بچوں کا کلب 46

بچوں کا کلب

آج سامر جب اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنے گیا تو ، حیا نئے اسے بتایا کے وہ چلڈرن کلب بنا رہی ہَیں ،
کیا وہ ان کے ساتھ شامل ھونا چاہے گا ؟ ،
سامر نئے پوچھا “کلب میں کیا ھوگا اور اُس کا کیا فائدہ ہے ؟ ” ،
حیا نئے بتایا کلب کی لیڈر میں ہونگی ، میں جو جو گیمز باتاونگی اُس دن ہَم وہ گیم کھلیں ،
سارے بچون کو ٹھیک 5 بجے گراؤنڈ میں آ جانا ھوگا اور ہَم 6 بجے تک ساتھ کھلیں ، سامر حیا کے اِس آئیڈیا سے بہَت خوش ہُوا ،
اور اسنے فوراً کلب ممبر بننے پر رضا مندی ظاہر کر دی ،
اگلے دن سارے بچے ٹائم پر پہنچ گئے ، سامر کے علاوہ ، شایان ، سفیان ، احمد اور یوسرا بھی آگئے تھے ،
حیا نئے بتایا “اج سب فٹبال کھلیگے” ،
سارے بچے خوشی خوشی فٹبال کھیلنے لگے ،
فٹبال کھیلتے کھیلتے شایان کا معمولی سا دھکہ لگنے پر حیا گر گئی ، اسنے زاور زاور سے رونا شروع کر دیا ،
اِس سے پہلے کے باقی دوست کچھ کہتے ،
حیا نئے شایان کو اُسی وقت کلب سے نکل دیا اور کہا کے “کلب کے رولز کے مطابق کوئی بھی کسی کو دھاکہ دیگا تو وہ کلب سے اوٹ” ،
“ایسا کوئی رول تو تم نے نہیں بتایا تھا ، اور میں نے جان بوجھ کر تو دھکہ نہیں دیا تھاا” شایان نئے اُداس ہوتے ہوئے کہا ،
“ہاں نہیں بتایا تھا لیکن یہ میرا چلڈرن کلب ہے تو رولز میں ہی بناؤنگی اور جب دِل چاہے گا بتاؤنگی” ، حیا نئے بلند آواز میں کہا .
اگلے دن سارے بچے 5 بجے گراؤنڈ میں پہنچ گئے لیکن یووسرا 5 منٹس لیٹ ہوگئی ،
“تم لیٹ ہوگئی ہو یووسرا” ، حیا نئے استانیوں والے اندازِ میں پوچھا ،
“ہاں وہ میں . . ، ”
حیا نئے اُس کی بات کاٹ دی ،
“تم لیٹ ہوگئی ہو اِس لیے تُم کلب سے اوٹ” ،
“لیکن… . . ”
حیا نئے اسے ہاتھ کے اشارے سے دور جانے کا کہہ دیا ،
یووسرا روتے ہوئے گھر چلی گئی ، سامر کو یہ بات بہَت بری لگی ،
اسنے کہا “حیا یہ مناسب طریقہ نہیں ہے کسی سے بات کرنے کے ، دوسروں کی دِل آزاری کرنے سے اللہ بہَت ناراض ہوتا ہے اور بہَت سخت گنا دیتا ہے” ،
“اگر اللہ پاك ہَم سے ناراض ہو گیا تو قیامت کے دن ہمیں جہنم کی اگ میں جالایگا” ، سامر نئے سمجھاتے ہوئے کہا ،
“تو اِس کا مطلب یہ نہیں کے ہَم کلب کے رولز کو فولو نا کریں ، اگر میں گروپ کے رولز بریک ( تاورنے ) والوں کو سزا ( پنشمنٹ ) آہی دونگی تو وہ بار بار رولز تاورنگی” ، حیا نئے جوابی دلیل پیش کی ،
یہ کہہ کر سامر ، سفیان اور احمد ، حیا کے ساتھ کھیلنے لگے ،
حیا نے کہا “اج سب اپنی اپنی سائیکل لے آئیں ، ہَم آج سیکلنھگ کر یں گئے” ،
میری سائیکل کی چین ٹوٹی ہوئی ہے ، پاپا نئے کہا ہے سنڈے کو بنوا نیگے” ، سفیان نے ڈرتے ہوئے کہا ،
“تم بھی اِسی وقت کلب سے آوٹ ہوتے ہو کیوں کے کلب کے ہر ممبر کے پاس ہر کھلونا وقت پر تیار ھونا چاہئے” ،
“مگر…”
“مجھے کچھ نہیں سننا ، جو اِس کلب کے رولز فولو نہیں کرے گا وہ اُسی وقت آوٹ کر دیا جاییگا” ، حیا نئے دھمکی آمیز اندازِ میں کہا ،
“لیکین تُم نئے تو کل کسی کو نہیں بتایا تھا کے سائیکل سے کھلینا ہے” ، سامر نئے حیا سے منہ چڑا کر بات کی ،
“ہاں لیکن اگر میں بتا دیتی تو کیا فائدہ ، میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کے اِس کلب کے ممبر کتنے ایکٹیو ہیں” ، حیا نئے سامر کو غصے سے دیکھا ،
“لیکین . . ” حیا نئے سامر کی بات کاٹ دی ،
سامر کو بہَت غصہ آیا اسنے کہا “مجھے نہیں رہنا اِس کلب میں” ،
سفیان نئے بھی سامر کا ساتھ دیتے ہوئے کہا ، “میں بھی اِس کلب میں مزید نہیں رہنا چاہتا” ،
سامر نئے سارے دوستوں کو جمع کیا ان سب کے کان میں ایک بات کہی ، جس سے سارے دوستوں کے چہرون پر مسکراہٹ اجیی ،
اگلے دن سارے دوست 5 بجے گراؤنڈ میں جمع ہواگئے اور آنکھ مچولی کھیلنے لگے ،
حیا بھی ان سے دور اپنی سائیکل چلانے لگی ،
حیا بار بار ان سب کی طرف حَسْرَت سے دیکھتی کیوں کے وہ اکیلی تھی اور دوسری طرف سارے دوست مل جل کر کھیل رہے تھے اور خوب مزا کر رہے تھے ،
کچھ منٹوں کے بَعْد حیا ان سب کے پاس آئی اور کہنے لگے ، “میری کلب میں پِھر سے کون کون انا چاہے گا ؟ ” ،
“جو میرے کلب میں آئیگا ، میں اسے بڑی والی چاکلیٹ گفٹ کرونگی” ،
اُس کی بات کس بھی بچے نے جواب نا دیا اور سب کھیل میں مصروف رہے ،
حیا ایک گھنٹا تو وہیں کھری رہ کر روتی رہی ، لیکن وہ سارے دوست ہنسی خوشی کھیل میں مگن تھے ،
جب 6 بج گئے تو سب بچے جانے کی تیاری کرنے لگے ،
جب سب بچے جانے لگے تو سامر نئے ان سب کو ایک منٹ کے لیے رکنے کا کہا اور خود حیا کے پاس جا پہنچا ،
اُس کے پیچھے پیچھے سارے دوست بھی حیا کے ارد گرد جمع ہوگئے ،
“کیوں رَو رہی ہو حیا ؟ سامر نئے پیار سے پوچھا ،
“کیوں کے کوئی بھی میرے کلب میں نہیں آناچاہتا ، سب دوست تمہارے کلب میں آگئے ہیں” ، حیا نئے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ،
“ہمارا تو کوئی کلب نہیں ، ہَم تو ہر دفعہ کی طرح مل جل کر کھیل رہے تھے” ،
“کیا میں بھی کل سے آپ لوگوں کے ساتھ کھیل سکتی ہوں ؟ ” ،
“ہاں ضرور تُم کھیل سکتی ہوو” ، سارے بچون نئے ایک ساتھ جواب دیا ،
سامر نے سفیان کو اشارہ کیا تو اسنے کہنے شروع کیا
“لیکین نا تو ہمارا کوئی کلب ھوگا نا ہی کوئی رولز ، جس بچے کو جتنے بجے انا ھوگا اور جو گیم کھیلنے ھوگا اسے اُس کی پوری آزادی ہوگی” ،
پِھر سفیان نے یووسرا کو اشارہ کیا تو اسنے بات شروع کی ،
“نا تو کوئی کسی کو نکا ل سکتا ہے نا ہی دانٹ سکتا ہے ، یہ ہمارا کھیلنے کا وقت ہوتا ہے ، اگر ہَم اِس میں اتنے سخت رولز بنا دینگے تو انجوئے کیسے کرینگے ،
اور پِھر دوسروں کا دِل دکھانے سے گناہ الگ میلےگا ،
حیا نئے دوستوں کی یہ باتیں سن کر سب سے معافی مانگے اور توبہ کی کے آیندہ کسی کا بھی دِل نا دوکھونگی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟