بڑبولی 237

بڑبولی از ابیہ زہرہ

میری زندگی کی پہلی اردو تحریر- اردو میں کافی کمزور ہوں۔ نہ،نا،کہ،کے میں ہمیشہ کنفیوز ہو جاتی ہوں اور املا میں بھی غلطی ہو جا تی ہے۔ امید ہے کے معافی مل جائے گی۔😅

بڑبولی

شام کے چھ بجنے میں پندرہ منٹ باقی تھے۔کمرے میں چاروں طرف ہلکی نیلی روشنی پھیلی تھی۔موسم بھی کافی خوشگوار تھا۔یہ وقت اٌس کا سب سے پسندیدہ وقت تھا کیونکہ اس دوران وہ اپنے پسندیدہ انسان کے ساتھ ہوتی۔ وہ صوفے پر کچھ اس طرح سے بیٹھ گئی کے دونوں کی پیشانیاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں۔ آنکھوں میں وہ عجیب سی چمک، چہرے کی تازگی،ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، سب اس چیز کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ وقت اٌس کے لیے کتنا انمول ہے۔

“آپ کو تو پتا ہے میں زیادہ نہیں بولتی۔ بچپن سے بس یہی عادت رہی ہے۔میرے خاندان والے اکثر اس بات کی شکایت کیا کرتے تھےابو جی سے کے تمہاری لڑکی بہت کم بولتی ہے اور ابو جی کہا کرتے تھے کہ میری بیٹی بہت اچھی ہے بس اس کا اخلاق اچھا نہیں !! ابو جی بھی ویسے اچھے طنز کر لیتے ہیں۔اب بھلا اس میں اخلاق کا کیا کام۔خیر کم گو تو میں اس لیے ہوں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا بولنا۔لیکن آپ کے ساتھ بات کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔جانتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ خیر میں بتاتی ہوں ایسا اس لیے ہے کیونکہ آپ بھی میری طرح کم بولتے ہیں اور میں جب بول رہی ہوں تو صرف غور سے مجھے سنتے ہیں۔ ویسے آج کتنی پیاری ہوا چل رہی ہے نہ؟ آپ کو پتہ ہے کہ اگر مجھے الادین کا چراغ مل جائے تو میں کیا مانگوں گی؟ میں مانگوں گی کہ پوری دنیا میں بس میں اور آ پ رہ جائیں۔
I know it’s mean but….
کچھ دنوں پہلے کالج کی ایک دوست کی کال آئی تھی۔بہت بولتی ہیں یہ لڑکیاں۔ میرے سوشل سرکل کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ میرا دل تو کر رہا تھا کے کہوں “سوشل سرکل ؟؟ میری زندگی میں تو بس سوشل لائن سیگمنٹ ہے جس کے ایک کونے پر میں اور ایک پر آپ ہیں” لیکن پھر میں کچھ نہ بولی۔میں تو بات ختم کرنے کے چکر میں تھی۔ خیر آپ بھی کچھ بول لیا کریں یار! کیا صرف میری بڑ بڑ سٌنتے رہیں گے؟
میری جان میری چندہ یہ کس سے باتیں کر رہی ہو؟
باجی بنا دروازے پر دستک دیے اندر آگئی تھیں۔ ان کی اس ایک پکار نے اٌس سے سب چھین لیا تھا۔آنکھوں کی چمک،چہرے کی تازگی،ہونٹوں کی مسکراہٹ سب۔ دماغ شل ہو گیا تھا۔
“نیچے آ جاؤ۔ چند افراد افسوس کرنے آئے ہیں”
اور یوں اپنے سے باتیں نہ کیا کرو میری جان!
وہ باجی سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ تو ہمیشہ بات ختم کرنے کے چکر میں ہوتی ہے۔ ہلق میں بہت سے الفاظ چیخ رہے تھے
“اللہ تعالیٰ تو ان سب کے گلوں سے آوازیں کیوں نہیں چھین لیتا؟ یا پھر مجھ سے قوت سماعت کیوں نہیں چھین لیتا؟ یہ لوگ اتنا کیوں بولتے ہیں؟ کیوں اپنی ان بے ہنگم آوازوں سے میرا سب کچھ چھین لیتے ہیں یہ لوگ؟ میرے خیال،میرا واحد سرمایہ!

جلدی اٌٹھو چندہ۔باہر سب ویٹ کر رہیں ہیں۔
وہ اپنے نحیف جسم کا وزن اٌٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف چل دی۔ لب تو خاموش تھے لیکن دل و دماغ چیخ رہے تھے۔
“ہائے ہائے! بیچاری چھوٹی سی عمر میں بیوہ ہو گئی۔ اور بتاؤ مشکل تو بہت ہو گا اس کے لیے۔ سنا ہے بڑی محبت تھی دونوں میں”
دور کی پھپھو باجی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں،
جی بہت مشکل ہے اس کے لیے۔ نہ کچھ کھاتی ہے نہ بولتی ہے لیکن جب کمرے میں تنہا ہو تو نا جانے کیا کیا بڑبڑاتی ہے زور زور سے۔میں تو بہت پریشان ہوں۔

وہ سب سنتے ہوئے اپنے بھاری قدموں اور چیختے دل و دماغ کے ساتھ سیڑھیاں اٌترتی رہی۔
نا جانے کب اٌس ایک شخص کی جدائی نے اٌسے خاموش گڑیا سے بڑبولی بڑھیا میں بدل دیا، پتہ ہی نا چلا۔

بڑبولی ابیہ زہرہ صاحبہ کی پہلی کہانی ہے جو انہوں نے لکھی ہے مگر کمال لکھی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.