لال بازار 259

لال بازار

وه ” لال بازار” کہلاتا تھا :

وہاں جسم بکتے تھے :

مجھے نہیں پتہ ” گندے بازاروں ” کو پاکستان میں ” ہیرا منڈی ” اور ” لال بازار” کیوں کہتے ہیں :

اور نہ یہ پتہ ہے کہ ” ہیرا منڈی ” اور ” لال بازار” آج بھی آباد ہیں :
اس لئے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے فاصلے کم نہیں ، ختم کردئے ہیں ۔ اب ” کال گرلز” کا دور دوره ہے : کون تکلیف کرے کہ
” لال بازار اور ہیرا منڈی ” کے چکر کاٹے :

لیکن غربت برائیوں کی ماں ہے ۔ جب تک غربت موجود ہے ہیرا منڈی اور لال بازار کیسے ختم ہوسکتے ہیں ؟؟

قارئین حیران ہونگے :

آج مُجھے کیا ہوگیا ہے؟؟

جو تذکره شر چھیڑ دیا ہے : لیکن دانا لوگ جانتے ہیں : ہیرا منڈی لال بازار اور ملنگوں کا پرانا یارانہ ہے :

یہ بازار گناه بیچتے ہیں گناه کی دعوت دیتے ہیں ۔ اور ” حلال رزق” کماتے ہیں ۔

اور احساس گناه کی وجہ سے ملنگوں کے کشکول میں سکے ڈالتے ہیں ۔
تاکہ دعاِ ملنگ کے مستحق بنیں ۔ اللہ تعالی کی رضا تو سب کو چاہئے ۔ خواه شیخ حرم ہو یا منڈی کا ہیرا :
مسلمان معاشرے میں ان بازاروں اور منڈیوں کا تصور کتنا بھیانک ہے ؟؟ اس بازار کا جنس کہاں سے آتا ہے ؟؟ کون ہے جو یہ نظام زنا چلاتا ہے ؟؟ پولیس کا تو ہر جرم اور گناه میں حصہ ہوتا ہے : اور کون ہے جو اس مالِ زنا سے حصہ اٹھاتا ہے : ” رنڈی ” کو کتنے پیسے چاہئے : کہ وه روز کئی بار ” ترازو گناه” پہ اپنی قیمت لگاتی ہے :

افسوس : صد افسوس:

کہ ان گناہوں کے پیچھے ہم جیسے سفید پوش ہی ہوتے ہیں ۔
کسی کو محبت کا جھانسا دے کر گھر سے فرار کا راستہ دکھایا : ہوس بجھتے ہی وفا کا ہار عورت کوپہنایا ۔ اور خود رفوچکر ؟؟؟

عورت کے لئے اس معاشرے میں نہ نکاح کے مواقع ہیں : نہ سیکس کی آزادی ہے : نہ غلطی پہ پچھتاوے کا موقع ہے : نہ توبہ کی گنجائش ہے : نہ معافی کا کلچر ہے : مرد آزاد ہے گناه میں ، جرم میں ، زنا میں ، غلطی میں ، پچھتاوے میں ، توبہ کیلئے ، اس لئے کہ مرد صبح کا بھولا ہوتا ہے وه گھر واپس آسکتا ہے :

عورت زندگی بھر کی گناہگار ہوتی ہے وه واپس نہیں آسکتی :
اس کا ٹھکانہ ” ہیرا منڈی اور لال بازار” ہے جہاں وه روز ہنس ہنس کے مرتی ہے جسم بیچ کے جیتی ہے ۔ اور ملنگوں کے کشکول میں سکے ڈال کے معافی کی امیدوار بنتی ہے :
اور ملنگ بھی دعا دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے : اللہ تیرا بھلا کرے بیٹا : اللہ تیرا بھلا کرے :

کون برا کون بھلا : یہ راز اللہ کو معلوم ہے :

ہیرا منڈی اور لال بازار کا جنس بھی جنت جاسکے گا ؟؟ ان بازاروں کو آباد کرنے والے بھی جنت جاسکیں گے ؟؟ اور کیا ملنگ بھی جنت کے امیدوار ہونگے ؟؟ جو سب کچھ دیکھ کے بھی کشکول میں سکے گنتے ہیں سکوں کو تپیش دے کر ظالمانہ نظام کو داغتے نہیں : کہ یہ نظام جبر و ظلم ہی تو ہے :

جو عدل کو کچل رہا ہے :
ورنہ راضی خوشی کون اپنا جسم بیچتا ہے : وه بھی سنگھار کرکے :
اور کتنے بے غیرت ہے جو ان مجبوریوں سے لطف اٹھاتے ہیں : ہوس بجھاتے ہیں ؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.