آخری پیار 147

آخری پیار

اُرْدُو کہانیوں میں ایک اورکہانی کا بہترین اضافہ ، بہت سے انسانون کو زندگی میں ایک ہی دفعہ پیار ہوتا ہے ، لیکن میرا حساب کچھ اُلٹا ہے ،
مجھے 8 سال کی عمر میں پہلی دفعہ ٹیوشن میں پڑھنے والی ثمرین سے پیار ہُوا ،
کیوں کے انڈین فلمیں دیکھنے کے بَعْد تازَہ تازَہ سمجھ آیا تھا کے پیار ہوتا کیا ہے ،
وہ بھی اِس لیے کے ، اس نئے مجھ سے ایک دفعہ پینسل مانگی تھی ، بس اس کا پینسل مانگنے کا اندازِ اتنا پیارا تھا کے میں اپنا دِل کھو بیٹھا ،
1 پورا سال میرا پیار رہا ، وہ پیار بھی مجھ جیسا نکما تھا ، نا آج تک اس سے اظہار کیا نا کسی اور کو بتایا ،
پِھر ثمرین اور اسکے گھر والے کہیں اور شفٹ ہوگئے تو میرا پیار بھی ختم ہو گیا ،
پانچویں جماعت میں آیا تو عینی سے عشق ہو گیا ، یہ عشق پہلے سے زیادہ مضبوط تھا اور سوچا تھا عینی کو ہی شریک حیات بنا کر چھوڑونگا ،
لحاظہ اس کے ساتھ ساتھ اسکے بھائی رضا سے بھی دوستی بنا لی ،
تاکہ سالے اور بہنوئی کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہوسکے اور میری مضبوط ہڈیاں بھی ہمیشہ قائم رہ سکیں ،
کاپی کا پرچہ پھاڑا اور ایک دن ہمت کر کے آئی لو یو لکھ ڈالا ، اور چپکے سے جا کر اس کے تھرماس پر رکھ دیا ،
اسنے پڑھا اور پوری کلاس میں تماشہ ہو گیا کے عینی کو کسی نئے آئی لو یو لکھا ہے ، لیکن میری نالائقی کے نیچے میں اپنا نام لکھنا بھول گیا تھا ،
علی جان نام کے دوست سے پین اُدھار مانگ کر آئی لو یو لکھا تھا تو لکھائی بھی علی جان کی لکھائی کی طرح گندی ہوئے ،
لحاظہ اُسْتانی نئے پرچی اور بچوں کی رائٹنگ کا موازنہ کیا تو علی جان رگڑڑے میں آگیا اور اسے اسکول سے فارغ کر دیا گیا ،
یہ حادثہ شدید ندامت اور رنج کا باعث تھا ، میرا دوست میری وجہ سے سکول سے نکالا گیا تھا سو میں نے بھی اسکول بَدَل دیا ،
نئے سکول میں 6 کلاس میں پہلے مس مریم اور پِھر آٹھویں کلاس میں مس کرن سے پیار ہُوا ، ان میں بھی لیول کی نکمی جھولی میں آئی ،
میں قسمت کا فیصلہ سمجھ گیا لیکن پِھر نا چاھتے ہوئے بھی انٹر کی کوچنگ کلاسز میں عابدہ سے عشق لارا بیٹھا،
اس سے میرا عشق کامیاب ہو گیا ، وہ میرے تحفے بھی قبول کر لیا کرتی ، میرے ساتھ آئس کریم کھانے بھی چلتی ،
میں نے خود موبائل لینے کی بجائے اسے موبائل دلا دیا تاکہ وہ اپنی دوستوں کو میرا دیا ہُوا موبائل فخر سے دکھا سکے ،
اسکی دوستوں ہیمشہ مجھے محبت بھرے اندازِ میں دیکھتی ، شاید وہ سب مجھ سے محبت کرنے لگی تھیں ،
سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کے ایک دن ہوٹل میں كھانا کھاتے ہوئے اس کے بھائی نئے دیکھ لیا ،
مجھے عابدہ پر پورا یقین تھا کے وہ میرے شانہ با شانہ کھڑی رہیگی ، اور اپنے بھائی کے سامنے میرا ہاتھ تھامے ریکھے ،
لیکن خلافی تَوَقُّع اسکے بھائی نے مجھ سے بہت اخلاق سے بات اور ملاقات کی ،
میں دِل ہی دِل میں بڑبڑا رہا تھا کے اتنا بے غیرت بھی کوئی ہو سکتا ہے اِس جہاں فانی میں ،
پِھر ایک دم دِل کو خیال آیا کے شاید عابدہ نئے گھر میں ہمارا عشق کے بڑے میں سب کچھ بتا دیا ہے ،
اور بہنوئی ہونے کے ناطع مجھے معاً و سمّان ماوصول ہو رہا ہے ،
لیکن اگلے ہی لمحے اسکے بھائی نئے جب یہ کہا کے “اچھا یہ ہیں وہ فراز بھائی تمہارے جن کے دِل میں سوراخ ہائے جملہ سنتے ہی میرے دِل میں نہیں بلکہ بہت سی جگہوں میں بڑے گہرے سوراخ ہوگئے ،
میں نے عابدہ کی طرف دیکھا تو ماسومنا آنکھوں سے اشارے کر رہی تھی کے کے میں اس کے بھائی کو حقیقت سے آشنا نا کروں ، میں نے ان دونوں بہن بھایوں سے مسکراتے ہوئے رخصت لی اور وہ میری زندگی کا سرکاری اور بسا ضابطہ طور پر آخری پیار قرار دائی دیا گیا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.