ وہی گُڑیا تھی . ایک ہاتھ میں گلاب کا پھول اور دوسرے ہاتھ میں بچے کی فوٹو تھی . اور در کونے میں لڑکا اپنی ایک رشتے دار كے بانہوں میں تھا . یہ منظر دیکھ كے آدمی كی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب پھوٹ پڑا . وہ اپنے آپکو روک نہیں پایا اور کھڑے کھڑے رونے لگا . یہ کہانی لکھتے وقت میری آنکھوں میں بھی آنسو ہیں . اگر آپکی آنکھیں بھی یہ پڑھ کے گیلی ہوئی ہوں تو آج سپےعہد کرو کی کبھی دارو پی كے گاڑی نہیں چلاؤ گے اور کبھی فون میں بات کرتے ہوئے موٹر سائیکل
نہیں چلاؤ گے .
دوسروں کی یا اپنی ہو زندگی انمول ہے دوستو . اسکو نشہ یا کیئر لیس ہو کر کبھی مت کھونا . اچھا لگا تو ایک لائک اینڈ شیئر ضرور کرنا
دانش کی تحریر”میری بہن کو گُڑیا بہت پسند ہے” ہندوستان سے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟