پگلی 304

پگلی از نمرہ براھ

پگلی

گرمیوں کی دوپہر کا وقت تھا موسم کے تیور بہت عجیب تھے سرخ گھٹن ذدہ بادل
گیٹ شاید پہلے سے کُھلا تھا باہر بچوں کے شور کی آوازیں مسلسل آرہی تھی
پگلی، پگلی ، پگلی
اتنے ایک بھاگتی ہوئی لڑکی گیٹ سے اندر کو داخل ہوئی
گلے میں رنگ برنگے چار دوپٹے تھے
سانس ہموار کرتے
مجھے سامنے کھڑی دیکھ کر پہلے تو کچھ گھبرا گئی
پھر کہنے لگی
“باجی اک چادر دے دے”
اتنے میں باہر بڑھیا بچوں کو چیخچیخ کر بھا گا چکی تھی
اور اندر کی طرف آئی
اور وہ لڑکی اُس بڑھیا سے کہنے لگی
“اماں ای باجی نوں کہ نہ مینوں چادر دے دے ”
وہ بڑھیا اس کی ماں تھی اس چہرے پر ایک سدیوں کا دُکھ رقم تھا ۔۔۔
اتنے میں نے اُس لڑکی کو پیسے نکال دینے کے آگے کیے تو ایسے بدک کر پیچھے ہوئی جیسے کرنٹ لگا ہو اور زور زور کانپتے ہوئے رونے لگی اور کہنے لگی
“اماں ایہے باجی مینوں چادر نہیں دیندی ”
میں نے اُسے مخاطب کر کے کہا چار دوپٹے تو لے رکھے ہیں پھر چادر مانگ رہی ہو۔۔
پر وہ اثر لئے بنا بضد تھی چادر چاہیے اُس کی اماں کہنے لگی بیٹا کوئی پرانی چادر ہے تو اِسے دے دو نہیں تو یہ ایسےنہیں جائے گی یہاں سے
میں اُس کی فرمائش پر حیران ہوتی چادر لے کر آ ہی رہی تھی اُس نے دیکھتے ہی جھپٹ لی اور سر پر لینے لگی چہرے پر ایسی خوشی تھی جیسے پوری فتح کر لی ہو
اور اس ماں کا آنسو گرے دوپٹے میں جذب ہونے لگے ۔
یہ منظر بہت عجیب تھا پتہ نہیں کب میرے لبوں سے پھسلا
آخر چادر ہی کیوں؟
اس کی اماں اپنے آنسو صاف کرتے ضبط سے کہنے لگی
“کہنے کو یہ پگلی ہے پر صرف ایک چیز مانگتی جس کی اسے شدید کمی عزت کی چادر”
پر اسکو کون سمجھائے
اس اماں کے لہجے میں کیا کچھ نہ تھا دُکھ اذیت بے بسی پتہ نہیں کتنے لمحے میں وہی گم صم کھڑی بارش میں بھیگتی رہی ہوش میں آنے پر صرف ایک بات دل میں آئی تھی
بیٹاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں کاش کسی لڑکی پر عزت کی چادر تنگ نہ ہو اور وہ پگلی نہ کہلائے

ہر اس لڑکی کے نام جس پر عزت چادر تنگ ہوئی ہ

پگلی از نمرہ براہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.