مقابلا عشق اور نصیب 168

مقابلا عشق اور نصیب

ابّا نے آج بھی پورے محلے کے سامنے ذلیل کر دیا ، دِل اور روح پوری طرح زخمی ہو چکے تھے میرے ،
خاندان ، دوست ، پڑوسی ، پورا معاشرہ ہی میرا دشمن بن چکا تھا . .
غلطی کر دی تھی میں نے ، بہت بڑا جرم ، ہاں میں عشق کر بیٹھا تھا ،
خود سے نہیں ، رابعہ سے عشق کر بیٹھا تھا ،
3 دفعہ میرا رشتہ جھٹلا چکے تھے اس کے گھر والے ،
رابعہ میرے اِس پیار کو ٹائم پاس سمجتی تھی ،
کہتی تھی دِل لگی کرتے ہوں ، سچا پیار ہے تو کچھ بن کر دکھاؤ ،
محبت میں بھی کیا اب ثبوت دیئے جاتے ہیں ،
اسکول کے امتحان میں پاس نا ہوں پاتا تھا کے اب یہ کمبخت عشق کے امتحان سَر آن پرے تھے ،
زخم ہوگئے تھے اس کے بھایوں سے مار کھا کھا کر ،
بہادر تو میں بہت تھا ، بڑا جگر بھی تھا ، لیکن سالوں کے سَر بھی کھلے ہیں کبھی کسی نے ؟ ؟
دیوداس ، ہاں دیوداس نہیں کہتے تھے لوگ مجھے ، رنگیلا کہتے تھے ، کیوں کے رابعہ کے چکر میں خودکشی کرنے چلا تھا رنگ کا ڈبہ پی کر ،
زینب مارکیٹ سے نئے نئے آرْٹِیکَل کی شرٹ لا کر پہنتا تھا ،
پان گٹکا چور کر ہارا نسوار كھانا شروع کر دیا تھا تاکہ صاف ڈانٹ اور صاف کپڑے دیکھ کر ہی اسکا دِل پگھل جائے
لیکن اس کا دِل لیاری کے کھڈوں کی مانند تھا ، کھڈے بھی زخم دیتے ہیں اور اس کا دِل بھی .
خون کے گھونٹ پتا تھا جب وہ رات کو اپنی گیلری میں کھڑی ہو کر پیکج والوں سے بات کرتی تھی .
کر بھی کیا سکتا تھا خاموش رہتا تھا کیوں کے فتح علی خان صاحب اپنی قوالیوں میں اکثر کہا کرتے تھے کے خاموش رہو دِل لگی نہیں عشق ہے یہ .
پتہ نہیں نصرت خان صاحب نے اتنا سخت آرڈر کیوں دیا ،
کاش خان صاحب کے دور میں بھی یہ پیکج والے لونڈے ہوتے ، تو وہ شاید اتنی بزدلانہ باتیں نا کرتے .
ہلکا لیتے تھے مجھے سارے علاقے والے ،
ہنستے تھے ، مذاق اڑتے تھے ، ان دنوں نمبرز سے مس کالس دیتے تھے اور میں ہر کسی کو کال بیک کرتا تھا کے شاید رابعہ سے ایک بار فون پر بات ہو سکے ،
میں بھی اس کی نرم و نازک آواز کو فون پر سن سکوں
ابّا کے 3 بکرے موبائل کے بیلنس ڈالوانے کے چکر میں ہی بیچ کھاے تھے ، پِھر مرغیوں کی باری تھی ، وہ بھی رخصت ہوجاییں ،
رابعہ کی آج بات پکی ہوگئی تھی ، اب وہ گیلری میں بھی نہیں آتی تھی ، میری رہی صحیح جان بھی ختم ہونے لگی ،
دیدار کا سلسلا رک گیا ،
اپنے منگیتر كے کہنے پر وہ برقع کر کے نکلنے لگی ،
ایک جلک کو ترستا تھا اب میں ،
یہ پردہ جائز تھا اسکا لیکن میری موت قریب تھی اسے دیکھے بنا کیا وہ بھی جائز تھی ؟
میں اس سے یہ نہیں کہتا تھا کے وہ بھی مجھے برابری کا عشق کرے لیکن سکون سے مرنا چاہتا تھا ، ایک ملاقات کا انتظار تھا ،
اتنی بری لسٹ تیار تھی کی اس سے کیا باتیں کرنی ہیں لیکن وہ اگنور کرنے میںاس نے پی ایچ ڈی کی تھی اور میں نے عشق کرنے میں ،
دَر اصل اسکا قصور نہیں تھا ، محلے کا ہر لڑکا بلکہ شہر کی ایک ایک گلی میں اسکے 40 ، 40 عاشق موجود تھے ،
اللہ پاك نے اسے لازوال خوبصورتی سے نوازا ہے ،
کوئی 500 مومنہ مستیحسین اور 500 ماہ نور بلوچ ملائیں تو آدھی رابعہ بنتی تھی .
جاگیردار ، واڈیرے ، چوہدری ، سردار اور ٹھیکیدار ہر بندہ اس کے لیے رشتہ ڈال چکا تھا لیکن کسی کے نصیب میں اتنا دم نہیں تھا جو اس 23 سا لا لڑکے سلمان میں تھا ،
وہ سب کو ہارا گیا ، میں ہار گیا ، ہَم ہار گئے ، ایک باڑ پِھر نصیب نے پیار کو ہارا دیا . .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.