قاتل کون 128

قاتل کون

یہ ایک مرحوم انسان کی کہانی ہے ، جو ایک خوفناک ( ہورر ) اُرْدُو اسٹوری بھی کہی جا سکتی ہے ، مزید ا یسی طرح کی اُرْدُو کہانیوں کے لیے ، ہمارا پوری ویب سائٹ وزٹ کریں .
یہ میرے ایک مرحوم دوست کی کہانی ہے ،
ویسے تو میرے اندر اتنی ہمت نہیں کے میں پوری کہانی سنا سکوں کیوں کے یہ کہانی لکھتے وقت بھی میرے رونگھٹے کھرے ہو رہے ہیں ،
آج سے ٹھیک 27 سال پہلے کی بات ہے کے میرا دوست كبیر اسماعیل ایک سیلزمین کی جاب پر لگا تھا ،
اس کا کام گھر گھر جا کر ٹپ ریکارڈر بیچنا ہوتا تھا ،
چونکہ پہلے کے زمانے میں سی ڈی اور ڈوی ڈ وغیرہ نہیں ہوتی تھیں اِس لیے زیادہ تر لوگوں کے گھر میں ٹپ ریکارڈر ہوتا تھا ،
وہ اس نوکری کو پا کر بہت خوش تھا لیکن وہ غصے کا بہت تیز تھا ، اِس لیے اکثر اسکے باس اسے ڈانٹے اور سمجھاتے رہتے تھے ،
ایک دن رات کے شاید 3 بجے مجھے كبیر کا فون آیا ، میں بہت پریشان تھا کے رات کے اِس وقت اسے مجھ سے کیا کام ہو سکتا ہے ،
خیر وہ میرے گھر کے نیچے آیا اور خوف کے مارے اس کا جسم کپکاپا رہا تھا ،
پہلے تو وہ کچھ بھی بتانے پر رضا مند نہیں تھا لیکن میرے تسلی دلانے پر اسنے ایک خوفناک انکشاف کیا ،
اسنے بتایا آج رات 8 بجے کے قریب ، جب وہ ایک گھر پر ٹپ ریکارڈر كے ڈلیوری دینے گیا تو ،
اس گھر پر صرف ایک اکیلی عورت تھی ، جس نئے میرے دوست كبیر کو بہکانے کی کوشش کی ، وہ میرے دوست کو اپنے ساتھ زینہ کرنے پر اوکسا رہی تھی ،
كبیر نئے اسے بہت منع کیا اور کافی دفعہ دوڑ ہٹایا ، ابھی كبیر اسکو دھکہ دائی کر بھاگ ہی رہا تھا کے ،
اس عورت نئے دھمکی دی کے اگر كبیر یہاں اس کے ساتھ زینہ کیے بغیر چلا گیا تو وہ عورت شور مچا دیگی ،
پولیس کو بھی بولاگی اور محلے والوں کو بھی شور کر کے جمع کر لگی ، اور كبیر پر زبردستی اور زیادتیی کا الزام لگادے گی ،
یہ سن کر كبیر کو کچھ سمجھ نا آیا اسنے اپنی نوکری اور ماں باپ کے سامنے عزت بچانے کے لیے ، جان بوجھ کر اس عورت کے ساتھ زینہ کرنا شروع کر دیا ،
اِس سے پہلے کے كبیر وہ گنا سرزد کرتا اُس نے موقع دیکھ کر وہی ٹپ ریکارڈڈ اٹھایا اور اس خاتون کے سَر پر دئے مارا ،
جب تک كبیر کو اسکی موت کا یقین نا آیا وہ مسلسل اس عورت پر وار کرتا گیا ،
بلاآخیر وہ عورت كبیر کے سامنے ہی تڑپ تڑپ کر مر گئی ، اس وقت سے كبیر گھر نہیں گیا تھا اور آخر کر رات کو وہ میرے گھر آیا تھا ،
اسکی بات سن کر مجھ پر سکتا تاڑی ہو گیا ، ایسا لگا کے جیسے کسی نئے میرے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہو ،
جب اسنے پوری بات بتا دی تو فجر کی اَذان شروع ہوگئی ، میں نے ہمت پکڑی اور اسے اپنے ساتھ نماز پر لائے گیا ،
میں نے كبیر کو سمجھایا کے وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دے ،
پولیس اس تک ایک ہی دن میں با آسانی پہنچ جائے گی کیوں کے موقع آ واردات پر وہ سارے ثبوت موجود ہیں جو تمہیں قاتل ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ،
لیکن اس نے میری بات نا مانی اور مجھ سے خفا ہو کر چلا گیا ،
اس دن کے بعد سے كبیر کا کسی کو کچھ پتہ نا چلا ،
پولیس میرے پس بھی پوچھ تاج کے لیے آئی تو میں نے سچ سچ بتا دیا کے كبیر میرے گھر آیا بھی تھا اور پِھر بتائے بغیر چلا گیا ،
پولیس والون نئے مجھے 2 3 دفعہ مار کر بھی پوچھا لیکن میرے ایک ہی بیان تھا جو سچا تھا ،
3 سال تک كبیر کا کچھ پتہ نا چلا ،
ایک دن ہَم سارے دوست مچھلی پکڑنے کے لیے گئے ،
شروع میں تو سب صحیح تھا لیکن معاملا کچھ عجیب لگ رہا تھا اس دن ، کبھی کوئی عجیب سی آواز آتی تو کبھی کہیں کوئی پتھر آکر ہمیں لگتا ،
ہَم سمجھے ہمارا کوئی دوست ہی ہے جو ہمیں دڑانے کے لیے شارارتیں کر رہا ہے ،
لیکن یکایک ہمیں ایک عورت کی چیخنے کی زاور دَر آواز آئی ، جس سمت سے چیخنے کی آواز آئی تھی ہَم سارے دوست وہاں بھاگے ،
ہَم نئے جو نظارہ دیکھا وہ شاید آپ سب کے لیے نا قابل یقین ہو گا ،
ایک ڈراونی عورت جو خون میں پوری طرح لت پت تھی وہ ہمارے دوست كبیر کا گھوشت نوچ نوچ کر کھا رہی تھی ،
جب کے كبیر مردہ حالت میں موجود تھا ،
کچھ دوست وہیں بے ہوش ہوگئے اور مجھ سمیت ایک دوست وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا ،
ہَم نئے سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی ،
پولیس والوں کے پہنچنے پر ہَم ہمت کر کے دوبارہ اس جگہ گئے جہاں یہ خوفناک معاملا ہَم نئے دیکھا تھا ،
وہاں پوحانکنے پر كبیر کی لاش تو موجود تھی لیکن وہ عورت نہیں تھی ، ہَم نئے اپنے بے ہوش دوستوں کو وہاں سے اٹھایا ،
ایک ہفتے تک کچھ دوستوں کو ہوش نا آیا اور کچھ دوستوں کو اتنا شدید بخار ہوا کے ہمیں اسپتال میں داخل کروایا گیا ،
پولیس کے مطابق پولیس کو کسی جانور نئے حلاق کیا ہے ، لیکن ہَم نئے جو دیکھا تھا اس پر آج تک کسی نئے یقین نہیں کیا ،
آج بھی جب بھی 28 جنوری آتی ہے ، ہمیں پورا دن کچھ نا کچھ عجیب سا محسوس ضرور ہوتا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.