غریبوں کا ناول پیر کامل 468

غریبوں کا ناول پیر کامل

غریبوں کا ناول پیر کامل
سخت گرمی کا موسم تھا ۔ زمین تو جیسے آگ اگل رہی تھی۔ ایسے میں کسرتی بدن والا ایک نوجوان دھوتی اور بنیان پہنے کدال سے دھرتی کا سینہ چیر رہا تھا۔۔یہ سالار رشید تھا۔۔پاکستان کے ایک دور دراز گاوں کا ایک معمولی سا کسان۔سالار کدال سے ایک ضرب مٹی پر لگاتا۔مٹی اچھل کر اس کے پاوں کے پاس گرتی۔۔وہ ہر ضرب کے بعد کھیت کے بائیں جانب والی پگڈنڈی کی جانب دیکھتا ۔جہاں سے اس کی نئی نویلی دلہن امامہ نسرین نے اس کے لیے دوپہر کا کھانا لے کر آنا تھا۔کدال کے ساتھ ایک زور دار ضرب لگائے اور مٹی اچھل کر پاوں میں گری اور تھوڑی سی آنکھوں میں چلی گئی۔۔سالار نے سر پر باندھے ہوئے صافے سے آنکھیں پونچھیں اور پسینہ صاف کر کے پگڈنڈگی کی جانب دیکھا۔۔دور سے امامہ سر پر ہاٹ پاٹ اٹھائے اور بغل میں چھوٹی سی چاٹی دبائے سرخ جوڑا پہنے، ہلکا سا گھونگٹ نکالے لہک لہک کر چلتی آ رہی تھی۔۔اس کی چال کا بانکپن بتانے کو کافی تھا کہ وہ چل نہیں رہی جیسے ہواوں میں اڑ رہی ہو۔۔موسمی کی سختی کا اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں۔۔اپنا انتظار ختم ہوتا دیکھ سالار نے بھی کدال زمین پر رکھی اور بائیں جانب جہاں پگڈنڈی ختم ہو رہی تھی وہاں ایک گھنے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر امامہ کا انتظار کرنے لگا۔۔امامہ نے بھی جب اپنے شوہر کو اپنا منتظر پایا تو تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔۔۔جب امامہ اس درخت کے پاس پہنچی اور سالار کو اپنی جانب محبت سے دیکھتا پایا تو آسمان کی لالی مانند ایک سرخی اس کی گالوں پر پھیلنے لگی۔۔
“السلام علیکم۔۔” امامہ نسرین نے زمین پر بیٹھتے ہوئے اور سامان رکھتے ہوئے شرمیلے لہجے میں کہا
“وعلیکم السلام۔۔” سالار کو اس کی گالوں کی سرخی بہت بھا رہی تھی۔۔دھوپ کی تمازت نے اس کے سرخ و سفید گال پر لالیاں بھر دی تھیں اور اوپر سے سالار کا یوں مسلسل دیکھنا اسے مزید سرخ کیے جا رہا تھا۔۔
امامہ نے اپنے ڈوپٹے سے سالار کے ماتھے اور گالوں سے پسینہ صاف کیا۔۔امامہ نسرین کا اتنے قریب پا کر سالار جھوم اٹھا۔۔اس سے پہلے سالار کوئی شرارت کرتا امامہ فورا پیچھے ہو گئی اور ہاٹ پاٹ سے روٹی اور سالن نکال کر سالار کے سامنے دکھ دیا۔۔یہ آلو شوربے والی مرغی تھی،صبح ہی گاوں کی مسجد کے مولوی فضل دین سے مرغے پر تکبیر پھروا کر آج امامہ نے خصوصی کھانا بنایا تھا۔۔ساتھ ایک پلیٹ سلاد تھا۔جس میں کھیرے پیاز ،دھنیہ اور ٹماٹر مکس تھے۔ان پر کالی مرچ لیموں چھڑکا ہوا تھا۔۔سلاد اور سالن کے ساتھ ہی امامہ نے چاٹی کی لسی سے پیتل کا گلاس بھر کر سالار کے سامنے رکھ دیا۔۔
سالار لقمے چبانے اور امامہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔۔
“ابا جی اور اماں کو کھانا دے دیا۔” سالار نے آدھی روٹی کا ایک لقمہ بنا کر چباتے ہوئے پوچھا
” جی! پہلے انھیں ہی دیا تھا پھر آپ کے لیے لائی۔۔” امامہ آہستگی سے گویا ہوئی
“شکریہ امامہ۔۔” سالار نے پورے خلوص سے امامہ کا ہاتھ تھام کر کہا
” شکریہ کس بات کا۔۔” امامہ نے استفسار کیا
” تم نے میرے اماں ابا کو اپنے والدین سمجھ کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی ہے۔۔” سالار کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے
“والدین میں تیرے میرے نہیں ہوتے سرتاج۔۔والدین تو والدین ہوتے ہیں۔۔محبت اور خدمت کے قابل۔۔” گاوں کی اس ان پڑھ لڑکی نے کتنی گہری بات کہہ دی تھی۔۔
سالار نے دل ہی دل میں اس قدر کفایت شعار اور فرمانبردار بیوی ملنے پر خدا کا شکر ادا کیا اور کھانا کھانے لگا۔۔
سالار کے شکم سیر ہونے کے بعد امامہ نسرین نے برتن اٹھائے اور دھیمے انداز میں سلام کر کے پگڈنڈی پر گھر کی جانب روانہ ہو گئی۔۔اور سالار اسی درخت کے سائے تلے بیٹھا اسے اس وقت تک تکتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو اس اسٹوری کے سالار اور امامہ کا مزہ نہیں آیا تو سمجھ لیں آپ لوگ اسٹیٹس سمبل کے مارے ہیں آپ کو امریکہ والا سالار ہی چاہیے۔۔غریبوں کو کون منہ لگاتا ہے۔😒😒😒

فقط آپ کا
غریبوں کا شیکسپیئر 😎😎😎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.