چوڑیاں از صلہ رحمی 274

چوڑیاں از صلہ رحمی

“چوڑیاں لوگی بی بی جی؟”
آمنہ نے پالک کاٹتےہوئے جانی پہچانی آواز پہ سر اٹھا کے دیکھا وہ 30 سال سے کچھ کم عمر والی عورت تھی جس کے سر پہ چوڑیوں کے ڈبے بڑی سی چادر میں پوٹلی کی صورت میں بندھے ہوئے تھے.
وہ گھر کے باہری دروازے سے اندر آچکی تھی
آمنہ نے اثبات میں سر ہلایا “ادھر سائے میں بیٹھ کے دکھائو”-
اس نے آنگن میں لگے نیم کے چھتنار درخت کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا جس کے سائے میں وہ خود بیٹھی دوپہر کی سبزی کے لیئے پالک کاٹ رہی تھی,
وہ اٹھی اور کٹی ہوئی پالک کی بڑی سی باسکٹ گھر کے اندر بنے ہوئے کچن میں رکھنے چلی گئی.
“بی بی جی ٹھنڈا پانی پلا دے” جاتے ہوئےاس نے پیچھے سے چوڑیوں والی کی آواز سنی,
اندر پہنچ کے اس نے دیوار گیر گھڑی پہ وقت دیکھا “صبح کے 9 بجے” اوائل جون کی صبح جب سورج ابھرتے ساتھ ہی سوا نیزے پہ محسوس ہوتا ہے.

پھر جب آمنہ واپس آئی تو اس کے ایک ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کی بوتل اور دوسرے ہاتھ میں اسٹیل کا گلاس تھا,
عورت کو وہ کہنی جتنا لمبا گلاس پانی سے بھر کے دیا اور خود اس کی کھلی ہوئی پوٹلی میں پڑے ڈبوں میں چوڑیاں دیکھنے لگی
کانچ کی نئی نکور چمکدار رنگ برنگی چوڑیاں….!

4- ہلکی گلابی
4-آڑو کے رنگ والی
4-سمندری سبز
4-سمندری نیلی
4-شہد رنگ

اس نے چوڑیاں اٹھائیں اور عورت سے دو ہاتھوں کے پہننے کی مقدار میں چوڑیاں اخبار میں لپیٹنے کو کہا, پھر پیسے ادا کیئے.
“اے بی بی جی وہ پاٹڑے (ٹھیکری سے بنے تھال کی شکل کے دو برتن) مجھے دو گی؟”عورت نے چوڑیاں تھماتے ہوئے سوال کیا-
آمنہ نے ان مٹی کے برتنوں کی طرف دیکھا جو اسی نیم کے پیڑ کے سائے میں پڑے تھے-
پھر عورت کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا
“نہیں وہ میرے کام کے ہیں.”
“.ہا… بی بی جی آنگن میں فالتو پڑے ہوئے لگ رہے ہیں کام کے تو نہیں لگ رہے”
عورت بحث کے موڈ میں تھی, پر شاید آمنہ نہیں سو وہ چپ چاپ واپس اندر جانے کو مڑی

“اچھا تمہاری مرضی بی بی جی” عورت کی مایوس کن آواز سنائی دی.
آمنہ نے گلاس اور پانی کی بوتل اٹھائی اور بڑا سا آنگن عبور کرنے آگے بڑھی
“چلتی ہوں اللہ واہی” آمنہ نے چلتے ہوئے اس عورت کی آواز سنی پھر اس کے جوتوں کی آواز اور پھر گیٹ کھلنے اور بند ہونے کی آواز
کچن میں آ کے اس نے بوتل واپس فریج میں رکھی اور گلاس, دھونے والے برتنوں میں……!
وہ پھر سے باہر آئی تو اس کے ایک ہاتھ میں شفاف پانی سے بھرا ہوا پلاسٹک کا ایک جگ
اور دوسرے ہاتھ میں ایک تھالی جیسا برتن تھا جس میں ایک طرف باجرے اور دوسری طرف جوار کے دانے رکھے ہوئے تھے, وہ چلتی ہوئی نیم کے سائے میں رکھے انھی مٹی کے برتنوں کے پاس آئی
اور پانی سے بھرا ہوا جگ اس نے بری والی پرات میں انڈیلا اور اسے بھر دیا
پھر اناج کے دانوں والا برتن ساتھ والی نسبتا چھوٹی والی مٹی کی پرات میں انڈیل کر وہ پلٹی تو پیچھے سے اس کی کام والی ماسی کھڑی تھی جو چوڑیوں والی کے آنے سے لے کر اب تک آمنہ کی طرف ہی دیکھ رہی تھی
“کیسی ہو ماسی” آمنہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا.
ماسی نے اس کی صندلی پیشانی کو خندہ اور کالی گھنی پلکوں سے سجی چمکتی آنکھوں کو بے ریا پایا , اسے بے اختیار آمنہ پہ پیار آیا..!
“بیٹی اس چوڑیوں والی نے مٹی سے بنی پرات ہی تو مانگی تھی تم نے اسے انکار کیوں کیا یہ کوئی خاص کام کے برتن تو ہیں نہیں” ماسی نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا, حالانکہ وہ وجہ جانتی تھی.
آمنہ ماسی کے جان بوجھ کر کیئے ہوئے سوال پہ دل ہی دل میں مسکرائی
پھر بولی تو لہجہ نرم تھا
“ماسی مجھے نہیں پتا اس عورت کو یہ برتن کیوں چاہیئے تھے, پر مجھے لگتا ہے اس عورت سے زیادہ ان برتنوں کی ضرورت ان پرندوں کو ہے جن کے لیے میں روز صبح کو پانی اور اناج انمیں ڈال کے رکھتی ہوں,
اس عورت کی ضرورت شاید کہیں اور سے پوری ہو جائے اسے تو اللہ تعالی نے زبان عطا کی ہے ہاتھ عطا فرمائے ہیں وہ تو محنت کرکے کچھ بھی حاصل کرسکتی ہے, میں نے انکار کیا تو کسی اور جگہ سے اس کی حاجت روائی کا وسیلہ ہوجائے گا,
پر یہ بے زبان پرندے, جو کسی سے مانگ بھی نہیں سکتے کسی کو اپنی بھوک اور پیاس بھی نہیں بتا سکتے ان کے لیے دانے پانی کا وسیلہ اگر اللہ تعالی نے مجھے بننے کی سعادت بخشی ہے تو میں ان بے زبانوں پہ کسی ایسے ذی روح کو فوقیت کیوں دوں جو اشرف المخلوقات بھی ہے اور محنت کرکے کمانے لائق بھی,
یہ پنچھی جب چلچلاتی دھوپ میں اس نیم کے درخت کے سائے میں سستانے اترتے ہوں گے تو ان کو یہاں پہ اپنی مہمان نوازی کتنی بھلی لگتی ہو گی نا ماسی.” آمنہ میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ درخت پہ بیٹھے پرندوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولتی جا رہی تھی.
“جب بھی میں ان چڑیوں کو یہاں اتر کر پانی پیتے اور دانا چگتے ہوئے دیکھتی ہوں تو میرا دل سکون سے بھر جاتا ہے , ان کی چوں چاں مجھے تشکر اور دعائیہ الفاظ لگتے ہیں , مجھے تپتی جلتی گرمی میں ان بے زبانوں کی میزبانی کرکے بہت اچھا لگتا ہے -”
آمنہ نے بات مکمل کی –
ماسی کے چہرے پہ ایسی طمانیت والی مسکراہٹ تھی جیسے کہہ رہی ہو “میں تو شروع سے ہی جانتی ہوں.”
پھر آمنہ اور ماسی اندر کی طرف چل دیں, کیونکہ انہیں پتا تھا کہ جب تک وہ یہاں کھڑی رہیں گی
تب تک آمنہ کے مہمان پرندے اپنی دعوت کھانے نیچے نہیں اتریں گے
ادھر وہ گھر کےاندر ہوئیں ادھر ایک دو تین کر کے پرندے نیچے نیم کے گھنے درخت کی ٹھنڈی چھائوں میں اترنے لگے
کسی نے شفاف پانی کے گھونٹ چونچ میں بھر کے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا
تو کسی نے اناج سے بھری پرات میں چونچ مار کے-

کچن کی کھڑکی سے آمنہ نے پرندوں پہ مسرت بھری نظر ڈالی اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی.

چوڑیاں از صلہ رحمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.