آنکھوں کی خوبصورتی اُجاگَر کرتی ہوئی بھنویں 178

آنکھوں کی خوبصورتی اُجاگَر کرتی ہوئی بھنویں

آنکھوں کی خوبصورتی اُجاگَر کرتی ہوئی بھنویں
اک مقولہ ہے کے “آنکھیں ہمیشہ سچ بولتی ہیں” جب كے ایک مسکراہٹ کسی کا دِل لبھا لیتی ہے لیکن یہ کے آنکھیں ہی ہیں جو کے کمال خوبی سے فریب دے کر کسی دوسرے کا دِل مہ لینے كے بعد کوئی خوب صورت بندھن تخلیق کرتی ہیں .
اور جہاں کہیں آنکھوں كے حسن کو بیان کیا جاتا ہے وہاں اِس سے پیشتر اس کی خوب صورتی اُجاگَر کرنے والی چہرے كے بالائی حصے پر موجود یا آنکھوں سے اوپر موجود بھنویں کو ضرور یاد رکھا جاتا ہے . خواتین کی اکثریت باقاعدگی كے ساتھ بھنووں کو برش کرتی ہے اور لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کے آنکھوں كے ساتھ خوب صورت بھنویں بھی قدرت کا اہم عطیہ ہیں .
بھنویں پر برش پھیرنا یا پینٹ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا آنکھوں کا میک اپ لیکن ہمارے ہاں کی اکثر خواتین انہیں نظر اندازِ کر دیتی ہیں . بھنووں پر برش کرنے یا انہیں بنانے كے لیے نہایت چابُک دستی اور صفائی کی ضرورت ہے تا کے آپ پر پڑنے والی ہر پہلی نگاہ پر سحر طاری ہو جائے .
چند خواتین ایسی بھی ہیں جو وقت كے ساتھ کپڑوں اور فیشن میں تبدیلی کی مانند بھنویں کی بناوٹ میں بھی تبدیلی لے آتی ہیں لیکن اکثریت تقریباً 8 ، 10 سال كے بعد ہی ان میں کوئی تبدیلی لاتی ہے .
ٹوییزیر اور اک پینسل کی مدد سے بھنویں کو ( پلک کر كے یا بنا کر ) آپ اپنے چہرے پر اک خوش گوار اور حیرت انگیز تبدیلی لا سکتی ہیں لیکن اِس كے ساتھ ضروری ہے کے آپ تھوری سی تکلیف برداشت کرنے کی ہمت رکھتی ہوں . ان سب باتوں سے پہلے ضروری ہے کے آپ آئی بروس بنانے کی صحیع فن سے آگاہ ہوں . جس كے مطابق آپ اپنی آئی برو کو صحیح لائن اور ٹھیک طریقے سے بنا سکیں .
ضروری ہے کے بھنویں بنانے كے لیے ایسی جگہ منتخب کریں کے جہاں آپ کے چہرے پر بھر پور روشنی پر رہی ہو اور پِھر اک شفاف آئینہ آپ كے پاس ہو جس سے واضع طور پر آپ اپنے چہرے کو دیکھ سکیں . سب سے اہم بیات یہ ہے کے آپ میں اتنی قوت اِرادی ہو کے بھنویں سنوارنے كے دوران ہونے والی تکلیف کو برداشت کر سکیں . اب آپ اپنی بھنووں كے اطراف میں برف کا ٹُکْڑا پھیرنے کی وجہ سے وہ جگہ وقتی طور پر سن ہو جاتی ہے اور پِھر بھنویں بنانے كے دوران ہونے والے دَرْد کا احساس کم ہوتا ہے .
اِس كے بعد آپ اپنے ٹوییزیر کی مدعا سے بھنویں كے بالوں کو مضبوتی سے پکڑیں اور دوسرے ہاتھ کی مدد سے اِس جگہ کی جلد کو کھینچیں تا کے جلد (ٹوییزیر ) كے ساتھ نا آجائے .
اسی طریقے سے آپ بھنووں كے گرد اگنے والے سب بالوں کو نکال دیجئے .
بھنووں کو شیشے میں غور سے دیکھئے . پِھر ان پر پینسل پھیر لی جائے .
آپ بھنووں کو ہر 2 اک دن بعد چیک کریں اور اگر اکا دوکا بل اگ آئیں تو اُنہیں میک اپ کرنے سے پہلے ٹوییزیر کی مدد سے نکال دیجئے . آئی برو بنانے كے بعد ہونے والے وقتی دَرْد كے لیے آپ کو کوئی بھی کریم وغیرہ لگانے کی اِجازَت ہے جس سے کے دَرْد میں کمی اور ٹھنڈک کا احساس ہو .
آپ کو جب بھی بھنویں بنانے کی ضرورت محسوس ہو تو اِس طریقے پر عمل کر كے غیر ضروری بالوں کو ( ٹوییزیر ) کی مدد سے صفائی كے ساتھ کھینچ کر اپنی بھنووں کو مناسب شکل دے سکتی ہیں .
بعض خواتین جو کے خود بھنویں نہیں بنا سکتی ہیں وہ بھنووں کو بنانے كے لیے باقاعدہ شیو کرنا شروع کر دیتی ہیں . جو کے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے . کیوں کے اِس سے اک تو جلد پر نشان پر جاتے ہیں . دوسرے اِس كے بعد اگنے والے بل زیادہ سخت اور تیزی سے بڑھتے ہیں .
ایسی کریمز كے استعمال سے بھی اجتناب برتنا چاہیے جو کے بل سفا ( ہیر ریموونگ ) ہوتی ہیں . کیوں کے ہماری آنکھ كے گرد کی جلد حساس ہوتی ہے اور اِس طرح کی کریم استعمال کرنے میں اگر ذرا سی بے احتیاطی کی گئی تو آنکھوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے . ( ویکسنگ ) وغیرہ کا استعمال بھی اِس نازک حصے پر نہیں کرنا چاہیے . کیوں کے جب اِس کو اتارا جاتا ہے تو وہاں پر گول دائرہ کی شکل میں نشان بن جاتے ہیں اور اترنے كے بعد وہاں کی جلد پر رووون كے علاوہ خشکی بھی رہنے لگتی ہے .

بھنووں کی بناوٹ :

آئی برو ہمیشہ آنکھوں کی بناوٹ كے مطابق ہوتی ہے اگر چہ کے پلکوں اور آئی برو كے درمیان خاصہ خلا موجود ہوتا ہے .
کچھ چہرے بے انتہا سادہ ہوتے ہیں جبکہ بعض انتہائی کومپلیکس نقوش رکھتے ہیں .
اگر آپکی وہ ہڈی جس پر کے آئی برو موجود ہوتی ہیں بہت باریک ہے تو اِس پر قدرے موٹی آئی برو موزون رہیں گی اگر آپ اِس سے غیر مطمئن ہیں تو آپ آئی برو كے نیچے موجود چند اک بل نکل دیجئے . اِس میں کوئی مزایقا نہیں ہے .
کچھ لوگوں کی آئی برو دونوں آنکھوں كے درمیان برج یا ناک كے اوپر کی ہڈی سے آن ملتے ہیں . جس کی وجہ سے اس كے چہرے پر تناؤ محسوس ہوتا ہے اِس كے لیے اُنہیں ( ٹوییزیر ) کی مدد سے برج پر موجود بالوں کو صاف کر كے وہ جگہ چوڑی کر لینی چاہیے اور چہرے کی مطابقت سے آئی برو بنا لینی چاہیے .
اک خاص عمر میں آکر ہماری جلد کی شادابی باقی نہیں رہتی اور جلد مرجھانے لگتی ہے . اِس وجہ سے آئی برو كے نیچے موجود جلد میں بھی سختی ختم ہو جاتی ہے تو ایسی خواتین کو چاہیے کے وہ آئی برو بنانے كے بجائے صرف پینسل کی مدد سے آئی برو بنائیں اور انہیں پینسل ہی کی مدد سے ضرورت كے مطابق شکل دیں .
اگر آپ کا شمار ان چند خواتین میں ہوتا ہے جن کی آئی برو قدرتی طور پر باریک تیر کی طرح بنی ہوئی ہیں اور صرف 2 4 بالوں كے لیے پریشان ہوں . اِس كے بجائے آپ اگر اپنے چہرے کو صاف ستھرا رکھیں تو آپ كے وہ بال آپ كے چہرے کی شگفتگی اور شادابی میں چُھپ جائیں گے . ویسے بھی اگر آپ ان 2 4 بالوں کو صاف کرنے كے لیے ( ٹوییزیر ) استعمال کرتی ہیں تو ہو سکتا ہے کے آپ صحیح طریقے سے ان بالوں کو نکال نا سکیں بلکہ قدرتی طور پر بنے ہوئے کمان نما آئی برو کو بھی خراب کر دیں . لہذا بہتر ہے کے آپ اِس خیال کو دِل سے نکال دیجئے . اور اگر آپ ایسا ہی ضروری سمجھتی ہیں تو اِس كے لیے آپ پہلے کسی ماہر بیوٹیشن كے پاس جائیں جو کے آپ کو خوش اسلوبی اور چابکدستی كے ساتھ صفائی سے آئی برو بنانے کا فن سکھا دے اور پِھر اس کے بعد آپ اپنے سیکھے ہوئے ہنر کو استعمال کرنے كے لیے ہمت سے کام لے کر آئی برو بنائیں اور آئی برو كے کروو کو انتہائی خوبصورتی سے سنواریں . بعد اَذان آئی برو پر برش وغیرہ پھیر کر انہیں مزید حسن سے ہمکنار کیجئے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟