انڈیا کا بارڈر 229

انڈیا کا بارڈر

ہمارے ایک قریبی عزیز پاکستان آرمی میں 10 سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں ،
انکی پوسٹنگ ایل او سی ( لائن آف کنٹرول ) پاك بھارت سرحد کے قریب ہوتی رہتی ہے ، جہاں پر بہت سارے گنے جنگلات بھی موجود ہیں ،
جیسا کہ ان کا تعلق آرمی سے ہے اِس لیے میں ان کا نا تو نام لکھوگا اور نہ ہی کوئی اور معلومات ، ہاں اتنا بتا دوں کے ہَم انہیں خان صاحب کہتے ہیں ،
وہ فوجی بھائی سال میں 10 یا 12 دن کے لیے ہی گھر واپس لوٹتے ہیں کیوں کے آج کل انڈیا کے ساتھ جو ہمارے حالت چل رہے ہیں ،
اس وجہ سے انکی چھٹی بہت کم ہی ہوتی ہے ، اِس دفعہ جب وہ گھر آئے تو ہَم ہر دفعہ کی طرح ان سے روز ہی ملاقات کے لیے جانے لگا ،
بہت ساری باتوں میں اِس دفعہ انہوں نے ہمیں ایک ایسی بات بتائی کے ہمارے پیروں تلے زمین نکل گئی ،
اور وہ واقعہ سننے کے بَعْد مجھے تقربین 3 دن تک صحیح سے نیند نہیں آئی ،
وہ کچھ یوں بتاتے ہیں کے ایک دفعہ وہ حسب معمول ایک جنگل میں ڈیوٹی دے رہے تھے اور رات کے تقربین 3 بج رہے تھے ،
انہوں نئے عشاء کی نماز کسی وجہ سے ادا نا کی تھی اور انہیں بہت بے چینی ہو رہی تھی ،
اِس لیے انہوں نے انڈیا کی سرحد کے قریب ایک جھیل سے وضو کرنے کا فیصلہ کیا اور جنگل میں ہی نماز ادا کرنے کا اِرادَہ کیا ،
انکے ساتھی نے سمجھایا بھی کے انڈیا کی سرحد کے اتنا قریب جانا مناسب نہیں ، لیکن ہمارے خان صاحب کسی کی بات کہاں سنتے ہیں ،
وہ وضو کرنے چلے گئے اور ان کے ساتھی دعائیں مانگنے لگے کے وہ صحیح سلامت واپس آجائیں ،
خان صاحب بتاتے ہیں کے انہوں نے بڑی تسلّی اور بغیر خوف کے پورا وضو کیا اور جب وہ واپس اپنی پوزیشن پر لوٹنے کے لیے چل رہے تھے ،
تو انہیں درخت کے کچھ پتے ہلتے ہوئے محسوس ہوئے ، انہیں ایسا محسوس ہُوا کے شاید کوئی بڑا سا جانور خوفناک سانسیں لے رہا ہے ،
خان صاحب نئے اپنی بندوق لوڈ کر لی تاکہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ اس جانور کو وہیں ڈھیر کر دیں ،
خان صاحب آہستہ آہستہ اس درخت کی طرف بڑھنے لگے ، جوں جوں وہ اس کی طرف بڑھ رہے تھے ، اس کی خوفناک آواز میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ،
خان صاحب ٹارچ لائٹ بھی نہیں جلا سکتے تھے ورنہ انڈیا کے باڈَر پر موجود فوجی ، ان پر فائر کھول دیتے ،
جیسے ہی خان صاحب ان گنے درختوں میں پہنچے اور انہوں نئے درخت کی جھاڑیاں ہٹایں تو ایک عجیب سے جانور نئے ان پر حملہ کر دیا ،
خان صاحب کو فائر کرنے کا کوئی موقع نا ملا ، اس کا حملہ اتنا شدید تھا کے خان صاحب کی بندوق بہت دوڑ جا گری ،
خان صاحب نے ایسا جانور کبھی نہیں دیکھا تھا ، خان صاحب اس سے لڑتے رہے اور آخر کر موقع ملتے ہی خان صاحب نے اس کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر اس پر قابو پا لیا ،
وہ بھی مسلسل خان صاحب پر دانتون اور پنجوں سے حملہ کر رہا تھا ، اور خان صاحب بھی پورے زور سے اسے گھونسے اور لاتیں رسید کر رہے تھے ،
حیرت کی بات یہ تھی کے خان صاحب کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا لیکن اس جانور کا خون کا ایک بھی قطرہ نہیں بہہ تھا ،
خان صاحب کو اب احساس ہو رہا تھا کے یہ کوئی عام جانور نہیں بلکہ کوئی اور معاملا تھا ،
کیوں کے جب خان صاحب نے اسکی آنکھوں میں غور سے دیکھا تو وہ آنکھیں نہیں بلکہ 2 ہلکی روشنی والے چھوٹے چھوٹے بلب نما گولے تھے ،
جو مسلسل گھوم رہے تھے ، خان صاحب نے موقع پاتے ہی اسے دوڑ دھکہ دیا اور جا کر اپنی رائقل سنبھل لی ،
اِس سے پہلے کے خان صاحب اس پر فائر خولتے ہوا کی رفتار سے بھی تیز ایک روحانی نما ہوائی گاڑی آئی ،
اور پلک جپکنے سے پہلے ہی وہ اس عجیب سی مخلوق خان صاحب کی آنکھوں کے سامنے سے غیب ہوگئی ،
خان صاحب ہمت کرتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنی پوزیشن پر پہنچے تو ، ان کے ساتھی خان صاحب کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا گئے ،
پاکستان آرمی میں ہونے کی وجہ سے وہ دونوں مضبوط جسم کے مالک تھے اِس لیے ان کے ساتھی نئے خان صاحب کو سنبھالا ،
ایمرجنسی نمبر پر فون کر کے خان صاحب کو اسپتال لے جایا گیا ، خان صاحب کی حالت جب تھوڑی بہتر ہوئی تو انہوں نئے اپنے سینیرز کو یہ واقعہ بتایا ،
خان صاحب کے انتہائی قابل اور ذہین شخص ہیں اِس لیے انکی بات پر جھوٹ کا شبہ کسی کو ہوہی نہیں سکتا تھا ،
جان پاك آرمی کی ان ٹیلکچول ٹیم نئے اِس معاملے پر تیحقیاقات کی تو پتہ چلا کے اس رات جب یہ واقعہ پیش آیا تو ، ناسا کی سیٹلائٹس کو کسی نئے 30 منٹس تک ہیک کر لیا تھا ،
اور تِین ماہ گزرنے کے بَعْد بھی ناسا جیسی بڑی آرگنائزیشن اس ہیکر کا پتہ چلانے میں ناكام رہی ہے ،
اِس لیے اب ایسا کوئی بھی راسته موجود نہیں تھا جس سے یہ پتہ لگایا جا سکے کے اس رات جنگل میں کون موجود تھا ،
ایسی معاملے پر ورلڈ والڈ فیڈریشن نے بھی خان صاحب کویوایس اے بلایا اور انکے زخموں کا اندازہ لگایا ،
لیکن ان کے ڈیٹابیس میں بھی ایسا کوئی جانور موجود نا تھا جیسے خان صاحب کی گردن پر دانتوں کے نشان تھے ،
یا جیسے پنجے اس جانور نے خان صاحب کے جسم پر مارے تھے ،
اس مخلوق اور اس ہوائی گاڑی کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے ، ہمارے دِل میں تو بس ایک ہی گمان عطا ہے کے شاید وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق تھی جو ہماری زمین کے درختوں کو چیک کرنے کے لیے راتوں میں جنگلات میں موجود رہتی ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.