دھوکے باز سدرہ 109

دھوکے باز سدرہ

جب وہ کلاس میں پہلی بار آئی ، بس اسی لمحے سے ، میں ہفتے میں ایک بار اس سے ضرور پینسل مانگتا ،
اور کام کر کے لوٹا دیتا ، ایسی وجہ سے مجھے اس سے بات کرنے کا موقع مل جاتا اور آہستہ آہستہ یہ باتیں دوستی میں بدلنے لگیں ،
اس وقت ہَم کلاس 8 کے طلبا علم ہُوا کرتے تھے ،
ہماری دوستی بہت گہری ہو چکی تھی ، ایک منٹ بھی ہمیں فراغت کا ملتا تو ہَم اُسْتانی اور استاد سے نظریں بچہ کر باتیں کرنے لگ جاتے ،
عید ہو ہی کوئی بڑی رات ہَم ایک دوسرے سے پوچھ کر اور ایک دوسرے کی پسند کے رنگوں کے مطابق اپنے کپڑے بناتے ،
پتہ نہیں 2 سال کب گزر گئے اور ہَم نئے میٹرک پاس کر لی ،
ہَم دونوں جانتے تھے کے اب ہَم صرف دوست نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہَیں ،
اور عشق کے سمندر میں اتنی گہرائی میں گھاراک ہو چکے ہَیں ، کے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ،
ہَم دونوں میں سے کسی نئے بھی اب تک ایک دُوسرے سے پیار کا اظہار نہیں کیا تھا ، لیکن ہمارا پیار اِتْنا گہرا تھا کے ہَم دونوں کے سینوں میں دِل بھی ایک ساتھ دھڑکتا تھا ،
لیکن جب ہَم سیکنڈ ایئر میں پہنچے ایک پارٹی کے دوران ، ایک لڑکے نئے سدرہ کے ساتھ بدتمیزی کی ،
جس سے میرا خون کھولنے لگا اور میرے اس لڑکے کی ایسی دورگت بنائی کے پِھر کوئی سدرہ کے آس پاس بھی کوئی نہیں بھٹکتا تھا ،
اور اسی دن سب کے سامنے میں نے سدرہ کو گلے لگا کر پوری کالج کے سامنے اس سے پیار کا اظہار کر دیا تھا ،
ہَم دونوں گلے لوگ کر بہت دیر روئے تھے ، اس واقعی کے بعد سے میں سدرہ کو ہر 5 منٹ بعد میسیج یا کال کرتا تھا ،
اور اس سے پوچھتا تھا کے اسے کوئی تکلیف تو نہیں ؟
اس دن سدرہ کا برتھ ڈے تھا اور میں نے اپنی موٹر سائیکل بیچ کرسدرہ کو اسکی پسند کا موبائل گفٹ کیا تھا ،
سدرہ بہت خوش تھی وہ مجھ سے بار بار لپٹ کر خوشی سے رُو رہی تھی ،
جب میں اسے گھر چھوڑنے کے لیے گیا تو اس نئے مجھ سے ایک عجیب سی بات کہی ،
“آصف تم سے سے زیادہ اِس دنیا میں کسی نئے بھی کسی سے عشق نہیں کیا ہو گا ، لیکن عشق کا ایک دستور ہے کے اگر درمیان میں دوری آجائے تو عشق اور مضبوط ہوجاتا ہے”
“میں کچھ سمجھا نہیں” ، میں نے افسردگی سے جواب دیا کیوں کے میں نے سدرہ کو اِتْنا سریس آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ،
“باات بہت آسان ہے ، تم مجھے ایک دن کے لیے نا کال کرنا نا ایس ایم ایس اور نا ہی ملنے انا ، ایک دن کی دوری چاہتی ہوں مین” ، سرہ نئے میرے دونوں ہاتھ تھامتھے ہوئے کہا ،
“لیکین اِس سے کیا ثابت ہو گا ؟ ” ، میں نے اسکے ھاتھوں کو بوسہ دیتا ہوئے پوچھا ،
“ثابت وابت کا مجھے علم نہیں بس میں یہ چاہتی ہوں ، کیا تم میرے لیے مجھ سے ایک دن کی دوری برداشت کرجاو” ؟ اسنے بھی میرے ھاتھوں کو بوسہ دیا ،
سدرہ کو معلوم تھا کے میں اس کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہوں سو میں نے حامی بھر لی ،
اگلا دن میرے لیے میری زندگی کا سب سے دشوار دن گزرا ، میں خود کو لان تان کر رہا تھا کے میں نے ایسی عجیب خواہش کی حامی کیوں بھری ،
میں منچلوں کی طرح سدرہ کی آواز سننے کے لیے اور یہ جاننے کے لیے تڑپ رہا تھا ،
کے سدرہ کس حال میں ہو گی ، کیا کر رہی ہو گی ، کوئی اس کے آس پاس ہو گا تو نہیں ، اسنے كھانا کھایا ھوگا یا نہیں ؟
خیر خدا خدا کر کے رات کے 12 بجاتے ہی میں نے اسے فون ملایا کے اسے بتا سکوں کے یس آئی ڈو اٹ ( ہاں میں نے کر دکھایا ) ،
لیکن وہ میرے فون نہیں اٹھا رہی تھی ،
میرے دِل بہت سخت گھبرا رہا تھا ، مجھے اتنی ٹھنڈ میں بھی پسینہ آرہا تھا ،
میں نے رات کے قریب 3 بجے یہ فیصلہ کیا کے میںسدرہ کے گھر جا رہا ہوں ،
حالانکہ رات کے اِس پہر میں کسی لڑکی کے گھر جانا مناسب نا تھا لیکن میں مرنے لگا تھا ،
تو اپنی زندگی ڈھونڈنے کی خاطر میں چل دیا ،
سدرہ کے گھر پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی لوگوں کا رش تھا ، میرے دِل ڈوب رہا تھا کے یا اللہ خیر ، کیا ماجرہ ہے ،
میں دیوانہ وار اندر غصہ چلا گیا اِس بات كے پرواہ کیے بغیر کے لوگوں کو کیا جواب دونگا کا میں کون ہوں ،
میری آنکھوں نئے جو نظارہ دیکھا وہ دیکھنے سے پہلے میں زمین کے اندر دہنس جاتا وہ زیادہ بہتر تھا ،
میں چاہتا تھا کے میری روح بھی قضا کر جاتی ،
سدرہ سامنے کفن میں لپٹی مردہ پڑی تھی ، میں داڑیں مار مار کر رُو رہا تھا ،
لیکن میری داڑیں اتنی تیز نا تھیں کے وہ سدرہ کو موت کی آغوش سے واپس چین کر لا سکیں ،
مجھے وہاں کے کچھ مرد حضرت دلاسہ دئے کر باہر لے گئے اور سدرہ کی بڑی بہن ،
جسے ہمارے پیار کے بارے میں پہلے دن سے ہی پتہ تھا ،
اسنے میرے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پرچی دی ، جس میں سدرہ کے آخری الفاظ کچھ یوں تحریر تھے ،
“مجھے پتہ تھا آصف کے تم کر دیکھوؤ گئے ، تم نے میرے بنا ایک دن گزر لیا اب پوری زندگی بھی گزر لینا ، میں اپنے بلڈ کینسر کے سامنے ہار گئی”
“میری گھر والون نئے مجھ سے ہمیشہ یہ بات چھپا رکھی اور پرسو رات مجھے اِس بات کا اِس لیے پتہ چلا کیوں کے میں آدھی مر چکی تھیی”
“شائد مجھے ایک دن کی زندگی اِس لیے ملی کے میں اپنی زندگی کا آخری برتھ ڈے تمہارے ساتھ گزر سکوں”
“تم شادی ضرور کرنا اور مجھے کندھا ضرور دینا تاکہ میری روح کو بھی وہی سکون حاصِل ہو ، جس طرح زندگی میں تم نئے میرے جسم و جان کو سکون میں رکھا تھا”
“تمھاری سدرہ” ،
میری عمر آج 46 سال ہے ، اور میں اپنے بِیوِی بچون کے ساتھ آج بھی مہینے میں ایک بار ضرور سدرہ کی قبر پر جاتا ہوں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.