بدتمیزاسلم 130

بدتمیزاسلم

اسلم کے گھر کی گھنٹی بجی تو امی نئے اسے دروازہ کھولنے کو کہا ، تو اسے پِھر غصہ آگیا ،
“میں ہی بار بار دروازہ کھولوں ، آپ باجی سے کیوں نہیں کہتی کے وہ بھی تو دروازہ کھول سکتی ہیں” ، اسلم نئے منہ بیغارتے ہوئے کہا ،
“بیٹا شام کے وقت تو آپ کے ہی دوست آتے ہیں ، آپ کے ساتھ کھیلنے اِس لیے میں نے آپکو آواز دی” ، امی نئے شفقت بھرے اندازِ میں کہا ،
“اچھا اچھا ٹھیک ہے ، جا کر کھول دیتا ہوں میں ہی” ، وہ پیر پٹختے ہوئے دروازہ کھولنے چلے گیا ،
“اسلام و علیکم ، کیسے ہو اسلم ، تم نئے کھلونے نکال لیے ہیں نہ ؟ ” اس کے دوست روہاب اور تیمور نئے پوچھا .
“ہان نکال لیے ہیں” ، اسلم نئے بدتمیزی سے جواب دیا ،
“کیا ہُوا ہے اسلم ، اِس طرح کیوں بات کر رہے ہو آج تم ؟ ” ، دونوں دوستوں نئے حیرت سے پوچھا ،
“کچھ بھی نہیں ہُوا ہے ، چلو کھیل شروع کریں” ، اس نے غصے سے ڈانٹ بچینچتے ہوئے کہا ،
پِھر تینون آپس میں کارز والے کھلونوں سے کھیلنے لگے ،
تینون نے گاڑی کی ریس لگائی تو تیمور کی گھڑی جیت گئی ، روہاب اور اسلم ہار گئے ،
اسلم نئے اپنی گھڑی اٹھا کر پٹخ دی تو وہ ٹوٹ گئی ، “میری گاڑی خراب تھی اِس لیے میں ہار گیا” ، اسلم نے چلاتے ہوئے کہا ،
“تیمور تم بے ایمان ہو اور بے ایمانی سے جیتے ہوو” ، اسلم نئے جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا ،
اتنے میں اسلم کی بڑی بہن سونیا آپی بھی نماز پڑھ کر آگائیں ،
“کیا ہُوا اسلم آج آپ اِس طرح کیوںسب کے ساتھ کر رہے ہیں ؟ ” انہوں نئے پیار سے پوچھا
“آپی میری گاڑی آج پِھر ہار گئی ، تیمور ہمیشہ جیت جاتا ہے ، وہ بے ایمانی کرتا ہے” ، اسلم نئے روتے ہوئے کہا
“نہیں اسلم ایسا نہیں ہے ، ادھر آؤ میرے اچھے بھائی ، میں تمہیں سمجھاتیں ہون” ، آپی نے اسلم کو پیار کرتے ہوئے سمجھانا شروع کیا
“پہلی بات تو یہ ہے کے بلاوجہ کا غصہ کرنا ، امی کے سامنے آواز بلند کرنا اور مہمانوں سے بدتمیزی کرنا بہت بڑا گناہ ہے” ،
“جب امی نئے آپکو گیٹ کھولنے کا کہا تو وہ کپڑے سی رہی تھیں اور میں نماز پڑھ رہی تھی” ،
“اکثر آپ دوپہر میں اسکول سے آنے کے بعد سوئے ہوتے ہو تو میں یا امی ہی گیٹ کھولنے جاتے ہیں” ،
“دوسری اور اہم بات یہ ہے کے تیمور آپ سے عمر میں بڑا ہے اِس لیے اس میں آپ سے زیادہ طاقت ہے” ،
“جب آپ سب گاڑی کو دھکہ مارتے ہو تو تیمور کی زیادہ طاقت کی وجہ سے اسکی گاڑی دوڑ تک جاتی ہے اور وہ جیت جاتا ہے” ،
“اپ نئے تیمور پر بہتان لگایا اور اس سے بد تمیزی کی جو اللہ پاك کو سخت نا پسند ہے” ،
“اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کے ہَم کسی پر بھی بہتان نا باندھیں اور نا ہی کسی کا دِل دویکھایں” ،
“چلو جلدی سے تیمور سے معافی مانگو ، اور ہاتھ میلاو” ،
اسلم اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھا ، اسنے تیمور اور امی سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کے آئندہ وہ کسی پر بھی بہتان نہیں لگائیگا نہ ہی کسی سے بد تمیزی کرے گا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.