پینٹ ہاوس 47

پینٹ ہاوس

یہ ایک سچا ڈراونا واقعہ ہے جسے ہَم عام الفاظ میں ریئل ہورر اسٹوری کہتے ہَیں .
ہَم 4 بہن بھائی ہَیں اور میں سب سے بڑا ہوں ، میں اُس وقت انٹر کا طالب علم تھا ، ہمارا گھر پانچویں منزل پر تھا اور رہنے کے یہ صرف ایک کمرہ ،
ہمارا گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہمیں بہَت سی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،
پِھر ابو نے اور امی نے گھر کا کچھ زیور بیچ کر اور قرضہ لے کر چھت ( پینٹ ہاؤس ) خرید لیا ،
ہمیں کافی لوگوں نے منع کیا کے ہَم لوگ چھت ( پینٹ ہاؤس ) پر کمرے نا بنائیں ،
کسی نے کہا یہاں رات میں سَر کاٹا گھمتا ہے ، کسی نے کہا یہاں جنات کا بسیرا ہے ،
میرے والد صاحب نے ان سب کی باتون کو محض جاہلایات اور اَحْمَق پن سمجھ کر جھٹلا دیا ،
ابو نئے اوپر 2 کمرے ، کچن ، باتھ روم اور اسٹور روم بھی تعمیر کروائے ، جھولا لگوایا اور دِل کھول کر خرچہ کیا ،
پورے محلے میں ہمارا پینٹ ہاؤس مشہور ہوگیا تھا کیوں ہَم نئے بہَت ہی دلکش اور عالیشان کام کروایا تھا ،
میرا اور میرے بھائی کا کمرہ اوپر ہی بنا دیا گیا ،
ہَم لوگ بہَت خُوش تھے کے ہمارے پاس اتنی بڑی جگہ ہوگئی ،
میری بڑی بہن نے اوپر والے میرے روم میں دن میں ٹیوشن بھی پڑھانا شروع کر دیا ،
اور میں نے ایک کمپیوٹر خریدنے کے بَعْد انٹرنیٹ پر اون لائن ارننگ بھی شروع کر دی ،
ہمارے حالت بہَت اچھے ہونے لگے اور قرضہ بھی اترنے لگا ،
میری چھوٹی بہن جو کے تقریبن 11 سال کی تھی پوری بِلڈنگ کے بچوں کو ہمارے پینٹ ہاؤس میں لے کر آتی اور بچے خوب ہستے کھیلتے اور انجوائے کرتے ،
اُس رات ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ، رات کے 11 بج رہے تھے ،
میں اپنے کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا اور باہر بچے کھیل رہے تھے ،
میں کام میں پوری طرح مصروف تھا کے بچون نے زور زور سے برتن بجانا شروع کر دیئے ،
مجھے بہَت غصہ آیا کے بچے کچن میں کیا کر رہے ہَیں کیوں کے بَرتنوں کی تیز تیز آوازوں کی وجہ سے کام کرنے میں بہَت دُشواری ہو رہی تھی ،
کچھ دیر تو میں نے برداشت کیا لیکن جب آوازیں برداشت سے باہر ہوگیں تو میں نے اٹھ کر دیکھنے کا فیصلہ کیا ،
جیسے ہی کمرے سے باہر نکل کر دیکھا تو کوئی موجود نہیں تھا ، پوری چھت خالی تھی ،
میری سانسیں تیز ہونے لگیں ،
میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے اگر چھت پر کوئی نہیں ہے تو کچن سے آوازیں کیسے آسکتی ہَیں ؟
میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کچن کی طرف بڑھا ،
کچن میں کوئی موجود نا تھا اور میرے کچن تک پہنچتے ہی ساری آوازیں بند ہو چکی تھیں ،
میں سمجھ گیا کے شاید بارش اور تیز ہوا کی وجہ سے وہ آوازیں آرہی تھیں ،
میں پلٹ کر جانے لگا تو اِس دفعہ برتن بجنے کی نہیں بلکہ کسی نے میرا نام “زاہد” لے کر آواز دی ،
میں نے جیسے ہی پلٹ کر کچن میں دیکھا تو میری روح اور جسم پوری طرح لرز گئے ،
کچن کی چھت پر جہاں مصالے کی برنیاں رکھی ہوتی ہَیں وہاں ایک 5 ، 6 سال کا بچہ موجود تھا ،
جس کے سَر پر 2 چھوٹے چھوٹے سنگھ تھے ، اسنے قمیض نہیں پہنیی تھی اور اسکا حلیہ دِل دیہلانے والا تھا ،
ایک ہی لمحے بَعْد وہ بچہ وہاں سے غائب ہو کر میرے پیروں سے لپٹ گیا ، وہ بچہ اتنا گرم تھا کے اُس کی تپش میں برداشت نا کر سکا اور بے ہوش ہو گیا ،
مجھے پورے 3 دن بَعْد ہوش آیا ، اِس واقعی کے 3 مہینے بَعْد ہی ہَم نئے وہ پینٹ ہاؤس اور بِلڈنگ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟