انسپیکٹر سنیل 149

انسپیکٹر سنیل

آج انسپیکٹر سنیل کے پاس ایک بہت انوکھا کیس آیا تھا ، انہوں نئے جب کیس کی ڈیٹیلز پڑھیں تو وہ خود بھی چونک پرے ، کیس دَر اصل تھا ہی کچھ ایسا کے کسی بھی عام فہم کے لیے ہضم کرنا دشوار تھا ،
آج صبح ایک ایک کر کے 3 ماں باپ ایک ہی قسم کی روپوڑٹ درج کروا کر گئے کے ان کے بچے اغوا ہو چکے ہیں ،
انسپیکٹر سنیل ممبئی کے ایک بہت جانے مانے اور قابل پولیس آفیسر تھے ،
دراز قد اور مصبوط جسم کے مالک ہونے کی وجہ سے ان کا پورے ممبئی شہر پر دبدبہ تھا ،
انسپیکٹر صاحب نے اِس کیس کا چارج خود سنبھالا اور تفتیش پر نکل پرے ،
سب سے پہلے وہ ان بچوں کے گھر گئے تاکہ تاکہ معاملہ سمجھ سکیں ،
ان تیننوں گھر والوں سے باری باری کر کے تفتیش شروع کی ،
ان تمام گھر والوں سے پوچنے پر پتہ چلا کے نا تو ان تینون بچون کا آپس میں کوئی تعلق ہے نا ہی وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ،
پروسیوں اور محلے داروں سے بھی کوئی خاص جان کاری نا مل سکی ،
انسپیکٹر صاحب نئے پورے ممبئی شہر میں ناکہ بندی لگا دی کے شاید وہ اغوا کار ہاتھ آجائیں لیکن وہ بھی بے سود رہا ،
انسپیکٹر صاحب کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے کہاں سے کیا سراغ لگائیں ،
ایک ہفتے کی محنت بَعْد بھی کچھ بھی حاصل نا ہوسكا ،
انسپیکٹر سنیل نئے پورے کیس کی پِھر سے چھان بین شروع کی ، کیوں کے اب یہ معاملہ صرف ممبئی نہیں بلکہ پورے بھارت شہر میں پھیل چکا تھا ،
وہ ان بچون کے گھروں پر پِھر سے گئے ،
طویل اور تھکا دینے والی چھان بین کے بَعْد سنیل صاحب کے سامنے ایک دلچسپ حقیقت آئی ،
پہلے بچہ وشال جس کی عمر 13 سال تھی ، وہ اغوا ہونے سے پہلے آخری دفعہ اپنے کمرے میں گیم کھیلتا دیکھا گیا تھا ،
دوسرا بچہ آکاش جو کے 12 سال کا تھا وہ بھی اسکول سے صحیح سلامت گھر پہنچا تھا اور اسے بھی ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت تھی ،
اور تیسرا بچہ راکیش وہ بھی گھنٹوں بیٹھ کر اپنا موبائل فون پر گیمز کھیلا کرتا تھا ،
انسپیکٹر سنیل پوری محنت ، ایمانداری اور لگن سے کام میں جوتے ہوئے تھے ، نا ہی اپنے كھانا کا ہوش تھا نا ہی گھر جانے کا ،
انہوں نئے 3 بچوں کے انٹرنیٹ پرووائڈرز سے معلومات نکلوای کے وہ بچے کون کون سے گیمز کھیلتے تھے ،
میڈیا والوں نئے انسپکٹور صاحب کا اِس بات پر بہت مذاق بنایا کے اب یہ دن آگئے ہیں کے ممبئی پولیس گیمز سے بچوں کو بازیاب کروائے گئی ،
انسپیکٹر سنیل نئے ہر دفعہ کی طرح کسی کو کوئی جواب دینا مناسب نا سمجھا اور پوری لگن سے اس کیس پر کام کرتے رہے ،
تینوں بچوں کے انٹرنیٹ پرووائڈرز اور ٹوپ لیول کے گیمرس نئے بتایا کے لاسٹ ٹائم بیٹل اون لائن نام گیمنگ ایپلی کیشن یوز کر رہے تھے ،
سنیل صاحب نئے ممبئی کے بارے بارے گیمرز سے بیٹل اون لائن نامی گیمنگ ایپلی کیشن کی پوری جان کاری حاصل کی ،
وہی گیم انہوں نئے اپنے 11 سالا بیٹے ارجن کو انسٹال کر کے دی اور روز کھیلنے کو کہا ،
پورے ملک کی عوام اور بچوں کے والدین انسپیکٹر سنیل کے اوپر بہت غصہ تھے ،
کے بچون کو بازیاب کروانے کی بجائے وہ اپنے بیٹے ارجن کو گیمز کھیلوا رہے ہیں ،
3 دن تک ان کا بیٹا وہ گیم کھیلتا رہا لیکن چوتھے دن جب انسپیکٹر سنیل صبح اُٹھے تو انکا بیٹا ارجن اپنے کمرے میں موجود نا تھا ،
یہ اِس کیس میں بہت سنجیدہ مور تھا ،
انسپیکٹر کا اپنا ایک ہی اکلوتا بیٹا بھی اغوا ہو چکا تھا ،
انسپیکٹر صاحب کو ساری کہانی سمجھ آگئی تھی ، انسپیکٹر صاحب بڑی تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھے ،
اور کسی نا معلوم جگہ کی سمت اکیلے ہی روانہ ہوگئے ،
وہ ایک خطرناک اور سنسان جنگل میں جا پہنچے ،
وہاں پہنچ کر انکی نظر ایک پرانی سی جونپری پر پڑی ،
اِس سے قبل وہ اس جونپری کے اندر گھستے ، ان کے پاؤں میں کوئی چیز پھنس گئی ،
وہ ایک خوفیہ جال تھا جو درخت کے پتوں کے درمیان چھپایا گیا تھا ، اور درخت سے باندھا گیا تھا ،
انسپیکٹر صاحب اب اس جال میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کو چاروں جانب سے درجنوں نقاب پوشوں نے غیر لیا تھا ،
سب کے ھاتھوں میں بڑی بڑی ریفلیس ( باندوکیں ) تھیں ،
ان نقاب پوشوں میں سے ایک نئے ایک زور دَر قہقہ بلند کیا “حاحاحاحاحا” ،
تو ہے یہ ممبئی کا جانا منا انسپیکٹر سنیل جو ہَم کو پکڑنے آیا تھا ،
انسپیکٹر سنیل ہاتھ پیر ہلا رہے تھا ، کے شاید کسی طرح وہ اِس جال سے آزاد ہوجائیں ،
وہ سب سنیل صاحب کی اِس بےبسی کو دیکھ کر زور زور سے ہنس رہے تھے ،
ان کے چیف نئے سنیل سب سے پوچھا کے وہ اِس جگہ کیسے پہنچا ؟
انسپیکٹر صاحب نئے کہا میں نے اپنے بیٹے کا بالوں میں ایک چپ اور ایک کیمرہ لگایا تھا ،
اور اسی کی مدد سے انہوں نئے وہ چپ اور کیمرہ ٹریک کیا اور اِس لوکیشن پر پہنچے ،
بہت خوب سنیل صاحب ، “لیکین تمہارا کھیل ختم” ، ان کے چیف نئے ایک اور زور دَر قیہہ بلند کیا ،
تمہارا بیٹا دوسرے بچوں کی طرح ہماری قید میں ہے اور تم سب کا آخری وقت آ چکا ہے ،
یہ کہہ کر اسنے اپنی بندوق اس درخت کے اوپر تان لی جہاں انسپیکٹر سنیل جال میں پھنسے ہوئے تھے ،
ابھی وہ بندوق کا ٹریگر دبانے ہی والا تھا کے اچانک ایک زور دار دھماکہ ہُوا اور شدید فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگیں ،
انسپیکٹر سنیل کی ٹیم نے آگاءکاروں پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا تھا ،
انسپیکٹر سنیل بھی اِس چیز کا فائدہ آٹھا تے ہوئے جال طور کر نیچے آگئے اور ان نقاب پوشوں کا مقابلہ کرنے لگے ،
1 گھنٹے تک مسلسل مقابلا ہونے کے بَعْد وہ سارے اغواكار مرے گئے اور ان کا چیف زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا ،
انسپیکٹر سنیل کی پوری ٹیم وہاں موجود تھی اور انسپیکٹر اور اسکی ٹیم نئے چاروں بچوں کو با حفاظت بازیاب کروا لیا ،
اِس مقابلے پر انسپیکٹر سنیل نئے بے حد بہادری اور شجاعت سے کام لیا تھا اور اکیلے ان آگواءکاروں کے گھر میں گھس گئے تھے ،
اِس لیے ان کے کندھے میں بھی ایک گولی لگی تھی ،
انسپیکٹر صاحب کو فوراََ ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال پہنچایا گیا ،
اگلے ہی دن انسپیکٹر اپنی صحت کی پرواہ کیا بغیر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور اس چیف سے تفشیش شروع کر دی ،
تفتیش پوری ہونے کے بعد جب انہوں نئے میڈیا سے بات شروع کی تو پورے انڈیا کی عوام کے آنکھوں میں آنسو تھے ،
انہوں نے میڈیا کے سامنے کہا “یہ ایک ایسا گروپ تھا جو ویڈیو گیمز کے ذریعے بچوں کو ہپنوٹاز کرتا تھا ، پِھر انہیں اسی گیم کے ذریعہ اپنے جنگل والے اڈا پر بلاتا تھا ، ”
“ بچےکو یہ ہوش ہی نہیں ہوتا تھا کے وہ کس کے کہنے پر ان کے پاس جا رہا ہے”
“بچوں کو اغوا کرنے کے بَعْد ان کا اِرادَہ تھا کے یہ ان بچون کو کسی دوسرے ملک جا کر بیچدینگے”
“میں جب انڈیا کے بارے بارے لیول کے گیمرس کو بلایا تھا تو اسی دن مجھے یہ بات سمجھ اگی تھی”
“لیکن میں نے آپ میڈیا والے لوگوں کے سامنے یہ بات اِس لیے نہیں کی کیوں کے آپ لوگوں نے اپنی بریکنگ نیوز کے چکر میں ، ان اغوا کاروں تک یہ بات پہنچا دی”
“میں اپنے اکلوتے بیٹے ارجون کی جان کو خطرے میں اِس ملک کے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے ڈال دیا”
“میں نئے اپنے بیٹے اور اپنے بالوں میں چپ چھپائی تھی تاکہ مجھے ان اغوا کاروں کے اڈا کا پتہ چل سکے”
“میں جب اکیلا نکلا تھا تو اس وقت میری ٹیم مجھے اس چپ کے ذریعہ فولو کر رہی تھی ، ”
“میں جان بوجھ کر اپنی ٹیم کو پیچھے رکھا تھا تاکہ اگر وہ لوگ مجھے مار بھی دیں ، تو پوری ٹیم کا بیک اپ پیچھے موجود ہو اور ان بچوں کو کچھ نا ہوں ، ”
یہ باتیں سن کر میڈیا والون نے ان سے معافی بھی مانگی ، اور انکی اس بے مثال بہادری پر پورے ملک کی عوام نئے اُنکی بے حد تعریف کی ،
انسپکڑر سنیل کے کارنامے کی وجہ سے انہیں انڈیا کی خوفیہ ایجنسی راہ میں شامل کر لیا گیا اور آج وہ پوری لگن سے اپنی تنظیم راہ کے لیے خدمات انجام دئے رہے ہیں ،
اور انکا بیٹا ممبئی کا انسپیکٹر ہے اور لوگ اسے پیار سے سنیل جونئیر کہہ کر پکارتے ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.