بےوفاکرن 172

بےوفاکرن

میں کرن سے انتہا کی محبت کرتا تھا لیکن اس کے غیر مستقل مزاج میں پتہ نہیں کیا چل رہا تھا ،
کبھی وہ کہتی میں سوچ کر باتاونگی ، کبھی 1 ہفتے تک ناراض رہتی اور کبھی خود فون کر کے ڈیٹ پر چلنے کو کہتی ،
میری اس سے ہزار بار اِس بات پر لڑائی ہو چکی تھی کے وہ چاہتی کیا ہے ، اور اس کا آخری فیصلہ کیا ہے ،
لیکن اس پر اِس بات کا کوئی اثر نا ہوتا ، وہ کبھی راحیل کے ساتھ کینٹین میں نظر آتے اور کبھی جنید کے ساتھ لنچ پر چلی جاتی ،
میں اور کرن کالج کے زمانے سے دوست ہیں ، آرْٹ انسٹیوٹ میں آنے کی وجہ بھی کرن ہی تھی ، کیوں کے میرا تو آرْٹ سے دوڑ دوڑ تک کا کوئی واسطہ نا تھا ،
ایک دن تو اسنے حد کر دی جب وہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے راحیل کے ساتھ اس کی موٹر سائیکل پر اِس طرح بیٹھی جیسے ایک وائف ہی اپنے ہسبنڈ کے ساتھ بیٹھی ہے ،
کرن کے جسم کا ایک ایک حصه ، راحیل سے لگ رہا تھا ، وہ میرے کرن سے رشتے کا آخری دن تھا ،
میں نے اپنی پوری زندگی کسی لڑکی سے فری ہونے کی کوشش اِس یی نہیں کی تھی کیوں کے میں کرن سے سچی محبت کرتا تھا ،
لیکن کرن نئے آج ساری لمیٹس کراس کر دی تھیں ،
میں نے وہ کالج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھور دیا اور اپنے سارے نمبرز بھی بدل لیے ،
میرا دِل مکمل طور پر اِس دنیا اور زندگی سے ٹوٹ چکا تھا ، لیکن پِھر کچھ دوستوں نئے میرا ساتھ دیا ،
میں دنیا کے سامنے تو خود کو مضبوط ظاہر کر رہا تھا لیکن میں نے جس طرح کرن کو راحیل کے ساتھ موٹر بائیک پر دیکھا تھا ،
میرے دِل اور دماغ سے یہ بات نہیں نکل پا رہی تھی ،
کبھی میں سوچتا کے میں خود کو مار دوں اور کبھی یہ دِل کرتا کے ان دونوں کو جا کر زندہ جلا دوں ،
میری فیملی مالی طور پر بہت مضبوط تھی اِس لیے گھر والوں کا زور تھا کے میں باہر ملک چلا جاؤں ،
تاکہ اپنا غم بھلا سکوں ، لیکن میں اِس حرکت کو بہت چھوٹی حرکت سمجھتا تھا ،
میرا ایسے کرنے سے کرن کو ایسا لگتا کے میں بہت کمزور ہوں اور اس کے دیے ہوئے غم سے نکلنا میرے لیے ممکن نہیں ،
اپنا دِل اور دماغ بھلانے کے لیے میں نے ایک سپر اسٹور پر کیشیئر کی جاب کرنا شروع کر دی ،
میں نے محسوس کیا کے کرن والے واقعی کے بَعْد میری نیند بہت کم ہوگئی ہے ،
اور اب تو عالم یہ ہواگیا ہے کے پوری رات میں با مشکل میں صرف 2 گھنٹے سو پاتا ہوں ،
میں نے کافی ڈاکٹرز کو یہ مسئلہ دکھایا اور سب نئے الگ الگ داواییں بھی دیں ، لیکن نیند کی دواؤں سے نیند بڑھنے کی بجائے میری نیند اور کم ہوتی چلی گئی ،
اب میں پوری پوری رات جاگہ کرتا تھا اور کروٹیں بَدَل بَدَل کر بیزار ہو گیا تھا ،
ایک دوست نئے مشورہ دیا کے دن کی جاب چور کر مجھے نائٹ جاب کرنی چاہیے ، ہوسکتا ہے اس سے دماغ کرن سے ہٹ جائے اور نیند آجائے ،
اس کا مشورہ اپنی جگہ مناسب تھا ، میں نے اگلی ہی دن سپر اسٹور میں ایپلی کیشن دے دی کے مجھے رات والی شفٹ میں ٹرانسفر کر دیا جائے ،
میری ایپلی کیشن فوراً منظور ہوگئی کیوں کے رات كے ڈیوٹی بہت لمبی تھی اور کشییرس بہت مشکل سے رات کی نوکری کے لیے تیار ہوتے تھے ،
میری رات کی نوکری شروع ہوگئی ، لیکن نیند کا معاملہ وہی رہا ، اتنے لمبی ڈیوٹی کرنے کے بَعْد بھی مجھے نیند نصیب نا ہوئی ،
پورا پورا دن نیند کے لیے تڑپتا تھا ، ہر تعویز ہر دوا ، سب کچھ آزما لیا ، یہاں تک کے لاکھون روپے والی امپورٹد داواییں بھی امریکہ سے منگوا لیں ،
لیکن کوئی فائدا نا ہوا ، میں اب کمزور پڑتا جا رہا تھا ، میرا وزن 65 کے جی سے اب صرف 40 کے جی رہ گیا تھا ،
اکثر لوگ مجھے ہدیوں کا ڈھانچا کہتے تھے ، یہاں سپر اسٹور میں رات کو طرح طرح کے لوگ آتے تھے ،
ہر کوئی مجھے عجیب نطروں سے دیکھتے جیسے میں انسان نہیں کوئی جانور ہوں ، رات کے کسٹمرز میں ایک تاوایف بھی آتی تھی ،
وہ مجھ سے بہت پیار اور سلیقے سے بات کرتی تھی ، وہ جب بھی مجھ سے بات کرنے کے لیے رکتی ، میں اسے کرن والی پوری کہانی سناتا ،
وہ بھی ہر دفعہ میری کہانی ایسے سونتی جیسے وہ پہیلی دفعہ سن رہی ہوں ، 2 ، 3 دفعہ میں اس کے ساتھ اس کے گھر پر بھی گیا ،
اور شیطان کے بہکاوے میں آکر میں نے 1 دفعہ اس کے ساتھ زنا بھی کر لیا ، زنا کرنے کے بَعْد بھی وہ اپنے پلنگ پر پر سکون نیند کی آغوش میں سو گئی ،
لیکن میں اس رات بھی نیند کے لیے تڑپتا رہا ،
اب وہ ایک تاوایف نہیں رہی تھی میری سب سے بہترین دوست بن چکی تھی ، میں اس کے ساتھ گھمتا پھرتا ، لنچ کرتا اور اسے شاپنگ کرواتا ، اور کبھی کبھار زنا بھی کرتا ،
میں نے اس کے سارے خرچے خود اٹھانا شروع کر دیئے تھے ، اور اسے سختی سے منع کر دیا تھا کے اب وہ یہ گندا کام چھور دے ،
میرا وزن اب صرف 36 کے جی رہ گیا تھا ، شاید مجھے نا سوئے ہوئے 3 ماہ ( منتھس ) گزر چکے تھے ، میرے کیس پر کام کرنے والے ڈاکٹرز حیران اور پریشان تھے کے یہ کس طرح ممکن ہے ،
میں اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتا کے میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ہے ،
کیوں میں اس کی زندگی تباہ کروں ،
ایک صبح جب میری اسٹور سے چھٹی ہوئی تو میں اپنے گھر کی بجائے اس کے گھر پہنچا ،
اِس سے پہلے کے میں دروازے پر دستک دیتا ، مجھے کسی مرد کی باتیں کرنے کی آواز آئی ،
وہ مرد اس طوایف سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا اور وہ عورت بھی خوب مزے لے لے کر باتیں کر رہی تھی ،
میں سمجھ گیا کے اندر دال میں کچھ ضرور کالا ہے ، میں نے دروازہ اپنی چابی سے خاموشی سے کھولا ،
اندر راحیل موجود تھا اور وہ اس طوایف کے ساتھ زنا کرنے کی تیاری کر رہا تھا ،
میرا دماغ غصے سے گھوم گیا ، میں نے ایک زور دار چیخ مارتے ہوئے راحیل کو اور اس عورت کو پہلے گندی گندی گالیاں ددی ،
“راحییل تونے پہلے میرا پیار چینا اور اب تو میری دوستی کو بھی گندا کرنے آگیا ہے نامرد”
اِس سے پہلے کے وہ دونوں کچھ کہتے ، میں نے کچن سے چوڑی اٹھائے اور پہلے راحیل کی سینے میں اندر تک گھونپ دی اور پِھر ہتھوڑی سے اس عورت کا سَر کچل دیا ،
دونوں موقع پر ہی حالق ہوگئے ،
جب میرا غصہ ٹھنڈا ہُوا تو میں نے اس عورت کا کچلہ ہُوا سَر اپنی گود میں رکھا ،
اور اس سے پوچھا کے کس چیز کی کمی رکھی تھی میں نے تیری زندگی میں ، لیکن وہ مجھ سے اب نا باتیں کر رہی تھی نا مجھے جواب دے رہی تھی ،
میں خون سے لت پت حالت میں ہی اس گھر کو چھور کر اپنے گھر جانے لگا ،
رستے میں پولیس کی گاڑی نئے مجھے روکا تو میں نے انہیں سب سچ سچ بتا دیا کیوں کے میں قاتل تو نہیں تھا کے پولیس سے دروں ،
مجھ پر کیس بنایا گیا اور مجھ پر 1 قتل کا الزام ثابت ہو گیا ،
میں حیران تھا کے میں نے تو 2 قتل کیے ہیں ، یہ 1 قتل کا الزام کیوں ،
اِس پر میرے واقیل نئے مجھے بتایا کے اس کمرے میں صرف ایک ہی آدمی موجود تھا جسکا نام راحیل نہیں سہیل تھا ،
میں نے حیرت سے پوچھا کے پِھر وہ تاوایف کہان گئی ، تو میرے لاءیر نئے مجھے ایک سکیچ دکھایا ،
اور پوچھا “کیا یہیں وہ تاوایف ہے” ؟ ، میں نے بے ساختہ “ہان کہا یہیں ہے وہ” ،
تو میرے لاءیر نے مجھے ایک اور سکیچ دکھایا ، اور کہا “یہ کون لوگ ہیں ؟ ” ، تو میں نے کہا “یہ میری اور کرن کی ایک بہت پرانی فوٹو ہے ، جب ہَم مری گئے تھے کالج والوں کے ساتھ” ،
میرے لاءیر نے کہا ذرا غور سے دیکھنا “میری ہاتھ میں موجود سکیچ کو اور تمہاری مری والی تصویر کو” ،
میرے رونگھتے کھڑے ہوگئے ،
کرن اور تاوایف بالکل ایک جیسے دکھتے تھے ،
میرے لاءیر نئے پِھر مزید انکشاف کیا کے “کرن سے بے پناہ نفرت کی وجہ اور نیند نا ہونے کی صورت میں تم نئے اپنے دماغ میں ایک فرضی تصور تیار کیا تھا” ،
“ور اسے طوائف کا نام دیا دیا تھا ، تمہیں سپر اسٹور سے 15 دن میں ہی نکال دیا گیا تھا کیوں کے تم اکیلے اکیلے باتیں کرتے تھے” ،
“اور کیش کے حساب میں روزانہ غلطیاں کرتے تھے” ،
“تم سپر اسٹور کے قریب ایک سنسان گلی میں روز جا کر بیٹھتے تھے اور گھنٹوں اکیلے اکیلے باتیں کرتے تھے” ،
“یہی سہیل نام کا بندہ ایک دن اس گلی سے اپنی موٹر سائیکل پر اپنی منگیتر کو بٹھا کر نکلا تو تمہارے دماغ نے اسے اور اس لڑکی کو راحیل اور طوایف کا تصور دیا ” ،
“سہیل پنجاب سے آیا تھا اور یہاں اکیلا رہتا تھا اِس لیے تم نے ایک دن موقع ملتے ہی سہیل کو راحیل سمجھ کر قتل کر دیا” ،
“تمہاری دماغی حالت بہت خراب ہونے کی وجہ سے تمہارے علاج کا حکم دیا ہے” .
یہ سن کر مجھ پر بیہوشی تاڑی ہوگئی اور جب ہوش آیا تو میں نے خود کو پاگل کھانے میں زنجیروں سے جکڑا ہُوا پایا .
دِل میں ایک ہی خیال آتا ہے کے کاش ماں باپ کی بات مان لیتا اور اسی وقت باہر ملک چلا جاتا تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.