آدھی پلیٹ 137

آدھی پلیٹ

آدھی پلیٹ
وسیم نئے آج پِھر كھانا آدھا چھور دیا اور دستر خوان سے کھڑا ہو کر اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے چلا گیا ،
وسیم کے امی اور ابو اس کی اِس عادت سے بہت پریشان تھے ، وہ کبھی اپنا كھانا پورا نا کرتا اور پلیٹ ادھوری چھور دیتا تھا ،
امی اور ابو نئے اسے کئی بار پیار اور ڈانٹ کر سمجھایا تھا کے جتنا كھانا كھانا صرف اتنا ہی پلیٹ میں نکالے لیکن وہ تھا کے سنتا ہی نہیں تھا ،
“اممی امی جلدی سے كھانا لگا دیں ، ” وسیم نئے اسکول سے آتے ہی بھوک کا شورمچانا شروع کر دیا ،
“بیٹا ابھی كھانا تیار نہیں ہُوا ہے ، آپ منہ نہا دھو کر فریش ہوجاؤ پِھر كھانا لگاتی ہوں ، ” امی نئے پیار سے کہا .
وسیم کو بہت تیز بھوک لگی تھی لیکن کھانا تیار نا تھا اِس لیے پہلے فریش ہونے کے لیے جانا پڑا ،
وہ بھوک کی وجہ سے راوزنہ کے مقابلے میں 15 من پہلے ہی فریش ہو گیا اور پِھر سے كھانا مانگنے لگا ،
“بیٹا آج گیس کا پریشر پتہ نہیں کیوں کم آرہا ہے ، ابھی 1 ایک گھنٹہ اور لگے گا كھانا تیار ہونے میں ، ” امی نے کچن میں کام کرتے ہوئے کہا .
“کیا مصیبت ہے آج ، میں باہر سے سموسے کھا کر آجاتا ہوں امی ، لائیں مجھے پیسے دیں ، ” وسیم نے منہ بناتے ہوئے کہا .
“بیٹا آج تمہارے پاپا صبح پیسے دینا بھول گئے ہیں اور ڈبیٹ کارڈ میں بھی بیلنس نہیں ہے ، ایسا کرو تم سو جاؤ ، كھانا تیار ہوجائیں گے تو میں اٹھا دونگی ، ” امی نے تسلی دیتے ہوئے کہا .
“اتنی بھوک میں تو مجھے ہرگز نیند نہیں آنی امی ، ” وسیم نئے چینخ کر جواب دیا .
“تو ایسا کرو صرف لیٹ جاؤ سونا مت ، جیسے ہی كھانا تیار ہوتا ہے میں تمہیں آواز دیتی ہوں ، ” امی نے پیار سے سمجھایا .
وسیم جیسے ہی اپنے پلنگ پر لیٹا تھکاوٹ کی وجہ سے اسے نیند آگئی ،
“وسیم بیٹا وسیم ، ” امی نے وسیم کو جگایا ،
امی کے پکارنے پر اسکی آنکھ کھل گئی دیکھا تو شام ہونے لگی تھی اور اسے زوروں کی بھوک لگی تھی ،
“اممی كھانا لگا دیں تاکہ میں كھانا کھا کر کھیلنے جاؤں ، ” وسیم نئے منہ دھوتے ہوئے کہا ،
“بیتا گیس کا پریشر اب تک بَحال نہیں ہُوا ہے ، تو كھانا کیسے دوں ؟ تم ایسا کرو فریج میں دیکھو شاید کچھ کھانے کو مل جائے ، ” امی نے فریج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا .
“اممی فریج میں تو میرا کل کا بچایا ہُوا گندا كھانا رکھا ہے ، اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں ، ” وسیم نئے چیخ کر کہا ،
“اچھا تو پِھر رہنے دو ، رات میں تمہارے ابّا بازار سے کچھ لے آئینگے تو ہَم سب کھا لینگے ، ”
“ابا کو تو آنے میں 4 گھنٹے باقی ہیں امی ، تب تک تو میں بھوک سے بے ہوش ہوجاونجا، ” وسیم نئے چلا کر کہا ،
“میں ایسا کرتا ہوں ابھی کے لیے یہ کل کا میرا بچایا ہُوا كھانا کھالتا ہوں ، ” وسیم نئے یہ کہ فریج کا دروازہ پِھر کھول لیا ،
اور وسیم نئے کل کا بچہ ہُوا ٹھنڈا كھانا كھانا شروع کیا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے پوری پلیٹ صاف کر لی ، اور اس کا پیٹ بھر گیا ،
جیسے ہی اسنے پلیٹ ختم کی ، امی کچن میں سے نِکلِی اور گرما گرم پکوڑے ، چکن بریانی اور کسٹرڈ اس کے سامنے رکھا اور کہا “کھانا تیار ہے”
“لیکن امی آپ تو دوپہر سے کہہ رہی تھیں کے گیس کا پریشر نہیں ہے اور کھا نا تیار ہونے میں وقت لگاگا ؟ ” اسنے حیرت سے پوچھا
“اب تو میرا پیٹ بھر چکا ہے اور مجھے کچھ بھی نہیں کھا نا ، اگر کھا نا تیار تھا تو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ ” اسنے ایک اور سوال کر ڈالا ،
“وہ اِس لیے نہیں بتایا تاکہ تمیں یہ احساس ہو کے جس کھانے کو تم گندا کہہ کر کل رات اور آج دوپہر میں نہیں کھا رہے تھے اور جتنا کھانا تم راوزنہ اپنی پلیٹ میں بچا دیتے ہو وہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کے تمہاری عمر کا ایک انسان پیٹ بھر کے ایک وقت کا كھانا کھا سکے ، ” امی نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ،
“اج وہی کھانا تم نئے ٹھنڈا کھایا جو گرم ہونے کے باوجود تم نہیں کھاتے اور ضایع کر دیتے ہو ، ” امی نئے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ،
“رزق ضایع کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، ان لوگوں کا سوچو جنہیں یہ ٹھنڈا كھانا بھی نصیب نہیں ہے ، ” امی نئے پیار کے لہجے میں یہ جملہ مکمل کہا ،
وسیم کی آنکھوں میں آنسو تھے کے وہ آج تک کتنی باڑ یہ گناہ کر کے اللہ کو ناراض کر چکا ھوگا ،
اس نے سچے پکے دِل سے اپنی امی سے معافی مانگی اور اس دن کے بعد کبھی کھانے کو نا برا کہا نا ہی اپنی پلیٹ آدھی نہ چھوری .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.