164

اکیسوی صدی کا الادین

ایک دفعہ کا ذکر ہے کے ایک ملک میں ایک غریب لڑکا رہتا تھا . اِس کا نام الادین تھا . وہ پہلے غریب نا تھا مگر ہوا یوں کے اِس کا باپ ایک اور آدمی کے ساتھ پیسہ کامانے دوسرے ملک چلا گیا تھا . دس سال گزرنے کے بَعْد بھی وہ واپس نا آیا اور نا ہی کبھی پیسے دیئے الادینکی ماں کو روتی کے لالے پر گے . گھر میں موجود جمع پونجی ختم ہوں گئی . الادینایک نکما لڑکا تھا . وہ سارا دن انٹرنیٹ جاتا اور چیٹنگ کرتا اِس وجہ سے وہ داسوی كے امتحان میں 5 بار فیل ہوا اور اِس نے پڑھائی چور ڈی ، الاحدین کی ماں نے جب یہ دیکھا كے اِس کا بیٹا اِس كے پیسے ضایع کر رہا ہے اور اسکول کی فیس سے وہ انٹرنیٹ جاتا ہے تو اِس لیے الادینکو پیسے دینا بند کر دیئے

الادینپر اُدھر چڑھتا گیا اور پِھر ایک دن اِس نے سوچا كے وہ دوسرے شہر جا کر کمائے گا . جب وہ آدھے پر گیا تو اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی نا تھی كے ہو سفر کر سکے چناچہ پیدل روانہ ہوئے رستے میں اِس کا پاؤ کسی نوکلی چیزیں سے تاٹکرایا اِس نے جھک کر دیکھا تو وہ پرانا سا چراغ تھا اِس نے سوچا اِس کو بچ کر ٹکٹ خریدے گا اِس نے جیسے ہی چراغ کو صاف کرنے كے لیے رگڑا تو اِس میں سے دھواں نکلنے لگا وہ دھواں ایک جن کی شکل اختیار کر گیا-
الادین پہلے تو گھبرا گیا لیکن پھر حوصلہ ہوا جب جن نے کہا كے کیا حکم ہے میرے آ قا ؟ الادین نے سوچا كے میرے پاس پیسے بھی نہیں ہے اور مجھے بھوک بھی لگی ہے کیوں نہ میں اِس کو حکم دوں كے مجھے یہ كھانا دے چنانچہ الادین نے کہا مجھے بھوک لگی ہے میرے لیے كھانا لاؤ جن نےکہا كے جو حکم میرے آ قا الادین نے کہا كے تم یہ ہکلا کیوں رہے ہو اور تمہارا بال تو سلمان خان جیسے ہیں جن کہا آ قا یہ جو شارخ خان ہے نا یہ میرے تایا كے نانا كے بھائی كے بہن کی بیٹی كے ناواسے کی بہن کا پرپوتا ہے یہی قریبی عزیز ہے ، الادین نے کہا مگر تم تو جن ہو ، جن کہا كے وہ بھی تو جن ہے بلکہ ہماری طرح وہ اچلتے کودتے ہے پِھر جن مزید بتانے لگا اور سلمان خان میری نانی کی بہن كے بھائی کی نواسی کی پھوپھی کا…… .
الادین جن کی بات کٹتے ہوہے بولا بس بس یہ سب قریبی رشتے بعد میں بتانا پہلے مجھے كھانا لا دو یہ سنتے ہی جن فوراً غایب ہو گیا تھوڑی دیر بعد دوبارہ حاضر ہوا . الادین نے دیکھا كے جن كے ہاتھ میں دال کی پلیٹ تھی الادین نے کہا یہ کیسا كھانا ہے ؟ میرے لیے مورغ موسالام لاؤ-
کوئی بریانی لاؤ جن نے کہا میں یہ بڑی مشکل سے سینٹرل جیل سے چوری کر كے لایا ہوں کیونکہ میں تو صرف بی اے پاس ہوں اِس لیے جادویئ اسکول میں ایڈمیشن نہیں ملا مجھے زیادہ کام نہیں آتے . الادین نے کہا اب ہم کیا کریں ؟ جن نے کہ کیوں نہ ہم مل کر کوئی نوکری کریں ؟ الادین نے کہا كے میری بھی تعلیم کم ہے ہمیں نوکری کیسے ملے گی ؟

جن نے اپنے بڑے بھائی سے موبائل پر بات کی كے ہماری مدد کرو اِس کا بڑھا بھائی فوراً حاضر ہو گیا اِس نے ان دونوں سے کہا كے اگر تم دونوں اپنے گھر والوں کی بات مانتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا . الادین نے اور جن بڑے بھاہی سے معافی مانگی ، بڑے جن نے معاف کر دیا پِھر وہ دونوں دِل لگا کر پڑھانے لگے اور ایک دن دونوں کو کامیابی ہوئی الادین کامیاب بزنس من بن گیا اِس کا باپ بھی لوٹ آیا اِس کی ماں اور باپ ہنسی خوشی رہنے لگے ، جن بھی سارے مشکل کام اور سارے جادو سیکھ لیے وہ اب غریب لوگوں کی مدد کرتا ہے اور ان كے لیے کبھی کبھی چھوٹی موٹی چیزوں کی مدد کر دیتا ہے اب وہ چوری نہیں کرتا
آپ بھی محنت کریں گیے تو آپ بھی ضرور کامیاب ہوں گیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟