ٹیکسی ڈرائیور 320

ٹیکسی ڈرائیور

مجھے حیدرآباد سے کراچی شفٹ ہوئے ، تِین سال ہو چکے ہیں ، حیدرآباد سے آنے کی وجہ میری وہاں کے کچھ لوگوں سے جانی دشمنی ہے ،
3 سال پہلے میری ٹیکسی سے ایک ایکسڈینٹ ہو گیا تھا ، حالانکہ غلطی میری نہیں تھی ، اُس موٹر سائیکل والے کا سگنل بند ہونے کے باوجود وہ تیز رفتاری سے سگنل توڑتا ہُوا میری گھڑی سے ٹکرا گیا تھا ،
خیر میرے والدین نے مجھے کراچی بھیجنا مناسب سمجھا کیوں کے یہاں والد صاحب کے بہت سے جاننے والے دوست یار ہیں ،
میں یہاں آکر بھی ٹیکسی چلانے لگا ، میرے والدین نے ہماری تربیت بے حد نفیس طریقے سے کی تھی ،
اِس لیے اخلاق اور اندازِ گفتگو بھی شیریں ہے میرا ،
یہاں والد صاحب کی جان پہچان والے عبدل عزیز بھائی نے ٹیکسی کی سیٹنگ بھی کروا دی ، اور کرایہ کا گھر بھی کیماری کے علاقے میں دلوا دیا ،
3 سال میں میں نے کرائے کی ٹیکسی سے ، الحمداللہ اپنی 2 گاریاں بنا لی ہیں ، ایک کرائے پر دے دی اور ایک خود چلاتا ہوں ،
تعلیم مکمل نا ہونے کا ہمیشہ سے افسوس ہے لیکن اکثر کسٹمرز حضرات اتنے اعلی اخلاق کے مالک ہوتے ہیں کے وہ رستے میں مجھے کچھ نا کچھ سیکھا ہی دیتے ہیں ،
مرد حضرت تو مرد حضرت اکثر اوقات کچھ خواتین بھی اتنی خوش مزاج ہوتی ہیں کے وہ پیچھے بیٹھنے کی بجائے آگے کی سیٹ پر آجاتیی ہیں ،
اور پورا کا پورا سفر ، شریک گفتگو رہتی ہیں ، اب اسے میری قسمت کہہ لیں یا میری کوئی خوبی جس سے زیادہ تر لوگ پہلے ملاقات میں ہی میرے دوست بن جاتے ہیں ،
ابھی 2 ماہ پہلے ایک دوست نے بتایا کے کریم اور اوبر نام ٹیکسی سروسز بھی کراچی میں آئی ہیں ،
مجھے ایک اچھی سی گاڑی لینی چاہیے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے ،
مجھے تو ہمیشہ سے ہی نئے کاموں اور خاص تو پر پڑھے لکھے لوگوں کی تلاش رہتی ہے ، لحاظہ میں نے اپنی ٹیکسی بیچیی ، 2015 کی ویٹز خریدی اور کریم میں رجسٹر ہو گیا ،
اِس سے یہ فائدہ ہُوا کے اب مجھے اینڈریوڈ موبائل بھی صحیح سے چلانا آگیا دوسرا میری گاڑی میں اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہ شعور اور پڑھے لکھے سوار ہوتے تھے ،
ابھی پچھلے ہفتے کی ہی بات ہے کے سخت بارش کی وجہ سے میں صدر میں پھنسا ہُوا تھا اور مجھے اپنے گھر کیماری جانا تھا ،
رات کے تقریبین 2 بج رہے تھے اور اتنے میں میرے موبائل پر ایک نوٹیفیکشن آیا کے 3 تلوار پر ایک سواری موجود ہے ،
میں پہلے ہی بارش کی وجہ سے اُس دن اچھا خاصا کما چکا تھا اور میرے بالکل دِل نہیں تھا کے اُس دن مزید کام کروں ،
لیکن والدین کی تربیت نے مجھے احساس دیا کے مجھے اِس موسم میں اُس سواری کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے ،
بات کرنے کے بَعْد اور ایڈریس معلوم کرنے کے بَعْد پتہ چلا کے وہ ایک خواتین ہیں ،
خیر میں نے پوری کوشش سے گاڑی کھڈوں اور بارش کے پانی سے بچاتے ہوئے 3 تلوار جا پَہُنْچا ،
جہاں وہ واحد خاتون کھڑی نظر آئیں ، وہ پوری طرح بھیگ چکی تِھی اور سردی سے تھر تھر کانپ رہی تھیں ،
میں نے انہیں ادابان سلام کیا اور گاڑی میں بیٹھنے کا کہا ، وہ پیچھے کی سیٹ پر آکر بیٹھ گئیں ، ان خاتون کی عمر بہ مشکل 21 ، 22 سال ہو گی ،
انہیں ڈیفنس توحید کمرشل ایریہ جانا تھا ،
وہ بہت سہمی ہوئی تھیں ،
انکی آنکھوں میں خوف تھا کے شاید میں اُس اندھیری اور خوفناک رات کا فائدہ اٹھاونگا ، اور ان کے ساتھ شاید زیایادتی کرونگا ،
وہ مسلسل سردی سے کانپ رہیں تھیں کیوں کے انہوں نے نا تو سویٹر پہنے تھا نا ہی جکٹ ، کپڑے بھی بے حد چست اور پتلے تھے ،
میں نے انہیں پہلے اپنی شال اُتَر کر دی ، جو انہوں نئے خاموشی سے پہن لی ، وہ شال اوڑھنے لگیں تو میں نے کہا ، اِس سے خود کو خشک کر لیں ،
اِس کے بعد میں نے انہیں اپنا جاکٹ اُتَر کر دیا تو وہ بھی انہوں نئے خاموشی سے پہن لیا ،
ہماری منزل بس آنے ہی والی تھی کے مجھے گھڑی میں سے کچھ بدبو آنے لگی ،
گھور کرنے پر مجھے پتہ چلا کے اُس لڑکی نئے شراب پی ہوئی تھی ، اور نشے کی وجہ سے اسے نیند آ رہی تھی ،
اسکی منزل آگئی اور میں نے کہا جی محترمہ آپ جا سکتی ہیں ، میری آواز سن کر وہ چونک پڑی ، میں نے باہر اُتَر کر دروازہ بھی کھولا تاکہ وہ بہ آسانی اُتَر جائیں ،
انہوں نے مجھے 5000 کا نوٹ دیا ، میں نے کہا چینج نہیں ہے میرے پاس کیوں کے ان کے صرف 400 بنتے تھے ،
انہوں نئے دوڑ ہٹ کر کہا کے باقی آپ رکھ لیں ، ان کے دوڑ ہٹنے کے بَعْد بھی ان کے منہ سے بے انتہا بدبو آ رہی تھی ،
لیکن انہوں نئے جو تیز پرفیوم لگایا ہُوا تھا اُس سے بدبو کا احساس بار بار دم طور جاتا تھا ،
میں نے شکریہ کے ساتھ وہ پیسے لیے اور جس طرح میں ہر کسٹمر کو اپنا کارڈ دیتا ہوں ، انہیں بھی کارڈ دیا ،
انہوں نئے میرا کارڈ لینے کے ساتھ ہی اسے میرے سامنے چُوما اور کہا شکریہ اجنبی ،
مجھے انکی یہ ادا بہت عجیب اور غریب لگی لیکن فوراً خیال آیا کے شاید وہ بہت زیادہ نشے میں ہونے کے باعث یہ سب کر رہی ہیں ،
اِس کے بَعْد وہ لڑکھڑاتے ہوئے اپنی بِلڈنگ میں چلی گئی ، اور میں گھر کی طرف روانہ ہُوا ،
اگلے روز صبح صبح مجھے اسی محترمہ کے نمبر سے فون آیا ، اِس سے پہلے کے میں کچھ پوچھ پتہ انہوں نئے کہا
“آپ جو کوئی بھی ہیں ، شاید اِنسان نہیں فرشتہ ہیں ، میں نے آپ سے زیادہ نیک اور شیریف انسان نا کبھی دیکھا ہے اور نا ہی کبھی دیکھ پاونگی” ،
“میں آپ سے بے حد محبت کرنے لگی ہوں ، آپ سوچ رہے ھونگے کے شاید میں اب بھی نشے میں ہوں”
“لیکین با خدا میں نشے میں نہیں ہوں ، میں آپ کے قابل تو نہیں کیوں کے میں زنا اور شاراب جیسے گندی عادتوں میں ڈوبی ہوئی ہوں” ،
“لیکین اگر آپ مجھ سے نکاح کر لیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کے میں ان ساری بری عادتوں کو ہمیشہ کے لیے چوڑ دونگی” ،
یہ سب سن کر ، مجھ پر سکتا تاڑی تھا اور میرے حلق سے آواز پتہ نہیں کہاں غائب ہو چکی تھی ،
“خو . . خوس… . . کک … . خوشی ، ہوئی کے ، آ… اا… آپ راہ راست پر آنا چاہتی ہیں ، م… ممم…… میں اپنے والدین سے مشورہ کر کے آپ کو جواب دیتا ہون” ، میں نے بہ مشکل اپنے الفظوں کو جورتے ہوئے کہا ،
سچ بات تو یہ تھی کے اُس لڑکی سے میں بھی کل پھیلی نظر میں ہی پیار کر بیٹھا تھا ،
لیکن بات آگے بڑھانے کی ہمت نا تھی ، میں نئے اپنے والدین کے سامنے ساری سچائی رکھ دی ،
اور میری امیدوں کے مطابق میرے والدین ماًن بھی گئے ، اب اگلے ہفتے میرے اماں ابّا کراچی آ کر رمشہ کے گھر رشتہ لے کر جائینگے .
مجھے اب تک یقین نہیں آرہا کے اِس طرح ایک ملاقات میں ہی میرے نکاح کا فیصلہ لکھا ہُوا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.