آنکھ مچولی 143

آنکھ مچولی

ہر انسان کو اپنی زندگی میں کبھی نا کبھی پیار ہوتا ہے ، کچھ کو وہ پیار ملتا ہے اور کچھ کو نہیں ،
یوں تو میں رستے میں ہمیشہ اپنی نظریں نیچے رکھنے کی کوشش کرتی ہوں کیوں کے غلطی سے بھی کراچی میں کسی لڑکے پر نظر پر جائے ،
تو وہ یا تو خود کو انڈیا کا ہریتک یا پاکستان کا فواد خان سمجھنے لگتا ہے ،
اور میں زیادہ تر پبلک بسیس میں سفر کرتی ہوں لحاظہ مجھے ان باتوں کا اور بھی سختی سے خیال رکھنا پڑتا ہے ،
کیوں کے کراچی کی بسیس میں مسافروں سے زیادہ عاشق زیادہ سفر کرتے ہیں ،
لیکن اس دن جب کالج سے واپسی پر میں گھر جانے کے لیے بس کا انتظار کر رہی تھی تو ایک لڑکا بھی وہاں بس کے انتظار میں آ کھڑا ہُوا ،
ہَم دونوں کی نظریں ایک ساتھ ٹکرائیں ، میں نے تو اپنی عادت کے مطابق نظریں جھکا لیں ،
اور دوسرے لڑکوں کے بار عکس اسنے بھی نظریں جھکا لیں ، اتفاق سے اس وقت صرف ہَم دونوں ہی بس اسٹاپ پر موجود تھے ،
مجھے تھوڑا بہت دَر بھی لگ رہا تھا کے وہ لڑکا کوئی بعد تمیزی یا الٹی سیدھی حرکت نا کر دے ،
لیکن میں غلط تھی ، وہ میرے احترام میں کافی دوڑ کھڑا تھا اور میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہا تھا ،
کچھ ہی سیکنڈز بعد ایک باڑ پِھر ہَم دونوں کی نظریں ٹکرائیں ، وہ بھی بے اختیار مسکرا دیا اور میں بھی ،
مجھے ایسا لگا کے شاید میں اسے صدیوں سے جانتی ہوں ، یا ہَم پہلے بھی مل چکے ہیں ،
اسنے نظریں پِھر سے جھکا لی تھیں لیکن میں اس سے نظریں نہیں ہٹا پارہی تھی ،
میں اس سے باتیں کرنا چاحاتیی تھی ، اس کے گلے لگنا چاہتی تھی اور اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے سنوارنا چاہتی تھی ،
ابھی میں ان خیالات میں غم تھی کے بس آگئی ،
آدمیوں کا کمپارٹمینٹ میں انتہا کا رش تھا ، اِس وجہ سے وہ مجھے نظر نہیں آرہا تھا ،
میں اسے دیکھنے کے لیے ایسے بے تب ہو رہی تھیں جیسے وہ مجھ سے سالوں سے جدا ہو ،
میرا گھر آنے والے تھا ، لیکن میں اسے اپنی بانہوں میں لیے بنا گھر نہیں جانا چاہتی تھی ،
مجھے اس سے بے حد عشق ہو چکا تھا ، میں نے جان بوجھ کر فیصل فیصل پکارنا شروع کر دیا ، کیوں کے مجھے اس کا نام نہیں پتہ تھا ،
مجھے یقین تھا کے وہ میری آواز پہچان کر مجھے ضرور جواب دینے آئیگا ،
لیکن وہ نا آیا ، میں نے دوسرے مرد حضرت سے التجا بھی کی کے میرے کزن فیصل کو بلا دیں ،
لیکن وہ نظر نا آیا نا ہی اسنے جواب دیا ،
میں نے کنڈکٹر سے ضد کر کے چلتی بس کو رکوا دیا اور کہا اندر میرا کزن فیصل موجود ہے ،
میں دیوانہ وار کبھی اسے ڈھونڈتی اور کبھی اپنے آنسو صاف کرتی ، ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نئے میری محبت میرے ہاتھوں سے آکر چین لی ہوں ،
پوری بس خالی کاروائی گئی میرے لیے ، میں نے پوری بس کا کونا کونا چھان میرا لیکن وہ اجنبی مجھے کہیں نا ملا ،
میں کنڈکٹر اور ڈرائیور سے معذرت کر کے اپنی آنکھوں میں آنسو سجائے دبائے پاؤں اپنے گھر لوٹ آئی ،
ماہنوں کے بَعْد سال گزر گئے لیکن میں وقت بَدَل بَدَل کر اس بس اسٹاپ پر جاتے رہی کے کاش ایک بار اس اجنبی سے پِھر ملاقات ہو جائے ،
لیکن شاید میں اسے ہمیشہ کے لیے خوہ چکی تھی کیوں کے میں بچپن سے ہی آنکھ مچولی کھیلنے میں بہت کمزور تھی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.