اندھے اور ٹی وی 149

اندھے اور ٹی وی

میں ایل جی کمپنی میں 2 سال سے آؤٹ رائڈر کی حیثیت سے جاب کر رہا ہوں ، دن میں 10 سے زیادہ کمپلینس گھر گھر جا کر نمٹا ٹا ہوں ،
ان 2 سالوں میں ہر روز کوئی نا کوئی نئی بات یا واقعہ گزرتا ہے میرے ساتھ ،
جو اکثر میں رات کو دوستوں کو سناتا ہوں تو یا تو وہ خوب ہنستے ہیں ، یا پِھر کراچی کے لوگوں پر حیرت کرتے ہیں ،
ویسی تو بہت سے واقعات ہیں میرے پاس لیکن آج اِس کہانی ڈاٹ می پلیٹ فارم کا فائدہ آٹھا تے ہوئے میں ایک واقعہ سنانے کی کوشش کرونگا ، پرسوں مجھے ایک کسٹمر کا فون آیا تو پتہ چلا کے مہاجر کیمپ سے آگے ہب چوکی کی طرف ایک ایل ای ڈی کی کمپلین ہے ، لڑکی کی آواز بے حد سریلی اور دِل کش تھی ، یوں تو میں ہزاروں دفعہ لڑکیوں کی کمپلین پر جا چکا ہوں لیکن اس کی آواز کمال تھی ، اس کی آواز سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کے وہ کس قدر خوبصورت ہو گی ، خیر میں نے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور رستے پر چل پڑا ، اُسکا ہر 10 منٹ بَعْد فون آرہا تھا اور وہ مجھے بھائی یا کسی اور نام سے پکارنے کی بجائے مجھے ڈائریکٹلی میرے نام شاہد سے پُکار رہی تھی ،
میرا دِل اس کی آواز سن کر باڑ باڑ دھڑک رہا تھا کے کب میں اس حَسِین لڑکی کو دیکھ لوں اور میرے دِل کو راحت ملے ،
1 گھنٹے کے اندر اندر میں لوگوں سے پوچھ پوچھ کر اس ایڈریس پر پہنچ گیا ، جگہ تو بہت پرانی اور بوسیدہ سی لگ رہی تھی ،
میں تو سمجھ رہا تھا کے شاید کسی امیر لڑکی کا بینگلو ھوگا ،
پِھر میں نے گھنٹی بجائی اور دِل کی دھڑکن کو سنبھالا ، کیوں کے مجھے یقین تھا کے وہ لڑکی ہی دروازہ کھولنے آئیگی ،
جیسے ہی اس لڑکی نئے دروازہ کھولا میرا سَر چھکڑا گیا اور دماغ جٹکھا کھا گیا ،
وہ لڑکی بالکل دوسری عام لڑکیوں کی طرح دکھتی تھی اور وہ نابینا تھی ،
وہ مجھے آواز سے پہچان گئی تھی ، میں اب اس سے بات نہیں کر پاراہا تھا اور شاید اسے یہ بات سمجھ آگئی تھی کے میں حیرت زدہ ہوں اسے دیکھ کر. خیر میں خاموشی سے ایل ای ڈی بنانا لگا ، وہ بار بار ایک ہی بات پوچھتی کتنا وقت لگےگا شاہد ،
میں 5 منٹ کا کہتا اور کام کرتا رہتا میں حیران تھا کے یہ لڑکی تو نابینا ہے اِس کا ٹی وی سے کیا کام ، مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ،
خیر 15 منٹ میں ٹی وی ریپئیر ہو گیا اور جیسے ہی میں نے ٹی وی کھولا چیک کرنے کے لیے ،
ٹی وی کی آواز سنتے ہی اس لڑکی کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ، میں حیران تھا کے یہ تو دیکھ تک نہیں سکتی یہ اتنا خوش کیوں ہے پِھر اچانک اسنے کچھ نام لینا شروع کر دیئے ،
سیمہ ، فیضان ، سارا ، احمد ، فیاض اور بہت سارے دوسرے نام، جیسے ہی اسنے نام پکارے اوپر والی منزل سے بچے اترنا شروع ہوئے اور مزے کی بات کہ وہ سب کے سب نابینا تھا لیکن پِھر بھی بڑی مہارت سے سیڑھیاں اُتَر کر صوفے پر اور زمین پر بیٹھنا شروع ہوگئے ، وہ 20 کے قریب بچے تھےاس لڑکی نے مجھ سے ریموٹ مانگا اور پِھر کچھ بٹن دبا کر پی ٹی وی سپورٹس کے چینل لگا لیا اور آواز تیز کر دی پی ٹی وی سپورٹس پر اس وقت پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمز کا میچ چل رہا تھا ، میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو اندھے اور ٹی وی کا حساب لگ رہا ہے اس سے پہلے کہ میں کوئی سوال کرتااس لڑکی نئے کہا ، اِس ٹیم میں داؤد نام کا جو لڑکا کھیل رہا ہے وہ ہمارے اسی ہاسٹل کا ہے اور وہ اسی نابینا لڑکی کا ذاتی گھر تھا ، جسے اسنے ہاسٹل کا نام دیا ہے یہ لڑکی وہاں ان بچون کو فری میں رکھتی ہے اور بڑا کرتی ہے جو نابینا ہوتے ہیں اور سڑک پر بھیک مانگنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں یہ لڑکی ان بچون کو اوپر والے کمرے میں چھپا کر رکھتی ہے تاکہ کوئی ان بچوں کو پِھر سے اغوا کر کے نا لے جائے میری آنکھوں میں اس وقت آنسو تھےمیں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کے پاکستان میں ایسے ایسے نیک لوگ اور اللہ کے ولی موجود ہیں میں نے اس لڑکی سے وعدہ کیا کے آج کے بَعْد میں بھی اِس نیک کام کا حصہ بنونگا اور مجھ سے جو بھی ہوسکے گا ان بچوں کے لیے میں ضرور کرونگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.