آدھا مرض 178

آدھا مرض

یایک لاجواب کہانی جو آپ کے دماغ کو چھکڑا دئے اور سوچنے پر مجبور کر دائے .

آج صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی میں ، یہ حتمی فیصلہ کر چکا تھا کے میں اِس ملک کی سب سے نامور اور جانی مانیی نفسیاتی ڈاکٹر ہدیہ آمین کا اپائنٹمنٹ حاصل کرونگا
اور اپنے اِس آدھے پاگل دماغ کا علاج کرواونگا .
لاہور کا کون سا ایسا نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ھوگا جس کے پاس میں نے اپنی قسمت نا آزمائی ہوں ، لیکن میرا مرض سنبھالنے کی بجائے راوز با روز بھرتا ہی جا رہا تھا .
میرا مرض نا مجھے سمجھ آتا تھا نا میں کسی کو سمجحا پاتا تھاا اِس لیے سب ہی نئے میرے معاملے میں افلاطون بننے کا فیصلہ کیا ہُوا تھا ،
کوئی کسی نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ، کوئی کسی بنگالی بابا کے درشن کرواتا تو کوئی قبراستان میں چیللے کٹواتا ،
غرض یہ کے پورے مہینے میں کمائے ہوئے پیسے میں اپنے علاج میں ہی گنوا بیٹھ تا تھا .
ایک دن فیس بک استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر ہدیہ کے پیج پر جا پہنچا اور گویہ مجھے میری ڈوبتی کشتی کا آخری ملاح مل گیا .
مختصرا یہ کے اُس دن 3 بجے میرا اپائنٹمنٹ تھا ، اپنی موٹر سائیکل کو چوتھے گیئر میں ڈال کر میں 2 : 45 پم پر ان کے کلینک جاپہنچا ،
وہاں پہنچا تو ، وہاں کلینک سے زیادہ ایک بینگلو میں پارٹی نما سا ماحول بنا ہُوا تھا ،
جو مریض میرے ساتھ انتظار گاہ میں بیٹھے تھے وہ سب ہنس بول رہے تھے ، کوئی کافی پی رہا تھا تو کوئی بالکونی میں کھڑا ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہا تھا ،
کچھ مرد مریض اسنوکر کھیل رہے تھے تو کچھ دیواروں پر اپنی مرضی کے رنگ بکھیر رہے تھے ،
ہر عمر کے لوگ اور ہر طبقے کے لوگ موجود تھے ، ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کے یہ سب لوگ مریض ہیں اور یہاں علاج کروانے آئے ہیں
میں فوراً ہی سمجھ گیا کے ڈاکٹر ہدیہ نئے اپنی فیس 50‬ ، 000 کیوں رکھی ہے ، اور اندر ہی اندر خود کو کوسنے لگا کے کیوں میں نے اپنی بچی کچی جما پنجیی بھی ان بیکار کی چیزوں میں جحونک دی .
اسی کشمکش میں ، مجھے پیاس لگنے لگی . پانی پی آیا اور لوگوں سے سلام دعا کرتے ہوئے میں پِھر سے اپنی جگہ پر آ پہنچا
گھنٹی کی آواز بجتے ہی میرا نام پکارا گیا عبدل واجد اَحْمَد ، میں استقبالیا پر گیا اپنے اپائنٹمنٹ کی پارچیی دکھائی اور اندر داخل ہو گیا .
یہ 29-30 سالا ماڈرن لڑکی میرے اِس پیچیدہ مرض کا علاج کریگی ؟
یہ فیس بک پر تو 40-45 سالا خاتون لگتی ہیں لیکن یہاں تو معاملے ہی اُلٹا ہے ، ایسا لگتا ہے ، یونیورسٹی سے پاس ہونے کے بَعْد سیدھا منہ اٹھا کر یہ کلینک چلانا شروع کر دیا ہے محترمہ نئے .
یہ ڈاکٹر سے زیادہ مجھے ماڈل گمان ہوئیں ، یہ گولڈن کھلے ہوئے بال ، ڈیجیٹل کتری اور یہ چوری دار گلابی پجامہ اور بڑا سا نارنجی رنگ کا عینک ، اِس ایک عینک میں پتہ نہیں کتنے غریبوں کے عینک بن جاتے ؟
ایک ہی منٹ میں پتہ نہیں اِس فراڈ کے بارے میں کتنے حقائق اپنی ذہانت اور قابلیت سے جان لیے .
میں نے دِل میں تھان لیا تھا کے میں بھی یہ کاروبار شروع کرونگا ، ایک دن میں 4 پیشنٹس بھی آگئے تو راوز کے 2 لاکھ ، اور مہینے کے 60لاکھ اگر 30 لاکھ کا خرچہ نکل بھی ڈوں تو سیدھے 30 لاکھ جیب میں .
“واجید صاحب” ، حَسِین ڈاکٹر کی آواز نئے مجھے اس کی طرف متوجہ کر دیا ، وہ آواز اسکی کیسے ہوساکتیی ہے ؟
ایسی سوریلیی آواز میں نے شاید ہی اپنی زندگی میں اِس سے قبل سنی ہوں .
اسکی آواز میں ایسا لگتا تھا جیسے شاید لتہ جی ، ملکہ ترنم اور شیریا گوسلے کی آواز کے سر ڈال دیئے گئے ہوں .
میری نظریں ڈاکٹر صاحبہ پر تھیں اور ساتھ میں میں نے یہ سوچ لیا تھا کے اگر مجھے یہ بزنس چلانا ھوگا تو اپنی آواز پر بھی دھیان دینا ہو گا .
ڈاکٹر صاحبہ : “جی واجد صاحب ، کیا تکلیف ہے اپکو” ؟
میں : اپنے بالوں کو اور کپڑوں کو صحیح کرتے ہوئے “جیی وہ مجھے سوچنے کی عادت ہے”
ڈاکٹر صاحبہ : “مطلب زیادہ سوچنے کی” ؟
میں : “جی کچھ ایسا ہی سمجھ لیں”
ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت مجھ پر پوری طرح غالیب آ چکی تھی ،
ان کے چہرے پر وہ جہومتے ہوئے بال اور ان کے پرفیوم کی وہ انوخی خوشبو مجھ پر رعب ڈال رہی تھی .
مجھے ایسا لگ رہا تھا کے میں ایک چھوٹا بچہ ہوں اور وہ کوئی 60 سالا ڈاکٹر لیکن یہ ڈاکٹر ہدیہ میری ہَم عمر تھیں یا مجھ سے چند سال بڑی کیوں کے میں پچھلے ماہ ہی اپنی 26ویں سالگرہ مناہ چکا ہوں .
ڈاکٹر صاحبہ : “سوچنا تو اچھے بات ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کے آپ سوچتے سوچتے ، کام سے اپنا فوکس کھو بیٹھتے ہیں” ؟ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ جملہ بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے ڈالتے ہوئے کہا .
میں : “جی ایسا ہی کچھ ہے ، میں اپنا کام کرتے وقت بھی دوسروں کے کاموں کو ان سے بہتر انداز میں کرنے کی سوچتا رہتا ہوں ، مجھے ایسا لگتا ہے کے مجھ میں 50‬ ، 60 ٹیلنٹ ہیں ، میں ایکٹنگ بھی کر سکتا ہوں ، سنگر بھی ہوں ، ناتیں بھی اچھے پڑھ سکتا ہوں ، رائٹر بھی ہوں ، ٹریننگ بھی دے سکتا ہوں اور یہاں تک کے میں آپ سے بہتر نفسیاتی ماہر بھی ہووں” میں نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا .
ڈاکٹر صاحبہ “مطلب ملٹی ٹیلینٹڈ ہیں آپ ؟ ”
میں : “جی لیکن آپ کے سامنے بیٹھنے سے پہلے تک صرف انہی ( ایک ) ٹیلینٹڈ تھا لیکن آپ کی شخصیت نے میرے ٹیلنٹ کو میرے جسم کے کونے کونے سے باہر لا کر پھینک رہی ہے”
ڈاکٹر صاحبہ : “او آئی سی ، آپ تو باتیں بھی اچھی کر لیتے حایں”
میں : “جی آپ 56 انسان ہیں جنہوں نے مجھے یہ کمپلیمینٹ دیا ہے”
اور یہ سلسلہ چلتا گیا ، 3 گھنٹے گزر جانے بَعْد انہوں نے کہا کے آپکو کل دوبارہ انا ھوگا .
پچھلے 3 گھنٹے ، میری زندگی کے گزارے ہوئے سب سے خوبصورت لمحات تھے ، میں بے حد خوش تھا کے کل پِھر ڈاکٹر صاحبہ سے ملاقات ہو گی .
اگلے دن ، میں اپنے وقت پر پہنچ گیا اور اپنی باری آنے پر ڈاکٹر صاحبہ کے روم میں پہنچ گیا ،
آج وہ کل سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں لیکن آج ان کے ساتھ ملک کے ایک مشہور ٹرینر بھی تشریف فرما تھے ، میں نئے کھرے ہو کر ان سے بھی دعا سلام کی . .
سلام دعا کے بَعْد اس ٹرینر نے مجھ سے کچھ باتیں پوچیں اور میرے انٹرسٹ کے مطابق مجھے ایک ٹاپک دیا اور کہا کے اِس پر ہَم دونوں کو ٹریننگ دیں .
میں اپنے بھرپور اعتماد کی وجہ سے اسی وقت اپنی سیٹ سے کھڑا ہُوا اور بولنا شروع کر دیا . .
10 منٹس تک بولتا رہا اور وہ ویڈیو بناتے رہے ،
اس کے بعد انہوں نے مجھے بٹھایا اور جس ٹاپک پر میں خود کو سب سے زیادہ اچھا بولنے والا سمجھتا تھا اس ویڈیو میں انہوں نے مجھے 51 غلطیوں نوٹ کرواییں .
میں بہت آفسردہ ہو گیا ، مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کے یہ سب کیا ہو رہا ہے ،
ڈاکٹر ہدیہ صرف سنجیدگی سے کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی اپنی ڈائری میں کچھ لکھتی ،
وہ معروف ٹرینر اس روم سے چلے گئے اور پِھر ایک مشہور سنگر اپنے گٹار کے ساتھ اس روم میں آگئے ،
انہیں دیکھ کر میں خوشی سے پھولا نا سمایا اور ان کے گلے لگ گیا ، وہ بھی مجھ سے بہت خوش اَخْلاقی اور خندہ پیشانی سے ملے ،
مجھے انہوں نئے گٹار دیا اور میری اپنی پسند کا ایک گانا گانے کو کہا ،
میں نئے اپنا گلا خانخارا اور گانا شروع کیا ، وہ بھی اپنے موبائل میں میری ویڈیو ریکارڈ کرنے لگے ،
یوں وہ بھی مجھے 34 غلطیاں بتا کر روم سے چلے گئے ،
میں نئے کل جو جو اپنے ٹیلنٹس ڈاکٹر ہدیہ کو گنواے تھے ان سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ایک کر کے آتے گئے اور یوں میرے ہر ٹیلنٹ میں سے غلطیاں نکل کر جاتے گئے .
مجھے اپنی اِس بے عزتی پر بہت غصہ آنے لگا ، میرا دِل چاہ رہا تھا کے میں اسی وقت ڈاکٹر ہدیہ کو جان سے مار دوں لیکن میرا قوت برداشت بہت مصبوت ہے ، اسی لیے یہ سارا تماشہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا . .
ساری بے عزتی ہونے کے بعد ڈاکٹر ہدیہ نے مجھے گھر جانے کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کے آپ کل آخری دفعہ میرے پاس آئینگے .
مجھے مکمل یقین ہو گیا تھا کے ڈاکٹر ہدیہ ایک فراڈ اور پیسے لوٹنے والی عورت ہے ،
یہ لوگ میری جان بوجھ کر غلطیاں نکال کر مجھے پاگل ثابت کرنا چاھتے تھے ،
میں پوری رات بے چین رہا کے کل یہ لوگ میری اور کتنی بے عزتی کرینگے
اور میرا دماغ دَرْد سے پھٹ رہا تھا اور مجھے میری سلاحیتوں پر شک ہونے لگا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کے میرے سارے ٹیلنٹس میں اتنی خرابیاں کیسے آگائیں ؟
میں شاید پاگل ہو چکا تھا ،
لیکن میں خود سے ایسا نہیں ہُوا تھا ، لوگ میری باتون پر ہستے تھے ، انہیں میری باتیں انٹرسٹنگ لگتی تھیں ، میں اسکول میں سنگِنگ کے ایوارڈ لے چکا تھا ، میں اسکول میں کومیڈی کر چکا تھا اور ان پر بھی ڈھیروں انعامت اٹھائے تھے ،
میری الماری میں بہت سی شیلڈز اور ایوارڈ بھرے پرے تھے ، میرا دِل چاہ رہا تھا میں خود کو آگ لگا دوں اور پِھر میری آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ،
میں وضو کر کے اللہ کی بارگاہ میں خحوب رویا اس سے مدد طلب کی ، مجھے لگ رہا تھا میں پاگل ہوں یا مجھے کوئی ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ،
مجھے اِس دَر سے نیند نہیں آئی کے شاید کل ڈاکٹر ہدیہ مجھے پاگل کھانے بھجوا دیگی .
اللہ اللہ کر کے صبح ہوئی اور میں نے فجر کی نماز کافی سالوں بَعْد مسجد میں جا کار ادا کی ،
اِس دفعہ بھی میں وقت سے پہلے اسپتال پہنچ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ، کچھ ہی منٹوں میں میری باری آگئی اور میں ڈاکٹر صاحب کے سامنے موجود تھا ،
ڈاکٹر صاحبہ نے بولنا شروع کیا اور میں نے سننا ،
“اللہ پاك نئے اپنے ہر بندے کو مختلف خوبیاں تحفہ کی ہیں ، کسی کو اچھی آواز ، کسی کو آنکھوں کی تیز روشنی سے نوازا ہے ، کوئی جسمانی طاقت میں میں بھری ہے تو کچھ لوگ تخلیقی سوچ رکھتے ہیں”
غرض یہ کے ہر انسان کسی نا کسی چیز میں خاص ہوتا ہے ، ”
“اسی طرح اللہ پاك نئے کچھ لوگوں کے اندر لیڈ / قیادت کرنے کی خصوصیات رکھی ہے ، ”
“ور اسی خوبی کو لئے کر باز اوقات وہ انسان جس کے اندر لیڈ / قیادت کرنے کی خصوصیات ہوتی ہے وہ اوور کونفیڈنٹ اور نیگیٹو کانفیڈینس ڈس اوڈر کا شکار ہو جاتا ہے جو کے کسی بیماری نہیں بلکہ ایک ذہنی خرابی کا نام ہے”
ڈاکٹر صاحبہ کی باتیں حرف با حرف صحیح تھیں ، ایسا لگتا تھا کے یہ کوئی انسان نہیں بلکہ میرا دماغ خود مجھ سے باتیں کر رہا تھا ،
انہوں نے پانی کا گھونٹ لائی کر پِھر بولنا شروع کیا ،
“اپ کے اندر جو قدرتی خوبی ہے وہ ہے اچھا بولنا ، اچھا بولنے کی خوبی اور چرب زبانی سے آپ لوگوں میں بہت جلد گُھل مل جاتے ہیں ، کسی بھی محفل میں جا کر بے شمار دوست بنا لیتے ہیں”
“مستقبل مزاجی نا ہونے کی وجہ سے آپ اپنے پیشے بار بار بدلتے رہتے ہیں کسی ایک بھی پیشے میں آپ اسی لیے قدم نہیں جماع پاتے ، اِس لیے آپ صرف ایک پیشہ میں کچھ وقت بیتا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کے آپ کو اس میں مہارت حاصل ہو گئی ہے . ”
“اپ ہر پیشے کے بارے میں خود کو دوسروں سے زیادہ اچھا سمجتے ہیں کیوں کے آپ اچھا بولتے ہیں ، دوسرے آپ کے اندازے گفتگو سے متاثر ہو کر آپکو داد دیتے ہیں اور آپ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کے آپ واقع اس سکل میں یا پیشے میں بہت ماہر ہیں”
“کیا میں کچھ غلط کہہ رہی ہوں ، واجد صاحب ؟ ” انہوں نے میری طرف پر اعتماد لہجے میں دیکھتے ہوئے پوچھا .
میرا منہ حیرت سے کھلا ہُوا تھا ،
انہوں نے پِھر ایک پانی کا گھونٹ پیا اور کہنا شروع کیا ،
“لوگوں نئے آپ کی تاریفیں کر کر کا آپ کو ایک ایسی خیالی دنیا میں پہنچا دیا ہے ، جہاں آپ سے بڑا سالحیات کار اور فنکار کوئی نہیں لیکن دَر اصل حاقیاقات اِس سے بالکل بار عکس ہے ، آپ 26 سال کے ہوگئے ہیں لیکن اب تک آپ یہی معلوم نہیں کر پائے ہیں کے آپ نئے زندگی میں کیا کرنا ہے ؟ ”
ڈاکٹر صاحبہ کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی تھا ، کوئی ایک انسان دوسرے کے بڑے میں اتنا کیسے جان سکتا ہے ؟ میں نے دِل ہی دِل میں خود سے سوال کیا . .
انہوں نے مجھے خود کی طرف متوجہ کر کے اپنی گفتگو کو دوبارہ شروع کیا
“یس میں کوئی شک نہیں کے آپ گفتگو اچھی کرتے ہیں ، اگر آپ کی گفتگو سے میں ایک یا دو دفعہ مسکرا دوں تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کے آپ مجھ سے اچھے نفسیاتی بن جائینگے ؟ آپ میرے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے جو ماحول دیکھتے ہیں کیا وہ سب فرضی ہے یا بلاوجہ میں بنایا گیا ہے ؟ ، نہیں”
“وہ بے وجہ نہیں بلکہ اسکے پیچھے بہت سی حیکماتیں پوسشییدا ہیں ، سب سے پہلے حکمت تو آنے والے شخص کو اِس احساس سے نجات دلانا ہے کے وہ کسی اسپتال میں نہیں بلکہ ایک نارمل سی جگہ آیا ہے ، ”
“آپ کی ایک ایک حرکت کو ہمارا خفیہ کیمرہ محفوظ کر رہا تھا ، اور آپ کے جانے کے بعد ہَم نئے اس پوری ویڈیو کو انتہائی توجہ سے دیکھا ، میں اکیلی نہیں بلکہ میری پوری ٹیم ایک ایک کلائنٹ پر بہت محنت سے کام کرتی ہے ، تاکہ انہیں اچھے نتائج دیئے جائیں ، اور آپ یہ سمجھ رہے ہیں کے صرف اچھا بولنے کی وجہ سے آپ مجھ سے زیادہ اچھے نفسیاتی ماہر ہیں ؟ ”
“میری ریسرچ کے مطابق آپ کو نا تو کوئی بیماری ہے نا کوئی نفسیاتی مسئلہ ، آپ اچھا بولتے ہیں اور اگر آپ کو اپنی اِس صلاحیت پر پورا یقین ہے تو میڈیا یا پبلک اسپیکنگ ، سیلز یا ٹیچنگ آپ کے لیے بہتر پروفشنل ہیں . ”
“ایک آخری بات ، میری ریسرچ کے مطابق آپکو یہ بھی لگتا ہے کے آپ دوسروں کے کاروبار کو زیادہ اچھا چلاسکتے ہیں تو آپ کے لیے سیلز کا پروفیشن زیادہ مناسب ہے . ”
ڈاکٹر صاحبہ کے یہ الفاظ سن کر میرے زندگی کے سارے سوالوں کا جواب مل چکا تھا ، مجھے یہ سمجھ آگیا تھا کے میرے ساتھ نا تو کوئی روحانی مسئلہ تھا ، نا کوئی ذہنی ، میں اوور کونفیڈنٹ ہونے کی وجہ سے اپنے آپکو دوسروں پر برتر سمجھنے لگا تھا لیکن حقیقت میں ایک معمولی سی اکاؤنٹس کی جاب کر رہا تھا .
میرا آدھا مرض ختم ہو چکا تھا اور پِھر میں نئے بقایا آدھا مرض ختم کرنے کے لیے عملی کام کرنا شروع کر دیئے
اور آج میں پاکستان کی سب سے بری سیلز ٹریننگ فرم کا ڈائریکٹر ہوں اور جب بھی ڈاکٹر ہدیہ سے ملاقات ہوتی ہے مجھے اپنا آدھا مرض یاد آجاتا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.