دوسرا زوایہ 128

دوسرا زوایہ

چند سیکنڈز میں ہی اسنے گھر کی چابیاں ہمارے حوالے کر دیں اور تیزی سے صحن کے باہر نکل گیا .
اسلام آباد سے ہماری شفٹنگ کا آج 5 واں روز تھا اور ہمارای تَوَقُّع کے بار عکس ہمیں ان 5 دنوں میں ہی کراچی کے ایک پوش علاقے میں کرائے کا گھر مل چکا تھا .
ہَم اسے اپنی خوش نصیبی کہہ لیں یا محض ایک اتفاق کے اتنے بڑے اور پر ہجوم شہر میں ہمیں گھر بآسانی مل چکا تھا .
گھر کافی کوشادا اور صاف ستھرا تھا . چار بڑے بڑے کمروں کے ساتھ ایک طویل الاارض صحن اپنی مثال آپ تھا .
گھر کا کرایہ بھی ہماری تَوَقُّع سے کافی کم تھا اور ایک دور کی رشتداری نکل آنے کی وجہ سے ہَم بروکیرس کے بھری کمیشن سے بھی اپنے آپ کو بچنے کی کوشش میں کامیاب ہو چکے تھے .
زندگی کا پیہ کچھ دنوں میں شروع ہو چکا تھا .
( شارق ) میرے خاوند جو کے پیشے کے حساب سے ایک نیوروں سرجن ہیں انہوں نے اپنے ٹرانسفر آرڈر کے مطابق سیول اسپتال میں اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے .
( اینی ) بڑی بیٹی جو کے ماسٹرز سے فراغت کے بَعْد کتابی کییروں کی طرح کتابیں چاٹا کرتی تھی اچھا موقع ملنے کی وجہ سے ایک کالج میں ٹیچر لگ گئی .
اب بچی میں اور ( فیضان ) ہمارے شہزادے جو کے اپنے آپکو کبھی عاطف اسلم سمجھتے ہیں تو کبھی سونغم ، پڑھائی کے بَعْد اپنے پیانو اور گٹار سے ہر وقت ہمارے گھر کو ایک کنسرٹ ہال بنائے رکھتے ہیں ،
انہوں نے بھی اپنے یہ فرائض نیبانے کا پرجوش اور باقاعدہ آغاز سے باخوبی کر دیا تھا .
بچی میں جو کہنے کو تو ایک ہاؤس وائف تھی لیکن دنیا بھر کے فلاحی کامون کو نبھانا میرے لیے گویہ کے فرائض اول میں عطا تھا .
کسی کی شادی سے لے کر کسی کی نوکری لگانے تک تمام شوبوں میں میں نے بے انتہا خدمت سَر انجام دی ہیں .
ہَم لوگوں کے اب اِس نئے آرامگاء میں 3 ماہ بیت چکے تھے ، اِس دوران میں نے کچھ غیر معمولی اور گھر فتری باتیں محسوس کی ،
جنہیں شروع میں تو میں نئے گھر میں آنے کی وجہ سے اپنا وہم سمجتی تھیں لیکن اب ان چیزوں کو خاموشی سے برداشت کرنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا .
آج رات پِھر سے فیضان کا پیانو وہی دھن بجا رہا تھا جو ہمارا یہاں شفٹ ہونے کے دوسرے روز میں نے سنی تھی .
میں حسب معمول اپنی جگہ سے اٹھ کر دیکھنے پہنچی تو نا وہاں فیضان موجود تھا نا ہی وہاں کوئی دھن بج رہی تھی .
میرے بستر پر پہنچتے ہی وہ دھن پِھر اسی طرح بجنا شروع ہوگئی . یہ رات بھی میں نے بے چینی اور پریشانی کے عالم میں گزر دی .
میرا دَڑ غصے میں اس دن بَدَل گیا جب ایک دن ہَم گھر والے ایک ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے اور اچانک اسی وقت ہمارا کیبل بند ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری گھر کی سری لائٹس کوئی پانچھ منٹس کے لیے ہمارے ساتھ آنکھ ماچولیاں کرتی رہیں ،
میری حیرت کی انتہا اس وقت پار ہوگئی جب شارق نئے الیکٹریشن کو اور کیبل آپریٹر کو فون لگانے کے لیے اپنا سیل فون اٹھایا اور ان کے موبائل میں ایک بھی سگنل نہی آرہا تھا .
یہی میرے اور بچوں کے موبائلز کے ساتھ بھی ہُوا . مجھے یوں محسوس ہُوا جیسے ہمارا دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے .
تقریباً 15 منٹس کے بعد ہماری سری چزیں یکایک بعد خود سے نارمل ھونا شروع ہوگئیں .
میں نے اس رات 3 مہنیوں میں ہونے والے تمام واقعات بڑی تفصیل سے شارق کے گوش گوار کیے .
اسے یہ باتیں محض ایک اتفاق سے زیادہ کچھ نا لگیں .
شارق نے مجھے بڑے اچھے اور مثالی اندازِ میں ہر واقیی کے پیچھے ایک عقلی دالیل پیش کی جو کے ایک عام فہم انسان کے لیے بھی قبول ہو سو میں نے ان تمام واقعات کو محض ایک اتفاق سمجھ کر جھٹلا دیا .
ایک رات میری آنکھ اس پیانو کے دھن کی وجہ سے نہیں بلکہ گھر والوں کے شور کی وجہ سے کھلی اور اِس دفعہ میں نے نہیں بلکہ سارے گھر والون نے سٹورروم میں کسی کی باتیں کرنے کی آواز کے ساتھ ساتھ اسٹور روم سے ایک انتہائی تیز سفید روشنی بھی نکلتی دیکھی .
مجھ سمیت سارے گھر والے سہمے ہوئے تھے . سب نے واظاف پڑھ کر رات بسر کی اور اگلے دن مسجد کے امام صاحب کو گھر بھولوا کر سارا ماجرہ سنایا .
مسجد کے امام صاحب نے پڑھا ہوا پانی ہمیں پینے کے لیے اور دیوارون پر چیراکنے کے لیے دیا اور ہَم سے اِجازَت لی .
کچھ دنوں تک ہمارے گھر میں پِھر سے حالات مامعول کے مطابق چلتے رہے لیکن اِس دفعہ جو ہمارے ساتھ ہُوا وہ کسی بھی انسان کے رونگٹے کھرے کرنے کے قابل ہو گا .
اِس دفعہ جب ہَم سب گھر والے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے تھے تو پِھر سے کیبل بند ہوگئی لیکن اِس دفعہ نا صرف کیبل بند ہوئی بلکہ سارے چینلز پر عجیب سے لکیروں کے ساتھ ساتھ کچھ الفاظ بھی لکھے ہوئے آرہے تھے اور ساتھ میں کوئی دِل دیہلا دینے والی آواز .
سب سے زیادہ ڈرا دینے والے مناظر کچھ چھوٹے قد کے ہاوالے تھے جو دھواں کی مانند تھے . میں نے اپنے موبائل سے اس ٹی وی اسکریں کی کافی دفعہ فوٹوز لینے کی کوشش کی لیکن میرے موبائل کے کیمرہ آخر تک نہیں چلا .
اِس تمام صورت حَال کو دیکھنے کے بعد ہمیں دَڑ لگنے کی بجائے ہنسی آرہی تھی . ہَم سب گھر والے اِس طرح ہنس رہے تھے جیسے کے کوئی کومیڈی شو دیکھ رہے ہوں اور اسی طرح ہَم ہنستے ہنستے اسی کمرے میں سو گئے .
جب اگلے روز سورج کی کرنوں نے آنکھوں کے پردوں پر دستک دی تو میں نے گھڑی دیکھی .
دوپہر کا 1 بجنے کو تھا ، میں نے ایک ایک کر کے گھر والوں کو جگایا تو ہَم سب ایک دوسرے کے منہ حیرت سے تک رہے تھے .
گھر کے ہَم چاروں فرد یہی سوچ رہے تھے کے کل رات جو ہُوا محض ہو ایک خواب تو نہیں تھا ، لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا .
ہَم نے تقریباً پورا دن اس پوری صورت حَال کو سمجھنے میں گزارا لیکن سب سے دلچسپ بات یہ تھی کی ہمارے دِل میں اس رات کے واقعی کی وجہ سے کوئی خوف نہیں تھا .
وہ رات ہماری اس گھر میں آخری رات تھی . میرے خاوند ، بیٹی اور بیٹے کو وہ گھر جیننات کا گھر لگتا تھا لیکن میری چھٹہ حس کچھ اور کہتی تھی .
میرے مطابق وہاں جیننات نہیں بلکہ کسی دوسرے عالم کی مخلوق کا اثر تھا اور میرے پاس اس کی ایک سب سے بڑی وجہ ہَم سب کا ہسنا اور وہ پر سکون نیند ہے .
ہَم انسانوں نے فلمز اور ڈراموں کی وجہ سے الیینس کو ہماری ہی طرح ایک جسمانی وجود دئے دیا ہے لیکن ان وقعت کو دیکھ کر مجھے اِس بات کا غالب گمان ہے کے وہ مخلوق غیر مررای بھی تو ہوسکتی ہے
کیوں کے جس طرح اس نے ہمارے تمام برقی آلات کو قابو کیا وہ جیننات یا تو کر نہیں سکتے یا پِھر میرے علم میں آج تک یہ بات نہیں گزری .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.