خاک از عمارہ ملک 374

خاک از عمارہ ملک

میں ابا کے جھریوں بھرے ہاتھ غور سے دیکھتا ۔وہ عصر کی نماز کےبعد گھر آجاتے تھے ۔جب دن آہستہ آہستہ الوداع کہنے کے لئے وقت کے کونے کونے میں گھومتا ہے ۔اور تب میں ان کے سامنے چنگیرمیں روٹی اور کٹوری میں سالن رکھ دیتااس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔وہ آہستہ آہستہ نوالے لیتے ۔میں ان کے ہاتھ غور سے دیکھتا۔ اب تو جھریوں میں مٹی بھر گئی تھی یوں جیسے لکیریں مٹنے والی ہو۔

”ابا”میری آواز ۔۔۔

بولو بیٹا ۔ابا سفید بالوں بھرا سر اٹھاتے ۔

”آپ کے ہاتھوں میں مٹی لگی ہوئی ہے ۔کہنے کو ایک جملہ لیکن اس کے اندر کئی سوال پوشیدہ تھے۔
“لوگوں کے گھر بناتے بناتے اب تو مٹی ہو گئے ہیں ۔ابا دھیرے سے مسکرا دیتے ۔ابا آپ کیوں کرتے ہیں ؟ میں جھنجلا جاتا تب میں سوچتا تھا وہ سب لوگ وہاں سے کدھر جاتے ہیں !!مجھے روز ابا کو آتے دیکھ کر وحشت ہوتی تھی۔ یعقوب ابا میرا نام لیتے۔ خاک کی امانت ہے خاک کو لوٹانا ہے۔

ایک نامحسوس سی اداسی مٹی کے دیوار پر اتر آتی ۔تھجے پتا ہے یعقوب !ابا ٹھر جاتے ۔میں مٹی پر انگلی سے دائرے بناتے ہوئے رک کر انہیں دیکھتا۔میں روز یہ دیکھتاہو ں کہ خاک کے اوپر سے نیچے تک کا سفر کیسےکیا جاتا ہے”۔ اور “اوپر سے نیچے ”وہ الفاظ تھے جو میرے حلق میں اٹک جاتے تھے۔میں روز نگلنےکی کوشش کرتا۔ روز اٹک جاتے اور وقت دور کھڑا میری طرف سوگوار مسکراہٹ کےساتھ دیکھتا رہتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر خوبصورت وقت نکل گیا صرف پھیکے دن رہ گئے ۔بہارنے خزاں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور میں حیران رہ گیا جب ہر رنگ پہ سیاہ رنگ چھا گیا۔ ابا کی قبر پر لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔اور ابا صرف ابا ہی نہیں ماں بھائی غرض کہ میں ہر رشتے کی کمی ان کی ذات سے پوری کرتا تھا ۔تازہ تازہ مٹی میری کائنات سمیٹے بکھر رہی تھی ۔

اگلے دن وہی بیلچہ اور دوسرے اوزار مجھے تھما دئے گئے ۔ابا کے بعد نیا گورکن میں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تب مجھ پر مٹی کے اسرار کھلے ۔وہ مٹی جو کسی معصوم کی گور کے لئیے کھودتا تھا اس سے زیادہ نرم شاید روئی بھی نہ ہو۔اور وہ لوگ بھی ہے جنہوں نے آسمان کے رنگ تک کو چھو کے دیکھا تھا ۔ان کے لئے میں بڑے بڑے پھتر نکال نکال کر تھک جاتا ہوں تب کہیں جا کر ان کے لئیے جگہ بنتی ہے ۔اس ویران سی جگہ میں بعض دفہ جب کھودتے کھودتے ایک موٹا تازہ سانپ باہر نکل آتا ہے تو تب میں گھر آکر وہ رات چمکتے تاروں کی مدھم روشنی میں جائے نماز پہ سر رکھ کے گزار دیتا ہوں ۔کہیں کسی قبر کو اتنا سجا دیا جاتا ہے کہ وہ قبر نہیں لگتی ۔لیکن وہ ویران رہ جاتی ہے۔ اس پہ کبھی دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ نہیں آتے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رؤف صاحب کی قبر پر روز سوراخ بن جاتے تھے۔ میں دور سے ان کے بیٹے کو آتے دیکھ کرقبرستان کی پچھلی طرف والی سڑک پر آگیا ۔وہ اکیس بائیس سال کا نوجوان تھا۔میں نے اسکو پکارا پوری با ت سننے کےبعد ۔۔۔

اب میں کیا کر سکتا ہوں ڈیڈ نے خود اپنے لئے کوئی اچھا کام نہیں کیا کبھی ۔اکتائے لہجے میں بولا۔آپ کریں نا ان کی قبر پر دعا ۔۔میرے کرنے سے کیا فرق پڑے گا ویسے بھی انہیں کونسا پتا چلے گا کہ میں آیا تھا اور میں نے فاتحہ ۔۔دعا واٹ ایور پڑھا۔ اوروہ بے پروائی سے ہاتھ ہلاتا بائیک ایک ٹائر پر بھگاتا چلا گیا ۔میں وہی کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ سڑک ہے جس پہ ہر وقت لوگ چلتے رہتے ہیں خوشحال ۔۔۔خوش خرم۔۔۔۔ بے فکر لوگ ۔۔۔جب قہقہے لگاتے ہوئے قبرستان کے ساتھ سے گزر جاتے ہیں تو میں جانتا ہوں کونے پر لگا وہ بڑا درخت اپنی شاخیں پھیلا کر ہنستا ہے ۔دیوار کے ساتھ جمع کر کے رکھے ہوئے پتھر ایک دوسرے کو معنی خیزی سے اشارے کرتے ہیں ۔اور کتبے ان کی طرف انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔لیکن وہ اس سب سے بے نیاز زمین پر جب قدموں کے نشان بنا کر تیز تیز چلتے ہوئے میری نظروں سے دور ہو جاتے ہیں تو پیچھے سے قبرستان کی مٹی پکار کے کہتی ہے ۔کب تک مجھ سےدور رہو گے!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رؤف صاحب کا بیٹا بھی ایکسڈنٹ میں چلا گیا ۔اور ایک کھردری مٹی سے پتھر نکال نکال کر میں ہانپ گیا تھا۔پھر اسکا گھر بن گیا۔تین روز گزرنے کے بعد ایک سانپ نکلا۔اگلے دو دن بعد پھر دوسرا سانپ ۔لگاتار سانپوں کو دیکھنے کے بعد جب میں ان کے در پر آگیا تو اسکا بڑا بھائی باہر نکل رہا تھا ۔میں نے سلام کے بعد ابھی بات بتائی۔

اس نے جلدی جلدی میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا۔

دیکھو یار تھا تو میرا بھائی لیکن اس نے پوری زندگی میں کبھی نیک کام نہیں کیا۔میرے سماعتوں میں ایک آواز گونجی(ڈیڈ نے خود اپنے لئے کوئی اچھا۔۔۔۔)

اب تم یوں کرو یعقوب بھائی میری طرف سے ایک دفہ کچھ پڑھو اسکی قبر پر ۔ویسے بھی اسے کونسا پتا چلنا میں نے پڑھا یا کسی اور نے۔۔ اس نے ہاتھ بے پروائی سے ہلایا۔میرے ساتھ سے ہی بائیک زن سے لے گیا۔میں مڑ کردیکھتا رہا گلی کا موڑ مڑتے ہوئے اس نے بائیک ایک ٹائیر پہ رکھی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.