ایک عقل مند دیہاتی 165

ایک عقل مند دیہاتی

ایک سبق آموز ،
اپنی گاؤں کی زمین پورے ساڑھے 5 لاکھ میں بیچ کر جب وہ آج صبحا کی ٹرین سے کراچی کینٹ اسٹیشن پر اترا ،
تو لوگوں کا ہجوم اور چہل پہل دیکھ کر اسے کراچی کے بارے میں سنی ہوئی ساری کہانیاں سچ لگنے لگیں ،
گجر خان پنجاب سے تعلق رکھنے والا طارق جنجواہ ساتوں بہن بھایوں میں سب سے چھوٹا تھا ،
لیکن اسکا باپ جانتا تھا کے طارق دوسرے بہن بھایوں کی طرح کھیتوں پر مزدوری کے لیے نہیں بنا ،
اِس لیے ، اس کے باپ نئے اپنا دِل سخت کرتے ہوئے اپنے اِس 24 سالا بیٹے کو اپنی تمام جمع پنجیی دے کر کراچی کی بے رحم کاروباری موجوں کے درمیان اپنی اور اپنے گھروالون کی قسمت کا ملاح بنا کر روانہ کر دیا ،
طارق کا باپ خدا بخش جنجواہ بچپن سے کھیتوں میں مزدوری کرتا رہا ہے ،
زندگی کے 52 سال اسنے زمینداروں کی خدمت میں گزر کر جو جمع پنجیی جمع کی تھی وہ طارق کے حوالے اِس امید پر بھی کر دی تھی کے شاید اسکی آنے والی نسلوں کو وہ غلامی کی منجدھار سے نکل سکے ،
طارق کے اوپر بھروسہ کرنے کی بہت سی وجوہات تھیں خدا بخش کے پاس ،
اسکی ایمانداری اور عقل کی مثالیں پورے گاؤں میں ہیر رانجھا سے زیادہ مشہور تھیں ،
2 دفعہ وہ اپنی عقل مندی سے گاؤں کو قحط سالی سے بچا چکا تھا اور یہیں وجہ تھی کے وہ زمینداروں کی آنکھوں میں خٹکنے لگا تھا ،
یہیں خطرہ دیکھ کر خدا بخش کا اور طارق کی اماں کا یہ فیصلہ عام فہم تھا کے طارق کو کسی بھی بہانے سے گاؤں سے باہر بھیج دیا جائے ،
یہاں کراچی میں طارق کے چچا نئے اسکا اپنے ساتھ والے کوارٹر میں رہنے کا بندوبست کر رکھا تھا ،
اسماعیل جنجواہ ، طارق کا چچا ، کراچی میں کامیابی سے اپنے 2 جنرل اسٹور اور ایک بن کباب کی دکان چلا رہا تھا ،
اِس لیے پَردیس میں طارق کے پاس اپنے چچا کے پاس کام سیکھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا ،
وہ اپنے چچا کے پس کراچی کے علاقے منظور کالونی والے جنرل اسٹور پر بیٹھنے لگا ،
وہ کام میں غیر معمولی سنجیدگی لینے لگا ،
13 سے 14 گھنٹے کھرے رہنے کے بَعْد بھی چچاکون سے بہت زیادہ خوش اسلوبی سے پیش عطا ،
چچا اب اسے اسکی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر گاہکوں کے سامنے ہی ذلیل کرنے لگا تھا ،
طارق اپنے چچا کی زادتیاں مسکرا کر سہہ لیتا کیوں کے اسے اِس بات کا با خوبی علم تھا کے جو کچھ ہے یہاں اسکا چچا ہی ہے ،
پِھر طارق کے والدین نے اسکی تربیت ہی کچھ ایسی کی تھی کے اس کا کردار گاؤں ہو یا شہر قابل تعریف تھا .
3 ہفتے بعد چچا اسماعیل نے طارق کو دکان سے اِس لیے نکال دیا ، جب چچا کی غیرماجودگی میں اسنے چچا کا حساب کتاب کے پرچے اُلٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیے .
“وہ چچا ، عامر بھائی اپنی پیمنٹ لینے آئے تھے” طارق نے ڈرتے ہوئے کہا .
“تو تو اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کے مجھ سے پوچھے بغیر حساب کتاب کرے گے ؟ ” چچا اسماعیل نے طارق کی گردن کو زور سے دابوچتے ہوئے پوچھا .
“وہ عامر بھائی روز اپنے مال کی پیمنٹ مانگنے آتے تھے ، اور آپ دکان پر نہیں تھے ، اِس لیی… . ”
طارق کی بات کاٹ کر چچا نے اس کی گردن کو پوری طاقت سے مرور دیا . “اااح . .م…مو…معاف کر دیں چچا جی” ،
طارق کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے .
“غرق ہوجا ، چہرہ نا دیکھائی فیر” چچا کا چہرہ غصے سے لال تھا .
چچا اسماعیل ، طارق کی ایمانداری اور چالاکی سے جلنے لگا تھا کیوں کے اسکے اپنے بیٹے شراب اور جووے کی بری لت میں پر گئے تھے اور وہ طارق کی قابلیت کو دیکھ کر اس سے حسد کرنے لگا تھا .
طارق وہاں سے کوارٹر جا کر بہت رویا اور فیصلہ کیا کے وہ اپنا کم خود شروع کرے گا ،
طارق نے ایک ماہ میں کراچی کا چپہ چپہ چھان مارا ، کبھی مہاجر کیمپ تو کبھی رنچورلائن ، کبھی کھارادر تو کبھی ناظم آباد ،
غرض یہ کے اِس ایک مہینے میں وہ 3 دفعہ اپنی پرانی جوتیاں سلوا چکا تھا ، جوتیاں تو بس نام کی تھی ، صرف 2 چمڑے کے کپڑے رہ گئے تھے اس کے پیروں میں ،
چچا نے اس سے رشتہ بالکل ختم کر دیا تھا اور ساتھ والے کوارٹر سے بھی نکال دیا .
مناسب جان پہچان نا ہونے کی وجہ سے طارق کو کوئی کوارٹر نہیں مل پاراحا تھا ، جس وجہ سے وہ اِس اجنبی شہر میں مسلسل فٹپات پر سو رہا تھا .
کبھی جانور تنگ کرتے تو کبھی محلے کے لڑکے اسے پاگل پاگل کہہ کر پتھر مارتے ،
طارق کمزور اور نڈھال پڑنے لگا تھا ،
ایک رات جب تیز بارش نئے اسکی رہی صیح قصر بھی نکل دی اور وہ ٹھنڈ کے مرے پوری رات بیہوشی کے عالم میں سڑک پر سرتا رہا .
محلے والوں میں سے کسی نیک بخت چچا نے صبح فجر کے وقت ایمبولینس بولوا کر طارق کو سیول پہنچایا ،
ڈاکٹر سے لے کر نرسیس تک اسکی گندی حالت دیکھ کر اس سے جینح کھا رہے تھے ،
اپنے آپ کو اسنے اتنا بے بس اور لاچار کبھی نہیں پایا تھا ،
لیکن باپ کی آنکھوں کی چمک اسکے حوصلے ٹوٹنے نہیں دئے رہی تھی ،
اسے اپنے باپ اور بھائی بہنوں کو غلامی سے آزاد کروانا تھا ، اسکے آنسو رَو رَو کر خشک ہو چھوکے تھے .
حالت بہتر ہونے پر اسنے خود ہی اسپتال سے رخصت لی اور سیدھا اس نیک انسان کا شکریہ ادا کرنے ان کے گھر بہت سارے فروٹس لے کر جا پہنچا ،
اس نیک بخت انسان کا نام جمیل کاظمی تھا وہ 55 سالا شخص طارق کی دلچسپ باتوں اور معلومات بھری گفتگو سے بہت متاثر ہُوا ،
طارق سے گفتگو کے دوران اسنے بتایا کے وہ اِس شہر میں اکیلا ہے ، گھر والے سارے دبئی شفٹ ہو چکے ہیں اور وہ بھی کراچی میں کچھ کاروباری معملات نمٹا کر ہمیشہ کے لیے دبئی چلا جائیگا ،
“کازمی صاحب جب کبھی آپ کراچی آئینگے تو میں آپ جتنے بڑے گھر میں ، آپکی دعوت کرونگا” ، طاہر نئے با اعتماد لہجے میں سرگوشی کی .
جمیل صاحب یہ سوچ کر مسکرا دیئے کے جوانی کے جوش میں انہوں نے اکثر نوجوانوں کو یہ بات کرتے سنا تھا .
خیر کاظمی صاحب نے اسے اپنے ایک جاننے والے کے ذریعہ طارق کے رہنے کو ایک عمدہ کوارٹر کروا دیا ،
اور طارق نے پِھر سے کاروبار شروع کرنے پر اپنی کڑی توجہ مرکوز کر دی .
3 ماہ کی سخت محنت اور جدو جہد کے بَعْد طارق کلفٹن میں کرائے کی ایک بالکل چوٹی سی دکان ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا ،
فجر کی نماز کے بعد آج وہ کافی دیر تک دعائیں مانگتا رہا کیوں کے اسے اس کرائے کی دکان کا ڈپوذٹ دینے جانے تھا ،
وہ کوارٹر سے ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ،
وہ دیئے گئے وقت سے 10 منٹس پہلے ہی منزل پر پہنچ چکا تھا جس سے اسکی لگن اور کم کے شوق کا با خوبی اندزا ہوتا تھا ، دکان کے مالک کے پہچنتے ہی اسنے بری خندہ پیشانی اور اخلاق سے ملاقات کرنے کے بعد جب جیب میں ڈپوذٹ کے 4 لاکھ نکلنا چاھے تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ،
اس کے کسی بھی جیب میں وہ رقم موجود نا تھی ،
وہ دیوانہ وار اپنے جیبوں میں تلاش کرتا رہا کے شاید قدرت مہربان ہوجاے ،
لیکن قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا ، وہ کبھی لوگوں سے اس بس کا پتہ پوچھتا تو کبھی تھانے جاتا ،
پورا دن اِس بھاگ دوڑ میں نکل گیا لیکن ان پیسوں پر تو بس میں ہی کوئی بڑی صفائی سے ہاتھ صاف کر چکا تھا .
طارق کی دنیا ویران ہونے لگے تھی ، اسے اپنے باپ کے خواب کا سورج ڈوبتہ ہُوا نظر آرہا تھا ،
کیوں اب صرف اس کے پاس گھر پر 50‬ حضر موجود تھے اور اتنے پیسوں میں کراچی میں دکان لینا نا ممکن میں سے ایک تھا ،
دکان کے ملک نئے اسے حوصلہ دیا اور 50‬ حاضر میں طارق روڈ پر اپنی دکان کے آغا ٹھیلہ لگا کر دیا ،
اس ٹھیلے میں طارق کو بچوں کی چیز ، سگریٹس اور موبائل بیلنس کی سیٹنگ کروا دی ،
دکان کا ما لک سلیم میمن ایک شفیق انسان تھا ،
طارق دوسرے ٹھیلوں کی طرح صبح 10 بجے اپنا ٹھیلہ کھولنے کی بجائے فجر کی نماز پڑھ کر اپنا ٹھیلہ کھول لیٹا ،
سلیم صاحب اسے اکثر سمجھاتے کے طارق روڈ کے علاقے میں صبح اِس وقت گاہک نہیں آئینگے ،
لیکن طارق ایک ہی بات کہتا کے رزق فجر کے بَعْد بٹتا ہے ،
صبح فجر کے بَعْد سے دوپہر ایک بجے تک طارق کا با مشکل 200 روپے کا دھندا ہوتا ،
لیکن وہ پوری باقایدگی سے ایسی وقت اپنا ٹھیلہ کھولتا ،
طارق روڈ کے سارے ٹھیلے رات 11 بجے تک بند ہوجاتے لیکن طارق اپنا ٹھیلہ 2 بجے بند کرتا تھا ،
کم نیند اور انتھک محنت کی وجہ سے طارق دن با دن کمزور اور بیمار ہوتا جا رہا تھا ،
4 ماہ گزر گئے اور پِھر آہستہ آہستہ طارق کا ٹھیلہ اپنے انوکھے ٹائم کی وجہ سے مشہور ہوں رہا تھا ،
کے اگر صبح جلدی یا رات کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ طارق بھائی کے ٹھیلے سے مل جائے گی ،
اب صبح فجر سے 1 بجے تک کے وقت میں 200 کی بجائے 8 سے 10 حاضر کی سیل ہونے لگی ، اور رات میں 2 بجے تک کسٹمرز آتے رہتے ،
طارق کے ٹھیلے کی راوز کی سیل اب 30 سے 40 حاضر تک جانے لگی ، اِس لیے سلیم صاحب نئے ایک چھوٹا ہیلپر بھی اسے دے دیا ،
سلیم صاحب نئے طارق کی قابلیت اور مہارت کو پہچان لیا تھا ،
وہ ایک نیک شخص تھے اِس لیے انہوں نئے طارق سے کبھی کسی منافعے یا پیسوں کا تقاضہ نا کیا ،
طارق اپنے کسٹمرز میں اِس بات کے لیے بھی مشہور تھا کے اگر کوئی بھی چیز اسکے ٹھیلے پر موجود نا ہو تو وہ آگلے دن پورے کراچی میں سے کہیں سے بھی ڈھونڈ کر لا دیتا تھا ،
اب طارق کو وہ ٹھیلہ چھوٹا پڑنے لگا ، اور سلیم صاحب سے مشورے کے بعد طارق کو انہوں نئے اپنا پارٹنر بنا کر ایک بڑی اور آلییشان دکان دلا دی ،
ساری سرمایہ کاری سلیم صاحب نئے کی اور صرف 20 % اپنا منافع رکھا اور باقی 80 % طارق کو دینے کا فیصلہ کیا ،
طارق اِس بات بات پر ناراض تھا کے سلیم صاحب اس کے محسن ہیں لحاظہ 50‬ % سلیم صاحب کو لینا چاہیے ،
لیکن سلیم صاحب کے بھی اپنے اصول تھے ، وہ ہمیشہ یہیں کہتے کے جو میں نے آج تمہارے لیے کیا ہے ،
وہ میرے مر جانے کے بَعْد تمہیں دوسروں کے لیے کرنا ہے ،
طارق نئے وہ دکان 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ،
پورے کراچی میں وہ اس وقت کی پھیلی دکان تھی جو 24 گھنٹے کھلی رہتی تھی ،
طارق اس دکان میں بھی 16 گھنٹے خود ڈیوٹی دیتا اور صرف 4 ، 5 گھنٹے اسی دکان میں نیند کرتا ،
جلد ہی اسنے ایک موٹر سائیکل خرید کر اپنے بڑے بڑے کسٹمرز کو ان کے گھر پر سودا پہنچانا شروع کر دیا ،
جس سے اسکی سیلز میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور اب وہ ایک دن میں کم اَز کم 1 لاکھ کی سیلز کرنے لگا ،
طارق نئے سلیم صاحب سے مشورہ کے بَعْد مزید ورکرز رکھنا شروع کر دیئے تاکہ کسٹمرز کو ڈلیوری ٹائم پر دی جائے ،
دکان وقت کے ساتھ بڑھی ہوتی گئی اور بڑھتے بڑھتے ایک سپر اسٹور میں بَدَل گئی ،
کراچی کی تاریخ میں کھلنے والا پہلے سپر اسٹور ، جس پر پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا نئے بھرپور کوریج دی ،
طارق کے ماًں باپ اور بھائی بہن سب کراچی آ چکے تھے اور ایک طویل غلامی کے بَعْد آزادی کا سورج دیکھ کر ان سب کی آنکھیں اللہ کے حضور سجدہ آ شکر سے جھکی ہوئی تھیں ،
طارق اب سیٹھ طارق چوہدری کے نام سے مشہور تھے ، انہوں نئے اپنا کاروبار اپنے بھایوں کے سپرد کر دیا تھا ،
سلیم صاحب کے انتقال کے بعد سیٹھ طارق پورے پاکستان میں گھومتے اور غریبوں کو مفت میں ٹھیلے لگوا کر دیتے ،
لیکن شاید ہی اب ان ٹھیلوں سے کوئی سیٹھ طارق چوہدری بن سکے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.