سجل علی کی محمود آباد سے ممبئی کی ملکہ تک کا سفر 194

سجل علی کی محمود آباد سے ممبئی کی ملکہ تک کا سفر

کچھ سال پہلے ٹی وی پر خوبصورت آنکھوں والی ایک نئی اداکارہ کو دیکھا تو اُس کا دلکش چہرہ اور معصوم حسن دیکھ کر احساس ہوا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بہت عرصے بعد تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ایک ایسی اداکارہ کا اضافہ ہوا ہے جسے اپنے حُسن کو بڑھانے کے لیے میک اپ کی گہری تہوں کی ضرورت نہیں۔
اِس کی اداکاری اتنی کمال تھی کہ حیرانی ہورہی تھی کہ اتنی کم عمر میں اِس لڑکی نے اپنی اداکاری سے شوبز میں برسوں سے کام کرنے والی دوسری اداکاراؤں کو مات دے دی تھی۔ جی ہاں، میں ذکر کررہی ہوں پاکستان اور بھارتی فلم انڈسٹری پر اداکاری کے ساتھ اپنی خوبصورتی منوانے والی پاکستان کی حسین ترین اداکارہ سجل علی کی۔
اپنے ملکوتی حسن اور جاندار اداکاری سے سجل نے پاکستان اور بھارتی عوام کے ساتھ بالی ووڈ کی نامور اداکارہ سری دیوی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے یہاں تک کہ سری دیوی سجل علی کی یاد میں رو پڑیں تھیں اور انہیں اپنی زندگی کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے اِن سے دوبارہ ملنے کی پُرزور خواہش کا اظہار کربیٹھیں تھیں۔ اور کیوں نہ کریں، سجل ہے ہی اتنی خوبصورت کہ کوئی بھی اِس کے معصوم حسن کا دیوانہ ہوجائے۔
2011ء میں پاکستانی نجی چینل پر ڈرامہ سیریل ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ نشر ہوا جس میں سجل علی کو پہلی بار دیکھا۔ ویسے تو ڈرامے میں کئی اور اداکارائیں کام کررہی تھیں لیکن جو بات سجل کے حُسن اور اِن کی بے ساختہ اداکاری میں تھی، وہ کسی اور میں نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نظر سجل علی پر ٹہر سی گئی۔ اُن کی اداکاری کو ڈرامے میں موجود دیگر اداکاراؤں کے بارے میں اول نمبر دینے کو دل چاہا۔ ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ نے واقعی سجل علی کو عام لڑکی سے پاکستانی ڈراموں کی ’’ملکہ‘‘ بنادیا۔
دوسال بعد سجل ایک اور ڈرامے ’’آسمانوں پرلکھا‘‘ میں نظر آئیں۔ پہلے کے مقابلے میں اِس ڈرامے میں سجل علی نے اپنا کردار بھرپور انداز میں نبھانے کےلیے سخت محنت کی اور اتنی کم عمر میں اتنا مشکل کردار اِس کمال خوبی سے نبھایا کہ منجھی ہوئی اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑدیا۔ سجل نے اِس ڈرامے میں اپنی اداکاری کے ساتھ آنکھوں کے تاثرات کا بھی بھرپور استعمال کیا اور جہاں جہاں ضرورت ہوئی، وہاں اپنی خوبصورت آنکھوں سے خوب کام چلایا، جبھی تو پورے ڈرامے میں صرف سجل ہی چھائی رہیں۔
سجل نے کسی اور کو اپنے مقابل آنے ہی نہیں دیا اور مکالمے اِس خوبی سے ادا کیے کہ گمان ہوتا تھا جیسے وہ واقعی ظالم سماج کی ستائی ہوئی لڑکی ہے جسے اِس بے رحم دنیا کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی میں اپنا سفر خود طے کرنا تھا اور اِس کے ساتھ اپنے گھر والوں کا بوجھ بھی خود ہی اٹھانا تھا۔ سجل خود تو روئیں، ساتھ میں ناظرین خاص طور پر خواتین کو بھی خوب رُلایا۔
بعد ازاں سجل نظر آئیں ڈرامہ سیریل ’’ننھی‘‘ میں۔ اِس ڈرامےمیں سجل خود بھی کسی ننھی بچی سے کم نظر نہیں آئیں۔ دوچوٹیاں بنائے اِدھر سے اُدھر اچھلتی کودتی ننھے بچوں کی محبت میں گرفتار سجل نے ڈرامے میں اتنی ڈوب کر اداکاری کی کہ ناظرین کو حقیقی منظر محسوس ہونے لگا۔ اِس ڈرامے کے بعد سجل علی پاکستانی ڈراموں کی ضرورت بن گئیں لیکن انہوں نے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرداروں کا انتخاب کیا جس کی مثال 2015ء میں ریلیز ہونے والا ڈرامہ ’’گل رعنا‘‘ ہے۔ عورتوں پر تشدد اور اُن کے ساتھ زبردستی کرنے والوں کے خلاف بننے والے اِس ڈرامے میں سجل علی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ جذباتی اداکاری سجل علی سے بہتر اور کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ جذبات کے اظہار پر ملکہ رکھتی ہیں اور کردار اتنی خوبصورتی سے نبھاتی ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔
کیرئیر میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے سجل علی نے اپنی پہلی فلم ’’زندگی کتنی حسین ہے‘‘ سائن کی۔ کم عمر نظر آنے والی سجل علی کے متعلق یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں اتنی خوبصورت اداکاری کی کہ لوگ بار بار فلم دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔ ڈراموں میں ہمیشہ گھبرائی ہوئی اور شرمیلی نظر آنے والی سجل نے فلم ’’زندگی کتنی حسین ہے‘‘ میں ایک جھگڑالو بیوی کا کردار بہترین انداز میں نبھایا کہ کردار میں جان ڈال دی۔ لوگ سینما صرف سجل علی کو دیکھنے گئے اور یہ فلم کامیاب قرار پائی
سجل علی کے فلمی کیریئر کا سفر ابھی شروع ہوا ہی تھا اور یہ کیسے ممکن تھا کہ حقیقت سے قریب تر اداکاری کرنے والی اِس من موہنی سی لڑکی پر بالی ووڈ کی نظر نہ پڑے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کی ’’چاندنی‘‘ یعنی اداکارہ سری دیوی نے سجل علی کو بالی ووڈ میں پہلا بریک دیا اور سجل علی نے فلم ’’مام‘‘ سائن کرلی۔ فلم میں سجل کی جاندار اداکاری اور دلکش حُسن کے چرچے بھارت میں بھی ہونے لگے اور انہیں کرینہ کپور سے تشبیہ دی جانے لگی۔ فلم ’’مام‘‘ کی ریلیز سے قبل اور بعد میں بھارتی میڈیا پر صرف سجل علی کے ہی چرچے جاری تھے۔ خوبصورتی، اداکاری اور معصومیت سمیت سجل علی بھارتی میڈیا پر چھائی رہیں۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سجل علی نے بھارت میں کام کرکے نہ صرف اپنے ملک کا نام روشن کیا بلکہ اپنے ملک کے وقار کا بھی بھرپور خیال رکھا اور کسی بھی ایسے کردار کی پیشکش قبول نہیں کی جس سے اُن کے ساتھ ملک کی عزت پر کوئی بھی حرف آئے۔ ’’مام‘‘ میں سجل علی ایک شو پیس کے بجائے مضبوط اور جاندار کردار میں نظر آئیں اور اپنی اداکاری سے پورے بھارت کو اپنا دیوانہ بنالیا۔ فلم ’’مام‘‘ کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ سجل علی کیلئے بالی ووڈ کے دروازے پوری طرح کُھل چکے ہیں اور مستقبل میں ہم انہیں مزید بھارتی فلموں میں دیکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.