خوفناک بچے 120

خوفناک بچے

میں بچپن سے ہی اپنے آباؤ اجداد اور لوگوں سے جنات کے متعلق مختلف باتیں اور سنتا آیا ہوں ،
لیکن فزیولوجی کا طالب علم ہونے کی وجہ سے مجھے ان باتون پر کبھی کوئی خاص یقین نہیں آیا ،
میرا جنات کے وجود سے ہرگز انکار نہیں کیوں کے جنات کی ماوجودجی کا ذکر تو قرآن پاك میں بھی ہے ،
لیکن جس طرح لوگوں کے اوپر اثر یا پِھر کسی جگہ سایہ ہونے جیسی باتوں سے مجھے شدید اختلاف تھا ،
میرا خون جلتا تھا جب لوگ ہر چھوٹے بڑے معاملے کو جنات کے پر ڈال دیتے ہیں ،
میں سردیوں کی چھٹویوں میں اکثر کسی نا کسی گاؤں کی سیر کو ضرور جاتا ہوں ، تاکہ اِس گہما گہمی والی زندگی میں کچھ پل سکون کے میسر اسکیں ،
اِس دفعہ میں اپنے دوست شاہد کے ساتھ اسکے گاؤں گیا جو کے اندرونی میر پر سندھ میں ہے ،
سفر اچھا گزر رہا تھا کے میرے دوست شاہد نئے ہمیشہ کی طرح جنات وغیرہ کے معملات پر بحث کرنا شروع کر دی ،
میں اسے ہر دفعہ کی طرح بحث میں جیتنے نہیں دے پارہا تھا کیوں کے مجھے اچھی طرح اب معلوم ہو چکا تھا کے جنات کے معاملے پر لوگوں کے کیا کیا سوالات ہوتے ہیں ،
اور انہیں کس طرح کے جوابات دے کر خاموش کروایا جاتا ہے ، لیکن جب سے اسنے جنات کی باتیں شروع کی ، کچھ عجیب ہی مسئلے ھونا شروع ہوگئے ،
کبھی میری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جائے تو کبھی اچانک سے پیٹرول سارا کا سارا ختم ہوجاتا ،
میں پڑھا لکھا اور مچیور انسان تھا اِس لیے اپنے دوست کے سامنے کوئی نا کوئی لوجک اور دلیل پیش کر دیتا کے ان مسلوں کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ،
خیر ہَم مشکلات کو چیرتے ہوئے آخر کر اپنی منزل مقصود تک این پہنچے ،
میں شاہد کے ساتھ اس کے گاؤں پہلی دفعہ آیا تھا اِس لیے شاہد کے گھر والون ، پروسیوں اور ریشتداروں نے مجھے بہت عزت دی ،
میری دِل سے خاطر مدارت کرنا شروع کر دی ، شاہد نئے مجھے کھیت اور کھلیان ، خوبصورت جھیلیں ، سَر سبز و شاداب باغات اور ہر وہ چیز دکھائی ، جو میں ہمیشہ کسی بھی گاؤں آکر دیکھنا چاہتا تھا ،
3 دن گزر چکے تھے اور میں نے ان 3 دنوں میں شاہد اور اس کے گھر والون کے چہرے پر ایک خاموش سی پریشانی دیکھی تھی ،
لیکن اس رات جو ہُوا اس کے بَعْد مجھے سب سمجھ گیا کے وہ کون سی پریشانی تھی ،
رات کے کھانے اور عشاء کی نماز سے فراغت کے بَعْد سارے گھر والے اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے تھے وہاں ،
میں اور شاہد بھی 3 ، 4 سگڑٹس پھونکنے کے بَعْد اپنے کمرے میں آگئے ، شاہد کو میں نے اپنے ساتھ ہی رکھا تھا تاکہ رات میں شطرنج کھیل سکوں ،
ابھی ہَم شطرنج کھیلنے کی تیاری ہی کر رہا تھا کے اچانک ایک خوفناک چیخ بلند ہوئی ،
جس سے میرے کان 2 منٹس کے لیے سن ہوگئے ،
میں فوراً ہی کمرے سے بھاگا تاکہ پتہ لگایا جا سکے کے اتنی ہیبت ناک چیخ کس نے اور کیوں ماری ہے ،
لیکن جیسے ہی میں بھاگنے لگا ، شاہد نئے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روک لیا اور کہنے لگا “باشیر تو رہنے دئے ، تیرے مطلب کی بات نہی”
شاہد کے چہرے کے تاصورات کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کے ضرور جنات وغیرہ کا کوئی معاملا ہے ،
میں نے اسے کہا کے ایسے سینکڑوں معاملے میں نے سلجھائے ہیں ، لہذا میں یہ بھی معاملا سولجاؤگا ،
میں نے شاہد سے بھی ساتھ چلنے کو کہا ،
شاہد نئے بتایا کے اس کے بھائی کی بیٹی جو کے 12 سال کی ہے 2 سال سے کسی جن کی بچی کے قبضے میں ہے ،
اور اکثر رات میں عشاء کی نماز کے بعد ، مناہل نام کی بچی کے ساتھ یہ معاملت ہوتے رہتے ہیں ،
میں دِل ہی دِل میں سوچ رہا تھا کے جب اسلام آباد جیسے شہر میں پڑھے لوگوں میں یہ شعور نہیں تو ان گاؤں کے جاہل لوگوں میں کیا خاک ساہوار ھوگا ،
خیر میں نے شاہد سے ان تاصورات کا ذکر نہیں کیا ورنہ اس کی دِل آزاری ہواجاتی ،
میں اور شاہد اس کمرے کی طرف چل دیئے ، وہاں پہچے تو عجیب ہی معملات دیکھے ،
وہ 12 سالا بچی اتنا زور سے چیخ رہی تھی کے میں نے اپنی زندگی میں شاید ہی اتنے تیز چیخیں سنی ہوں ،
سارا کا سارا گھر اس کمرے میں موجود تھا ، لیکن کسی کی بھی ہمت نا تھی کے وہ بچی کا قریب جا کر اسے قابو ( کنٹرول ) کرتے ،
کچھ گھر والے زور زور سے تلاوت کرنے میں مصروف تھے ، کچھ گھر والے اگر بتیان جلا رہے تھے ،
کچھ لوگ کچھ وظایف پڑھ پڑھ کر پانی کی چیھنٹے مناہل پر پھینک رہے تھے ،
میں نے ہر دفعہ کی طرح اپنا دماغ لاڑایا اور مناہل کے قریب پہنچ گیا ، میں اس کے قریب بیٹھنے ہی والا تھا کے اس نے میرا نام لے کر مجھے مخاطب کیا
“دوور ہٹ جا باشیر” ،
میں سوچ رہا تھا 3 دن سے میں یہاں پر ہوں تو لازماً اِس بچی کو میرا نام پتہ چلنا ہی تھا ،
میں نے کہا “مناہل ، بیٹا مجھے سب پتہ ہے کے تم یہ ایکٹنگ کیوں کر رہی ہو ، اور میں نے تمہارے گھر والوں کو بھی بتا دیا ہے” ،
مجھے یقین تھا کے اتنی چھوٹی بچی میرے اِس دماغی وار سے ڈر جائے گی اور یہ ناٹک چور دیگی ،
لیکن اس نئے پلٹ کر ایسا جملہ کہا کے میں تھوڑی دیر کے لیے سکتہ میں آگیا ،
“باشیر ، اگر تجھے یہ پتہ چل گیا ہے تو مجھے بھی یہ پتہ ہے کے 3 سال پہلے تونے اپنے آفس سے پورے 5 ہزار چرائے تھے”
“اور آج تک تونے وہ پیسے اپنے باس کو واپس نہیں لوٹائے”
میرے ہاتھ پاؤں پوری طرح کپکاپا رہے تھے کیوں کے جو مناہل یا اس کے اندر کے جن نے جو کہا وہ بالکل سچ تھا ،
لیکن اپنی عزت بچانے کے لیے اور اپنے اصاب کو قابو میں رکھنے کے لیے ، میں نے کہا ،
“ہاں میں نے وہ چرائے تھے لیکن تمہیں پتہ ہے کے وہ میں نے خرچ کس مقصد کے لیے کیے” ؟
اس نئے ایک زور دَر قیہقہ بلند کرتے ہوئے کہا ، “باشیر ، اِس بات کو چھور یہ بتا کے چرس چُپ چُپ کر کیوں پیتا ہے تو ، شاہد کے سامنے کیوں نہیں پتا ؟ ” ،
میرے دماغ بالکل سن ہو چکا تھا ، جنات کا ایسا انوکھا واقعہ میں نے نا ہی اپنی زندگی میں دیکھا تھا نا تو کسی اور سے سنا تھا ،
مجھے لگ رہا تھا کے اگر میں مزید اِس بچی کے سامنے بیٹھا تو وہ میری عزت کے پرچے اڑا دیگی ،
ابھی میں آہستہ آہستہ خاموشی سے کھڑا ہونے لگا تھا کے اسنے جھپٹ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا ،
اس کا ہاتھ اتنا بھاری اور طاقتور تھا کے مجھ جیسے 80 کلو اور 6 فٹ لمبے انسان میں بھی اس سے ہاتھ چھوڑوانے کی طاقت نا تھی ،
میرا دِل بند ہونے ہی والا تھا کے میں نے اس بچی اور اس کے اندر کے جن سے سچے دِل سے رَو رَو کر معافی مانگی ،
میں نے کہا کے میں سچے دِل سے اِس بات کا اقرار کرتا ہوں کے “مناہل ، بیٹا تم ناٹک یا ایکٹنگ نہیں کر رہی اور تمہارے اندر واقعی میں کوئی مخلوق موجود ہے” ،
اس مناہل بچی نئے ایک بار پِھر وہی زور دَر چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئی ،
میں ان تمام گھر والوں کے سامنے بہت شرمندہ تھا نا ہی شاہد سے نظریں ملا پاراہا تھا ،
میں نے اللہ سے سچی پکی توبہ کی اور پِھر اس دن کے بعد سے نا ہی میں نے چرس پی نا ہے کبھی چوری کی ،
اب ہر مہینے میں شاہد کے گھر ایک دن کے لیے ضرور جاتا ہوں اور مناہل پر جب وہ کفیت طاری ہوتی ہے تو میں بھی اس جن كے بچی کو ادب سے سلام کرتا ہوں ،
جس سے مجھے روحانی اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.