کمر کے درد کی وجوہات اور ان کا گھریلو علاج 405

کمر کے درد کی وجوہات اور ان کا گھریلو علاج

خواتین کو عام شکایتوں میں سے ایک کمر کا درد ہے یہ عموماً زیادہ شدید نہیں ہوتا لیکن مسلسل جاری رہنے والا ہلکا درد خاصا پریشان کن ثابت ہوتا ہے

زیادہ محنت طلب کام کرنے سے درد میں اضافہ ہوجاتا ہے قبض اس کی کثرت میں اضافہ کردیتی ہے اور بعض اوقات اوقات قبض اس کا سبب بھی بن سکتی ہے اکثر اوقات یہ در دکمر کے پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس طرح یہ درد زیادہ بچوں کو جنم دینے یا بچوں کو زیادہ عرصے تک دودھ پلانے والی خواتین کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے ہروقت پڑے لیٹے رہنے سے اور کوئی کام کاج نہ کرنا اس درد کے لئے راہ ہموار کرتا ہے ہلکی پھلکی ورزش اس کی شدت کو کم کرتی ہے لیکن سخت ورزش نقصان دہ ثابت ہوتی ہے گردے کی پتھری بھی اس کے اسباب میں سے ایک ہے بعض اوقات بہت کم پانی پینے سے پیشاپ میں تیزابی مادہ بڑھ جاتا ہے اور کمر میں درد ہونے لگتا ہے مردوں کو بھی کمر کے درد کی شکایت ہوسکتی ہے اور ایسا عموماً کمزوری صحت کثرت جماع گردے کی پتھری کمر کا پٹھا چڑھنے یا کمر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے پٹھوں اور جلد کی بعض دوسری بیماریاں بھی کمر کے درد کے باعث بنتی ہے

علاج:

کھانے کے بعد اور سوتے وقت اسپرین کی دو دو گولیاں استعمال کریں دو دن کے بعد اسپرین کی مقدار گھٹا کر ایک گولی کردیں اور آرام آنے تک استعمال کرتے رہیںلکڑی کے تختے یا سخت سطح پر اوندھے منہ لیٹ کر کمر کی مالش کرائیں اگر آپ کے گھر میں گرم پانی کا نلکا موجود ہے تو رکوع کی حالت میں کھڑے ہوکر گرم پانی کی تیز دھار کمر پر گرائیں اور اس حالت میں گھٹنوں پر اپنے جسم کا پورا بوجھ ڈالیں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دس منٹ تک یہی عوامل دہراتے رہیں اس سے درد کم ہوجاتا ہے کمر کے درد کے اسباب کا پتا لگانے کی کوشش کریں اور اگر ممکن ہو تو اس کا مناسب انسداد کریں اگر آپ کمزور ہیں توجسمانی قوت کی بحالی کی کوشش کریں ہلکی پھلکی ورزش مفیدہے پانی زیادہ مقدار میں پئیں اگر گھریلو تدابیر ناکام رہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں

پٹھوں کا درد:

عام طور پر پٹھوں کا درد سخت ورزش کے بعد ہوتا ہے خصوصاً ایسی صورت میں جب متاثرہ شخص ورزش کا عادی نہ ہو چوٹ بھی پٹھوں کے درد کا سبب بن سکتی ہے نفسیاتی عوامل پٹھوں کے درد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو لوگ ہر وقت نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا رہتے ہیں ان کے پٹھے بھی تناﺅ کی حالت میں رہتے ہیں تناﺅ کی وجہ سے پٹھے تھک جاتے ہیں اور ان میں درد ہونے لگتا ہے کئی بیماریاں مثلاً بخار ٹی بی اور جوڑوں کا درد بھی پٹھوں کے درد کے باعث بن سکتے ہیں بعض اوقات کھانے کی کسی چیز سے الرجی کی وجہ سے پٹھوں میں درد ہونے لگتا ہے عورتوں کی نسبت مرد پٹھوں کے درد کا زیادہ شکار ہوتے ہیں یہ درد عام طور پر کندھے گردن،کمر کے نچلے حصے یا چوتڑ کے پٹھوں میں ہوتا ہے ورزش کے بعد ہونے والا بازوﺅں یا ٹانگوں کے پٹھوں میں ہوتا ہے،

علاج:

مکمل آرام بنیادی ضرورت ہے ہر چھ گھنٹے بعد اسپرین کی دو گولیاں کھائیے گرم پانی سے نہانا فرحت بخش ثابت ہوتا ہے گرم پانی سے تولیہ بھگو کر متاثرہ پٹھے پر رکھنے سے درد کی شدت کم ہوجاتی ہے پانی اتنا گرم ہونا چاہیے جتنا کہ آپ کا جسم برداشت کرسکے ہر پانچ منٹ کے بعد تولیے کو نئے سرے سے گرم پانی میں بھگو لیے متاثرہ پٹھے کے نیچے تکیہ رکھ کر اس کی ہلکی پھلکی مالش کریں اگر درد کا سبب معلوم ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں اگر آپ نفسیاتی تناﺅ کا شکار ہیں تو لارجیکٹل یا سٹیلازین کی ایک یا دو گولیاں استعمال کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.