آخری دن 191

آخری دن

یہ کہانی پڑھ کر آپ بھی شاید ہاسٹل میں کبھی نا جائیں ،
آج میرا ہاسٹل میں پہلے دن تھا ، میری روم پارٹنر کا نام مہوش تھا ،
مہوش بہت بڑے گھر کی لڑکی تھی اِس لیے اسکا سَر غرور سے بہت اونچا تھا ،
اسنے مجھے اپنے نام کے علاوہ کچھ نہیں بتایا تھا اور میں نے بھی زیادہ جاننے کی کوشش نہیں کی ،
رات کے 11 بج چکے تھے ، مہوش ہیڈ فونز پر شاید انگلش سونگس سن رہی تھی کیوں کے ہر تھوڑی بَعْد وہ “می لو مائی لو” گنگنائے لگتی ،
میری زندگی میں ہاسٹل کا نیا نیا تجربہ تھا اِس لیے مجھ پر دَر اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی ،
میں نے دِل بھلانے کے لیے بُک نکل کر پڑھنا شروع کر دی ، بُک پڑھتے پڑھتے پتہ نہیں مجھے کب نیند آگئی ،
کانچ کا گلاس ٹوٹنے کی آواز سے میری آنکھ کھول گئی ، میں نے مہوش کو دیکھا تو وہ گھوڑے گدھے بیچ کر آرام سے سوئی ہوئی تھی ،
میں اپنا وہم سمجھ کر واپس سو گئی ، کچھ 5 منٹس کے بَعْد پِھر سے ایک اور گلاس ٹوٹنے کی آواز آئی ،
میں گھبرا کر پِھر اٹھ گئی ، مہوش نئے دوسری طرف کروٹ لیا ہُوا تھا اِس لیے مجھے اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ،
میں سمجھ گئی تھی کے شاید وہ مجھے درانے کے لیے یہ سب کر رہی تھی ،
میں نے اسے اپنے بیڈ پر لیتے لیتے ہی آواز دی کے مہوش مجھے پتہ ہے تم یہ سب دڑانے کے لیے کر رہی ہوں ،
لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ خڑاٹے لینے لگی ، مجھے اِس بات کا اندازہ تھا کے ہاسٹل میں میرے ساتھ یہ سب ھوگا ،
کیوں کے اکثر میری دوستوں کے ساتھ بھی ہوسٹلس میں ایسے مذاق ہوتے رہے ہیں ،
میں نے سوچا کے میں جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیٹی ہوں اور اب جیسے ہی گلاس ٹوٹنے کی آواز آئیگی ،
میں مہوش کو رنگے ھاتھوں پکڑ لونگی ، 10 منٹس بَعْد پِھر آواز آئی تو میں نے ڈائریکٹ آنکھیں کھول لیں ،
اور مہوش کو دیکھا تو وہ اسی طرح سوئی ہوئی تھی جیسے کافی دیر سے سوئی ہوئی تھی ،
میں سمجھ گئی کے یہ مہوش نہیں کوئی اور معاملا ہے ، میں ہمت کر کے کھڑی ہوئی اور کمرے میں ٹوٹے ہوئے گلاس ڈھونڈتے لگی ،
لیکن مجھے ایک گلاس تک بھی نہیں ملا ، میرا خوف اور پریشانی بڑھتے جا رہے تھے ،
میں گلاس ڈھونڈتے ڈھونڈتے جیسے ہی کمرے میں موجود آئینے کے قریب پہنچی تو ایک پِھر گلاس ٹوٹنے کی آواز آئی ،
میں دَر کر اچھل پڑی ، کچھ کچھ وقفے سے آئینے کے اندر سے گلاس ٹوٹنے کی آوازیں آتی رہیں ،
میرا رنگ خوف کی وجہ سے سفید پر چکا تھا اگر تھوڑی دیر اور آوازیں آتیں تو شاید میرا دِل پھٹ جاتا ،
میں نے فوراً مہوش کو اٹھایا ، لیکن مہوش کو جیسے ہی جگانے پہنچی اور اسکا چہرہ دیکھا تو ،
اسکا پورا چہرہ خون سے لت پت تھا اور وہ مردہ پڑی تھی ، میری تو بس روح پرواز کرنے والی تھی ،
میں نے بری مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی ،
جیسے ہی میں باہر نکلی ایک ناقاز پوش آدمی بڑا سا خنجر لے کر میرے پیچھے بھاگنے لگا اور میرے نام پُکارنے لگا ،
سیمہ رک جاؤ ، سیمہ سیمہ ،
آگے ہی لمحے اچانک سے منظر بَدَل جاتا ہے اور مہوش مجھے جاگا رہی ہوتی ہے ،
“سییما ، اٹھا جاؤ کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے ، صرف 10 منٹ رہتے ہیں” ،
میں نے مہوش کو گلے سے لگا لیا اور اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی ، اور میں نے اسے پُورا خواب سنایا جو میں نے رات میں دیکھا تھا ،
مہوش مجھ پر ہنسنے لگی ، لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کے یہ میرا ہاسٹل میں پہلے اور آخری دن ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.