صوفی ازم اور آج کل کے صوفی حضرات 197

صوفی ازم اور آج کل کے صوفی حضرات

میں ان دنوں ایم بی اے کوالیفائیڈ ہو چکا تھا اور ساٹھ ہزار تنخواہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں اچھی پوسٹ پر نوکری کرتا تھااللہ کے فضل سے میرے والد صاحب دین دار آدمی ہیں اسی وجہ سے ہمارے گھر میں شروع سے ہی دینی ماحول ہے اور شریعت کی پابندی کی جاتی ہے ایسے ماحول میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے میرے اندر بھی دین سے رغبت شروع سے ہی موجود تھی اور ہے بھی الحمداللہ. میں اکثر اپنے دوستوں اور رشتداروں میں ان لوگوں سے نفرت کرتا تھا جو صوفیوں کی باتیں کرتے تھے چونکہ میرا ماننا تھا کہ دین کو انہی لوگوں‌نے نقصان پہنچایا ہے اور انہی حضرات کی وجہ سے دین کا تشخص مجروح ہو رہا ہے مجھے شروع سے ہی صوفیوں سے نفرت تھی کیوں کے صوفی بزرگ اور بابا جتنے بھی دیکھے ہیں نا تو ان کو اپنی صفائی کا ہوش ہوتا تھا نا ان کی نماز اور روزوں کی پاسداری ہوتی تھی اور تو اور اگراکثر اوقات کسی مزار کے آس پاس سے نکلنا ہوتا تو شدید غصے اور افسوس سے ہمکنار ہوجاتا کے ان صوفییووں نے ہمارے اسلام کا کیا نقشہ بنا ڈالا ہے میں نفرت کی آگ میں اتنا جلنے لگا کے جس گھر سے قوالی کی آواز آتی میرا دِل چاہتا کے میں اس گھر کو آگ لگا دوں پِھر ایک دن مجھے ایسا موقع ملا جس کا مجھے ہمیشہ سے انتظار تھا میرے دوست نے مجھے ایک میسیج کیا کے وہ اور اسکے دوست صوفی ازم پر ایک سیشن منعقد کروا رہے ہیں جس میں صوفی ازم کو قرآن اور سنت سے ثابت کیاجائیگابس پِھر کیا تھا میں نے فوراَ سوچ لیا کے اتنے سالوں کی آگ اور بھڑاس نکالنے کا اِس سے اچھا موقع کوئی ہوں ہی نہیں سکتا میں مقررہ دن اور وقت پر پہنچ گیا ، میری توقعات کے براعکس اِسْپِیکَر کوئی صوفی یا عالم نہیں بلکہ ایک نوجوان لڑکا تھا جو کے کلین شیو تھااور سیشن میں آنے والے لوگوں کی اکثریت میری طرح جوان تھی سیشن شروع ہوتے ہی ان اِسْپِیکَر نے جس طرح صوفی ازم سمجھایا وہ بالکل سڑکوں اور مزاروں پر نظر آنے والے صوفی ازم سے مختلف تھااِسْپِیکَر نے جو ایک بات کہی اس سے میری دنیا ہی بَدَل گئی کے “بہت سے مسلمان سود بھی کھاتے ہیں ، شراب بھی پیتے ہیں اور زنا بھی کرتے ہیں ، تو کیا اسلام ہمیں اِس چیز کی اِجازَت دیتا ہے ؟ ”
اسی طرح اگر کوئی صوفی ازم کے نام پر چرس پیتا ہے ، ڈھول ڈمکا بجا کر ناچتا ہے ، صفائی کا اہتمام نہیں کرتا ، شریعت کی پاسداری نہیں کرتا تو اِس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کے صوفی ازم ان چیزوں کا نام ہے پِھرکیا تھا میرے دِل کی دنیا یکسر بَدَل گئی ، میری آنکھیں شرمندگی سے نم تھیں ، میں دِل ہی دل میں اللہ کے حضور معافی مانگ رہا تھا کے میں نے اسلام کے کتنے حساس موزوں کا بنا سوچے سمجھے مذاق اڑایااس دن کے بَعْد سے میں نے صوفی ازم کو دِل سے پڑھنا شروع کیا مجھے پِھر میری عبادتوں میں قلبی سکون ملنے لگا اورصوفی ازم کو میں نے اتنا گہرائی میں جا کر پڑھا ہے کے اب مجھے صرف دن رات صوفی ازم ہی پڑھنے کا دِل چاہتا ہے کیوں کے صوفی ازم آپ کو اپنے اللہ تعالی سے جھوڑنے کے کئی رستے بتاتا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.