روحانی طاقت 61

روحانی طاقت

شیزا ایک 12 سالا بچی تھی جو ہمارے پڑوس میں رہتی تھی ، اس کا گھر سے پر اصرار طور پر لاپتا ہوجانا سب کی سمجھ سے باہر تھا ، میں ایک ایس ایچ او ہونے کے ناطے اور اکرم صاحب کا پرانا دوست ہونے کے ناطے اپنی پوری طاقت اور ذرائے استعمال کر چکا تھا کے ، کے کسی نا کسی طریقے سے شیزا کو واپس لے آؤں لیکن ایسا لگتا تھا کے شاید شیزا کو یا تو آسْمان اٹھا لے گیا ہے ، یا زمین نگل گئی ہے ، شیزا کی امی مسز اکرم کا رَو رَو کر برا حال تھا کیوں کے ایک اکلوتی بچی کا یوں اچانک لاپتا ہوجانا کسی سدمے سے کم نا تھا ، شیزا ایک اچھی اور ذہین بچی تھی آخری دفعہ اسے شام میں بِلڈنگ اپارٹمنٹ میں دوسرےبچوں کے ساتھ کھیلتا دیکھا گیا تھا ، دوسرے بچوں کے مطابق شیزا نے کہا وہ گھر سے پانی پی کر آتی ہے کیوں کے اسے شدید پیاس لگ رہی ہے ، لیکن نا تو وہ گھر آئی ، نا دوبارہ بچوں کے پاس کھیلنے کے لیے واپس آئی ،
میں نے پورے علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو 10 10 بار دیکھ لیا تھا ، پورے شہر میں ناکہ بندیاں لگا دیں ، سی پی ایل سی سے رابطہ کر لیا ، لیکن اس بچی کا کوئی پتہ نا چل سکا ، شیزا کی پر اصرار گمشدگی کو پورا ایک سال بیت چکا تھا اور ہَم سب ہمت ہار چکے تھے ، لیکن ایک دن پوری بِلڈنگ اپارٹمنٹ میں شور سا مچ گیا اور چاروں طرف سے ایک ہی سادہ آنے لگی کے ، شیزا واپس گھر لوٹ آئی ہے ، میں نے جیسے ہی یہ آوازیں سونیں فوراً اکرم بھائی کے گھر بھاگا کے معاملات جان سکوں ، گھر پہنچا تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا ، شیزا کی والدہ مسز اکرم اور اس کے والد اکرم صاحب ، شیزا سے گلے لگ کر رُو رہے ہیں ، اور پوری بِلڈنگ کے لوگ ان کے گھر پر جمع ہیں ، لیکن حیرانگی کی بات یہ تھی کے شیزا ایک ہی بات کہے جا رہی تھی کے آپ سب لوگ کیوں رَو رہے ہیں ، اور ہمارے گھر پر سب لوگ کیوں جمع ہیں ، خیر سارے پڑوسی مبارکباد دینے کے بعد جب گھر چلے گئے تو میں نے بھی اِجازَت چاہی ،
اکرم صاحب نے مجھے رات کے کھانے پر دعوت دی جو میں نے خوشی خوشی قبول کر لی کیوں کے مجھے شیزا کا یہ عجیب رویہ کچھ ہزم سا نہیں ہُوا ، رات کو میں اکرم صاحب کے گھر پہنچا تو وہ دونوں میاں بِیوِی کچھ پریشان سے نظر آئے ، مجھے اکرم صاحب اپنے کمرے میں لے گئے اور دروازے پر کنڈی لگا دی ، جیسے کے وہ کچھ راز کی باتیں بتانا چاہتے ہوں ، اکرم سب نے بتایا کے شیزا وہی کپڑے پہن کر واپس آئی ہے جو اسنے لاپتا ہونے والے دن پہنے تھے ، اور حیرت کی بات یہ ہے کے شیزا بالکل اسی وقت واپس آئی ہے جب ایک سال پہلے وہ اپنے دوستوں کو پانی پینےکا کہہ کر گھر کی طرف آ رہی تھی ،
میں نے اکرم صاحب سے پوچھا کے “شیزا نئے آکر کیاکہا” ؟
انہوں نئے کہا کے “شیزانے صرف اتنا کہا کے ماما جلدی سے پانی پلا دیں بہت پیاس لگ رہی ہے” ،
میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا کے یہ کیسے ممکن ہے کے پورے ایک سال بَعْد بھی کہانی وہیں سے شروع ہو جہاں سے رکی ہو ، مجھے دال میں کچھ کالا محسوس ہو رہا تھا ، میں نے اکرم صاحب سے کہا کے مجھے شیزا سے بات کرنی ہو گی ،
اکرم سب پریشان تھے کے کہیں میں شیزا سے سوالات کر کے اسے ڈرا نہ دوں لیکن میں نے اکرم سب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں تسلی دی ، ہَم دونوں کمرے سے باہر نکل گئے ، اور میں نے کہا ہاں تو شیزا بیٹا پڑھائی کیسی چل رہی ہے ؟
“انکل بہت اچھی ، پتہ ہے آج اسکول میں میں نے ریس میں فرسٹ پوزیشن لی اور سب کو ہارا دیا” ،
میں نے اکرم سب کی دیکھا تو انہوں نئے سَر ہلایا جیسے کے وہ مجھے بتا رہے ہوں کے ٹھیک ایک سال پہلے ایسی دن وہ فرسٹ آئی تھی ، میں نے پِھر گھوما پھرا کا شیزا سے بہت سوال کیے لیکن اس نئے ساری باتوں کے بالکل صحیح جواب دیئے ،
پِھر اچانک میرے دماغ میں ایک گھنٹی بجی میں کھڑا ہُوا اور میں نے کہا “اکرام بھائی شیزا تو بہت گندی بچی ہے نا بالوں کی کٹنگ کرواتی ہے نا ہی نیلز ( ناخن ) کاٹتی ہے” ،
تو وہ فوراً بولی ، “نہیں شعیب انکل ایسا ہرگز نہیں ہے یہ دیکھیں میرے نیلز اور بال سب اچھے طرح ( کٹے ) ہوئے ہیں” ،
ماما نئے لاسٹ فرائیڈے ہی میرے نیلز ( ناخن ) کاٹے ہوئے ہیں ،
ہَم سب حیران تھے کے یہ کیسے ممکن ہے کے ایک سال بَعْد بھی شیزا کے بال اسی اندازِ میں بنے ہوئے ہیں اور ناخن بھی بلکل صاف ہیں ،
میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا ، اور میرا دماغ مکمل طور پر ماؤف ہو چکا تھا ،
میں نے اکرم بھائی سے کہا شیزا کو فل حال گھر سے باہر نا نکلنا کیوں کے ہو سکتا ہے وہ پِھر لاپتا ہوجائے ،
میں نے اگلے دن اپنے سینیر جمال خان صاحب سے شیزا كے واپسی اور ان ساری باتوں کا ذکر کیا تو وہ بھی 2 منٹس کے لیے سوچ میں پر گئے ، لیکن وہ بہت زیادہ تجربہ کار تھے اور انہوں نئے مشورہ دیا کے ہمیں شیزا کا ڈی این اے اور دوسرے ضروری ٹیسٹس کروانے چاہئے ،
تاکہ اِس بات کا پتہ چلایا جا سکے کے کیا یہ وہی بچی ہے اور اگر ہے تو اس کا دماغی توازن درست ہے یا نہیں ،
مجھے جمال سر کا یہ آئیڈیا بہت مناسب لگا اور میں نے وہیں سے فون کر کے مسٹر اینڈ مسز اکرم کو اسپتال پہنچنے کا کہا ،
میں خود بھی ان لوگوں کے ساتھ اسپتال میں موجود تھا تاکہ سارا معاملا خود اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ سکوں ،
شیزا کے سارے ٹیسٹس مکمل ہوگئے ، جب میں اسپتال میں موجود تھا تو اس وقت مجھے میرے ایک دوسرے کیس کے متعلق فون آیا ، میں نے بات کرتے کرتے جب یہ کہا کے “سیرف ایک بار اس قاتل کے دوست اَرْشَد کا پتہ چل جائے تو میں اس قاتل تک بھی پہنچ جاونگا” ،
جیسے ہی میں نے یہ جملہ مکمل کیا ، شیزا نے جوس پیتے پیتے کہا “انکل ، اِس میں پریشانی کی کیا بات ہے اَرْشَد تو فلیٹ نو 234 ، اسٹریٹ ۶۳ / آ ، پیچس” میں رہتا ہے ،
مسٹر اکرم ، مسز اکرم اور میں مسکرانے لگے اور میں نے کہا واہ شیزا بیٹا آپکو تو میرے ساتھ پولیس میں ھونا چاہیے ،
میں نے اسپتال میں تو شیزا کی بات کو مذاق میں ٹال دیا لیکن پولیس اسٹیشن پہنچ کر میں نے سوچا کیوں نئے صرف دِل کی تسلی کے لیے ، اس جگہ چھپا مارا جائے ، میں نے اپنے ساتھ ٹیم لی اور شیزا کے بتائے ہوئے ایڈریس پر روانہ ہوئے ، ہَم نئے دروازہ کافی دیر بجایا لیکن کسی نئے نا کھولا ،
بلاخیر میں نے لات مار کر وہ دروازہ طور دیا ، جیسے ہی دروازہ طور سامنے سے جنید نے ہَم پر فائرنگ شروع کر دی ،
لیکن ہماری تعداد زیادہ تھی اِس لیے کچھ ہی منٹوں میں ہَم نئے جنید کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ،
ہمارے بھی ایک ساتھی کو معمولی سا زخم آیا تھا ، جیند کو تھانے لانے کے بعد ہَم نئے اس سے قاتل کا ایڈریس پوچھا اور اسے بھی گرفتار کر لیا ، رات کو جب میں گھر آیا تو مجھے زندگی میں پہیلی باڑ دَر لگ رہا تھا ، میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتا جا رہا تھا کے آخر یہ کیسے ممکن ہے ،
شیزا کو جنید نامی شخص کا کیسا پتہ چلا ؟ شیزا کہاں گئی ہو گی ایک سال کے لیے ،
پولیس انسپیکٹر ہوتے ہوئے بھی میں نے پوری رات خوف کے مارے جاگتے ہوئے نکالی ،
اگلے دن شیزا کے سارے میڈیکل رزلٹس آگئے اور حیرت انگیز طور پر شیزا میں کسی قسم کا کوئی بدلاو نا پایا گیا ،
میں نے یہ تمام باتیں اپنے سینیر جمال سر کے سامنے رکھ دیں ، وہ بھی یہ سب سن کر دَر گئے ،
پِھر اس کے بَعْد بھی 3 ، 4 معملات ایسے ہوئے جو ناقابلی یقین تھے کبھی کسی کو بونڈ کا نمبر بتا دینا ، کبھی کسی کو بتانا کے اس کے گھر میں کالے جادو کے تعویز کہان دفن ہیں ، کبھی زلزلے سے پہلے اس کی خبر دینا یا پِھر کبھی ہیکل سلیمانی اور تابوت سکینہ جیسے مشکل اور حسسات ماوزوات پر بات کرنا ،
اکرم بھائی نے کسی کے مشورے پر آکر عامل اور بابا سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی بھی تسلی بخش جواب نا دےسکہ ،
شیزا کو جب دِل پکڑ کر ہَم نئے سچائی بتانے کی کوشش کی تو اسے بقول یقین نا آیا ،
ہَم اسے یقین دلاتے بھی تو کیسے کیوں کے ہمارے پس اسے اِس بات کا یقین دلانے کے لیے کوئی خاص ثبوت بھی نہیں ،
نا ہی شیزا کو آج تک اِس بارے میں کچھ یاد آیا ہے ،
شیزا اب ماشااللہ سے 17‬ سال کی ہوچکی ہے ، مجھے آج بھی اِس بات کا پتہ نا چل سکا کے شیزا ایک سال کے لیے کن طاقتوں کے پاس تھی ،
لیکن جس طرح شیزا بہت سارے غیبی معملات سے پردہ اٹھا دیتی ہے ضرور وہ کسی نا کسی روحانی طاقت کے پاس موجود تھی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟