آخری تحریر 54

آخری تحریر

پر سکون تاسورات کے ساتھ اسنے اپنی تحریر مکمل کی اور اپنی چارپائی پر ان خیالوں کے ساتھ جا پہنچا کے کل صبح سب سے پہلا کام اسکا اسے فیس بک پر پوسٹ کرنا ہو گا .
باقول اسکے وہ ایک شوقیہ لکھاری تھا لیکن اُس کی تحریریں بہت جمے اور حقائق پر مبنی ہوتی تھیں ، نا جانے کب وہ 2 دن کے مختصر سے وقت میں پاك فوج کے کارناموں، اسلام کی خوبیون ، ملک دشمن عناصر ، انٹرنیٹ پر موجود ملک دشمن مواد اور کئی ایسے حساس پہلو جن پر بارے بارے اَدِیْب سالوں محنت کے بعد بھی با مشکل ایک کتابچہ لکھ پاتے تھے ، وہ نوجوان انتہائی نازک ٹاپکس پر بڑی حیران کون تحریریں لکھ دیا کرتا تھا . وہ ہر دو دن بات اپنی ایک تحریر پیش کیا کرتا تھا .
ایسی خوبی کی بنا پر اسکی فرییندلیسٹ میں ملک کے بارے نموار اَدِیْب ، سیاستدان ، کھلاڑی اور لیبرالس موجود تھے جو کافی تگ و دوں کے بعد بھی اسے آج تک لاجواب نا کر پائے تھے .
آپ حیرت میں ہونگے کے میں یہ سب کچھ کیسے جانتا ہوں ؟ اور سوال بھی مناسب ہے آپکا ؟ میں اِس اندیخی لکھخاک کا 5 سال سے فولوور ہوں ، اسکی ہر تحریر اپنے مطلعے کے ساتھ ساتھ اِس لیے بھی پڑھتا ہوں تاکہ اپنے دوستوں میں جب چائے کی کٹنگ نوش کروں اُس وقت میرے پس 4 لفظ زیادہ ہوں شریک گفتگو ہونے پر ( کے لیے ) .
اپنی اِس تحریر میں اسنے نیوز چینلز کا ایسا پہلو ہمیں دکھایا کے ہمارے چودہ تبق روشن ہوگئے ، اُس تحریر میں اِس بات سے قاراین کو یہ آگاہی حاصل ہوئی کے 3 چھوٹے کراکیر حملے ، ایک خاتون سیلیبرٹی کی پرسنل فون کال لیک ، کرکٹر کی میچ فکسنگ ، پارْک میں طلبا کا ڈیٹنگ پوائنٹ ، پارلر میں فحاشی کا ادا جیسی خبریں جنہوں نے 2 دن سے ملک میں کہرام مچایا ہُوا تھا ( قوم کو ہیجان میں مبتلا کیا ہوا تھا ) وہ خبریں نا جھوٹی تھیں بلکہ ان تمام خبروں کو 3 بڑے نیوز چینلز نے خود ہی اپنےاداکاروں سے انجام دلوایا تھا ( دلواییں تھیں ) . اور آپس میں باہمی رضامندی سے آپس میں بریکنگ نیوز بانٹ لیں تھی کے کون سا چینل کونسی نیوز بریک کرے گا .
کراکیر دھماکے 3 خالی پلوٹس پر کئے گئے تھے اور جو زخمی فلاٹس اور دوکانوں سے نکلتے ہوئے دیکھاے گئے تھے وہ انہیں چینلز کے اُجْرَتی اداکار تھے اور یہ دھماکے ملک کے ایک مشہور بلڈر نئے اِس لیے کروائے تھے تاکہ اُس محلے کے مکانون کی قییمتیں گر جائیں اور پڑوس کے محلے میں اسکی بنائی گئی 2 عمارتوں میں ریحایشی تیزی سے آجائیں . نیوز چینلز کو ہر گھر کے اویز کمیشن دینے کا کنٹریکٹ ریٹن میں موجود تھا .
یہ دِل دیہلانے والا اُس تحریر کا پہلا دعوا صرف لظووں کی صورت میں ہماری آنکھوں سے نہیں ٹکرایا تھا بلکہ جتنے الزامات اُس پہلے دعوے میں موجود تھے ان سب کی تصاویر ، ویڈیو اور آڈیو کلپس ، ڈوکومینٹس کی فوٹو کاپیس بھی موجود تھیں .
جہاں تک ایک خاتون سیلیبرٹی کی پرسنل فون کال لیک ہونے کی بات تھی تو وہ خاتون شخصیات کافی دنوں سے مالی بحران کا شکار تھیں ،
اِس لیے ایک نیوز چینل کی جانب سے اپنی رٹنگز کو بڑھانے کی خاطر ان سے باقاعد سکربڈ کال کاروائی گئی تھی جسے بڑی مہارت سے لکھا گیا تھا ، اور نیوز چینل والوننئے اِس نیوز کو بریکنگ نیوز بنانا کے لیے سارا ہوم ورک پہلے سے ہی مکمل کر رکھا تھا .

اس بریکنگ نیوز کی وجہ سے جتنے کمائی ہوئی خآتوں کو انکا حصہ ان کے پرسنل بینک اکاؤنٹ میں مقررکرداہ وقت پر شکریہ کے ساتھ پہنچا دیا گیا .
ایسی طرح وہ کرکٹر جو اتینتالیس سال کا ہو چکا تھا اور اپنی عدم کارکردگی کی وجہ سے 6 سالوں سے ٹیم سے باہر تھا ، اسکے ساتھ بھی ڈرامہ رچا کر ایک اور ہیڈ لائن بنا کر ملک کے وقار کا تماشہ بنایا گیا .
کالج اور پارلر والی کہانی بھی بالکل کھوکھلی نکلی کیوں کے نا اس جگہ پارلر تھا نا ہی اس جگہ ہاسٹل جن کی خبریں بریکنگ نیوز بنا کر پیش کی گئی تھیں .
تمام خبریں ڈراموں اور فلموں کے سیٹ لگا کر باقاعدہ فانکاروں کے ساتھ شوٹ کی گئی تھیں .
الغرض کہ اسکی اِس تحریر نئے عوام الا ناس میں میڈیا کے مکروہ چہرہ واضح کر دیا تھا لیکن اس کی تحریر کا آخری حصہ ان نیک سحافیوں اور نیوز چینل کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا تھا جو اپنا کم پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ کرتے ہیں .
اِس تحریر کے پوسٹ ہوتے ہی پورے ملک میں ایک عجیب سی ہلچل نئے آگ پکڑ لی ( مچ گئی ) ، مجرم پکڑے جانے لگے ، عدالتوں نے سوؤ موتو لینا شروع کر دیئے ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تبادلے اور تاقاروریاں ہونے لگیں .
لیکن اِس گہما گہمی میں جو ایک آواز خاموش تھی وہ تھی اس اندیخی نوجوان لکھاری کی آواز اس کی تحریریں آنا یکایک بند ہوگیں تھیں .
اِس دفعہ اسکی تحریر پورے 2 ہفتے لیٹ تھی ، مجھ سمیٹ اسکے کئی حضر فولوورز اسکی تحریر پڑھنے کے باوجود بہت افسردہ اور اندرونی رنج کا شکار تھے . کیوں کے اس تحریر میں صرف یہ جملے ہمارا منہ چڑا رہے تھے
“شاید آپ مجھے بہت عقل مند ، اسی کا ایجنٹ یا کوئی روحانی شخسیت سمجھ رہے ہونگے لیکن میں بتاتا چلوں کے میں ایک فرد یا انفیرادیات کا نام نہیں ہوں ، میرے ساتھ ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے وہ اللہ کے والی ہیں جو اپنے شعبے میں اِس پاك سَر زمین کے خلاف ہونے والی ہر سازش سے مجھے آگاہ کرتے ہیں ، 16 سال کے نوجوان سے 80 سال کے بوڑھے اِس وقت اِس کمرے میں موجود ہیں جہاں یہ تحریر ٹائپ ہو رہی ہے اور ہوتی آئی ہیں ، ڈاکٹرز ، وکیل ، استاد ، موچی ، پان والے ، نیوز چینلز کے ملازم اور بھی بہت سے ایسے چہرے جو آپ کے ساتھ راوز کام اپر آتے ہیں اور آپ ہی کی طرح رات کو گھر واپس جاتے ہیں ،
لیکن کسی کو نہیں پتہ جب آپ اپنی میٹھی نیند کے جھولے جھول رہے ہوتے ہیں ، تو یہ لوگ اپنے وطن کی خاطر نرم بستر کی آغوش چھوڑ کر کانٹوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں ،
یہ تحریر جو اِس وقت آپ پڑھ رہے ہیں وہ بھی انٹر کا ایک طلب علم ٹائپ کر رہا ہے ، یہ ہَم لوگ نہیں یہ آپ ہیں ، آج کے بعد ہر بندہ یہ تحریر لکھے گا ، جہاں موقع ملا وہاں لکھے گا ، آپ میں اور ہَم سب لکھیں گئے”
یہ اس شخص کی آخری تحریر تھی ، جس نئے ملک میں انقلاب کا کے روشن باب کی پہلے کڑی کھول دی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟