194

کراچی کے بیکاری

یہ کوئی خاص اردو کہانی تو نہیں بلکہ میرے ساتھ ہونے والے 2 ، 3 واقعات ہیں جو پچلے ماہ رونوما ہوئے ،
اسلام میں صدقہ کرنے کے بہت ٍفضائل ہیں ،
اور ان فضائل کو میں نے اور میرے فیملی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے لیکن کراچی میں گدا گاری اور مانگنے کی عادت کثرت عام ہوتی جا رہی ہی .
ٹھیک ایک ماہ پہلے جب ڈیفنس فیز 2 میں ایک ریسٹورنٹ سے ڈنر کر کے میں اپنی ماما کے ساتھ اپنے ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی تو ایک 19‎ ، 20 سالا ویل ایجوکیٹڈ اور گڈ لُوکنگ لڑکی ہمارے پاس آئی ،
اس نئے ہَم سے انگلش میں بات چیت شروع کی اور کہا کے وہ فیز 4 میں رہتی ہے اور اس کا پرس کہیں گر گیا ہے جس وجہ سے نا اس کے پاس پیسے ہیں نا موبائل فون ،
اس لڑکی کو دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کے وہ جھوٹ بول رہی ہے ، اِس لیے میری مما نے اسے 500 روپے دیئے کے وہ با آسانی اپنے گھر پہنچ جائے ،
ابھی اِس بات کو 2 سے 3 منٹ گزرے تھے کے ایک صاحب نے ہمارے پاس آکر گھڑی روکی اور کہا کے ابھی جو لڑکی آپ کے پاس کھری تھی وہ کچھ پیسے لائے کر تو نہیں گئی نا ؟
ہَم حیران رہ گئے کے یہ کیا ماجرہ ہے ، ہَم نئے کہا جی ہَم نئے اسے 500 دیئے ہیں ،
ان صاحب نے بتایا کے وہ لڑکی ابھی 5 منٹس پہلے ان صاحب کو بھی یہیں کہانی سنا کر 1000 روپے لے کر گئی ہے ،
اِس کا مطلب وہ ایک پیشہ وار لڑکی تھی جو پڑھے لکھے لوگوں کو انگلش میں بات کر کے بے وقوف بنا رہی تھی ،
دَر حقیقت ہمیں ان 500 کا کوئی غم نا تھا لیکن ہمیں یہ افسوس تھا کے ایسے دھوکے بازوں سے جو حقیقت میں ضرورت مند ہوتے ہیں وہ محروم ہو جاتے ہیں ،
پِھر ایسی طرح 2 ہفتے پہلے ، میں کالج سے جب واپس آ رہی تھی ، تو رستے میں ایک چھوٹا سا 7 ، 8 سالا بچہ بیٹھا رُو رہا تھا اور ساتھ ہی اسکی سموسے کی تھال رکھی ہوئی تھی ،
میں نے جب اُتَر کر پوچھا کے کیا معاملا ہے کیوں رَو رہے ہو ؟
تو اس نے بتایا کے ایک موٹر سائیکل والا تیزی سے بائیک چلا رہا تھا اور اس کا ہینڈل بچے کی جیب میں پھاسنے کی وجہ سے اس بچے کا تھال گر گیا ،
اور آدھے سے زیادہ سموسے ضائع ہوگئے ،
اب اس کا مالک اسے زنجیر سے ماریگا ،
میرا دِل خون کے آنسو رونے لگا اور میرے پرس میں سے میں نے 1500 روپے نکل کر دے دیا ،
مجھے پتہ تھا اتنا سا بچا جھوٹ نہیں بول سکتا اور کبھی دھوکہ نہیں دے سکتا ،
لیکن کچھ ہی دن میں فیس بک کے ایک گروپ میں دیکھا تو پتہ چلا کے وہ بچہ ڈیفنس میں جالیاں بَدَل بَدَل کر یہی ڈرامہ کرتا ہے ،
اور وہ اکیلا نہیں ہوتا اس کے آس پاس اس کے گروپ کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ،
اس دن کے بَعْد سے آج تک مجھے جب بھی ڈونیشن دینا ہوتا ہے میں کسی ویلفیئر میں دے آتی ہوں .
یہ کوئی اردو کہانی تو نہیں ہاں ہَم سب کے لیے ایک سبق ضرور ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.