شوگر پلانیٹ سکسیس اسٹوری 319

شوگر پلانیٹ سکسیس اسٹوری

میں ، مہرین اور ثناء اسکول فرینڈز تھے ، میں کوکنگ میں بہت اچھی تھی ، مہرین ایک مارکیٹنگ کمپنی میں جاب کرتی تھی اور ثناء کے ابّا ہائی کورٹ میں جج تھے اِس لیے وہ پورا دن فلاحی کاموں میں بھرچھڑ کر حصہ لیتی تھی .
2010 کی بات ہے ، ایک دن رات کو میرے گھر پر مووی کا پروگرام تھا ، مووی دیکھتے دیکھتے ہَم نئے چپس اور کولڈرینکس لی ، پِھر ہمارا میٹھا کھانے کو دِل چاہا ،
اب رات کے 3 بجے ہمیں کون میٹھا گھر پر ڈلیوڑ کرتا بس اسی دن ہَم تینوں دوستوں کے اندر کا انٹرپنیور جاگ اٹھا ،
ہَم نئے انٹرنیٹ پر کافی سرچ کیا کے رات میں کپ کیکس ، آئس کیکس ، ہوٹ چاکلیٹ یا آئس کریم گھر پر کون سی کمپنی ڈلیور کرتی ہے ،
لیکن ہمارای خوش نصیبی تھی کے ہمیں کوئی بھی ایسی کمپنی نہیں ملی جو یہ کام کرتی ہو سو اسی وقت رات کو گلستان جوہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی ہے جس کا نام تھا “شوگر پلانیٹ” .
کوکنگ کا ڈیپارٹمنٹ مجھے دائے دیا گیا ، مہرین نئے کہا میں مارکیٹنگ سنبھل لونگی کیوں کے اسے فیس بک کا پیج بھی چلانا آتا تھا اور اس کے بہت سے دوستوں کو ویب سائٹ وغیرہ کا کام بھی آتا تھا ،
سارا پلان فائنل ہو گیا لیکن ایک مسئلہ ایسا سامنے آیا جس کی وجہ سے ہمارے حوصلے پست ہوگئے ، وہ مسئلہ تھا رات میں ڈلیوری کون کرے گا ، بہت سوچنے کے بعد مہرین کے دِماغ میں ایک آئیڈیا آیا . .
ہَم نے اب تک 56000 روپے اِس اسٹارٹ اپ / کاروبار پر خرچ کر دیئے تھے ، میں نے اپنا لیپ ٹاپ اور ابو کی گفٹ کی ہوئی گھڑی سیل کر دی تھی ، مہرین نئے اپنا موبائل سیل کیا تھا اور ثناء نئے اپنے ابو کے دراز میں سے روپے 10 ، 000 چرائے تھے .
3 مہینے اور 5 دن گزر گئے تھے ہمیں ایک بھی آرڈر نہیں ملا تھا ، ہَم اپنے آپ کو قوس رہے تھے کے رات میں کون کمبخت میٹھا کھاتا ہے لیکن پِھر ایک دن رات کو 1 بجے میرے فون کی گھنٹی بجی . .
ہمیں یاد ہے وہ دن جب ہَم ہَم خوب ناچے ، ہَم نئے پورا گھر سَر پر اٹھا لیا تھا ، کیوں کے اُس دن ہمیں پہلا آرڈر ملا تھا ،
ہمیں 12 کپ کیکس اور 1 لیٹر منگو آئس کریم کا آرڈر ملا تھا ، میں نے فون کر کے مہرین اور ثناء کو جگا دیا اور کہا میں ایک گھنٹے مئى میں ساری چیزیں ریڈی کر لونگی کیوں کے آئس کریم کے 3 پکس آل ریڈی میں نے احتیاطاً پہلے سے ہی تیار کر لیے تھے ،
میں نے خاموشی سے سارا آرڈر تیار کیا ، اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح کام کیا تاکہ اماں ابّا اور بھائی کی آنکھ نا کھل جائے ،
ٹھیک ایک گھنٹے میں ، میں نے اپنی دوستوں کو نیچے اترنے کا کہا اور ہَم ثناء کے ابّا کی گاڑی میں ڈلیوری کرنے نکل گئے ،
آرڈر گلشن اقبال کا تھا اِس لیے ہمیں ذیادہ دَر نہیں تھا ، لیکن رستے میں ہماری سوچ سے زیادہ سناٹا تھا ، کتوں کے بھونکنے سے ماحول اور بھی زیادہ خوفناک ہو رہا تھا ،
کچھ بائکس والے لڑکے ہمیں اکیلا دیکھ کر ہماری گاڑی کے بہت قریب اپنی بائکس چلا رہے تھے لیکن ہَم سب کی زبان پر یا سلامو کا ورد تھا ، اور سرکاری نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے جلد ہی لڑکے ہماری گاڑی سے دور چلے گئے ،
پِھر جس کا دَر تھا وہی ہُوا ، ایک سگنل پر کچھ پولیس والون نئے ہماری گاڑی کو ہاتھ دے کر رکنے کا اشارہ کیا ،
ثناء نے آدھا شیشہ کھول کا ان پولیس والوں کو اپنے والد صاحب کا ریفرنس دیا جس پر انہوں نے ہمیں احترام کے ساتھ چھوڑ دیا .
ہَم ڈلیوری ایڈریس پر پہنچ گئے تھے لیکن وہ بنگلا ایک نہایت سنسان اندھیری گلی میں موجود تھا ،
ہَم نئے شیشے بند رکھ کر ہی اس نمبر پر کال کی جس نمبر سے اس محترمہ کا ہمیں فون آیا تھا ،
انہوں نے ہمارا فون نہیں اٹھایا ہَم مسلسل انہیں فون کرتے جا رہے تھے لیکن 5 منٹس گزر چکے تھیں اور وہ ہمارا فون نہیں اٹھا رہی تھیں ،
خوف کے مارے مجھے چکر آرہے تھے ،
اگر گھر والے جاگ گئے اور انہوں نے مجھے اپنے روم میں نہیں پایا تو ، یہیں حال مہرین اور سارا کا بھی تھا ،
ہمارے گھر والے ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے ، کے ہَم اتنی رات منہ باہر کہاں اور کس کے پاس گئے ہونگے ؟
اچانک سے میرے فون کی گھنٹی بجی ، اس خاتون کا فون تھا ، اس نے کہا وہ واشروم میں تھیں ، اِس لیے فون ریسیو نہیں کر پائیں ،
وہ باہر آئیں کوئی 3 عورتیں ان کے ہمراہ موجود تھیں ، وہ اپنے بینگلو سے باہر آئیں ، ہَم نے گھڑی کا آدھا شیشہ کھول کر انہیں ان کا پارسل دیا اور اپنی پیمنٹ لی ،
سارا نے پِھر خوب تیزی سے گاڑی چلائے اور ہَم سارا کام نمٹا کر 4 : 25 تک اپنے گھروں کو پہنچ گئے . .
ہمیں اِس آرڈر پر 840 روپے کا فائدہ ہُوا تھا ، ہَم تینون نئے اگلے دن ساری سچائی اپنے گھر والون کو بتا دی ،
خوب ڈانٹ سنے کے بعد ہمارے گھر والون نئے ہمیں سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا اور بھائی جان نے کہا کے آج کے بَعْد وہ اپنی بائیک پر جا کر ڈلیوری کیا کرینگے .
آج سویٹ پلانٹ ، پاکستان سمیٹ آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی کام کر رہا ہے ،
2014 میں سویٹ پلانٹ سے ہَم مہینے کے 20 ، 22 لاکھ کمانے لگ گئے تھے اِس لیے ، میری اور مہرین کی فیملی آسٹریلیا شفٹ ہوگئے ہیں اور وہاں کا کا کام دیکھ رہے ہیں ،
ثناء شادی کر کے کینیڈا شفٹ ہوگئی ہے اور وہاں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ مل کر یہ کام کر رہی ہے ، پاکستان میں کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کو میرے بھائی جان سنبھل رہے ہیں .
آج ہماری 3 کنٹریز کی برانچیس میں 78 ورکرز کام کر رہے ہیں ،
گلستان جوہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہونے والی کمپنی دنیا کے تِین ملکوں میں پھیل جائے گی یہ کبھی ہَم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ،
اِس بات پر اب کامل یقین ہو گیا ہے کے محنت میں برکت ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.