دمہ کیا ہے اسکی علامات اور احتیاطی تدابیریں جانئیے 514

دمہ کیا ہے اسکی علامات اور احتیاطی تدابیریں جانئیے

امید ہے کہ آپ سب لوگ خیر خریت سے ہوں‌گیں آج ہم آپ کو دمہ کیا ہے اسکی علامات اور احتیاطی تدابیریں جانئیے اکثر دیکھا گیا ہے کہ عموماً الرجی کی وجہ سے جو دمہ لاحق ہوتا ہے اِس میں آئی جی ای لیول کافی حد تک بڑھ جاتا ہے اور مریض کو دمہ کا حملہ جلدی جلدی ہونے لگتا ہے نیز اِس کی شدت میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے . دمہ اک الرجک کیفیت ہوتی ہے جب کوئی خارشدار مادہ پھیپھرون کی ہوا کی نالیوں میں پوہنچتا ہے تو یہ نالیاں متورم ہو جاتی ہیں ان میں سے بلغم خارج ہونے لگتا ہے اور پِھر سانس کی نالیاں اتنی تنگ ہو جاتی ہیں کے سانس لینا ایک دشوار اور مہلک عمل بن جاتا ہے . سانس لینے كے دوران بلغم کی کھرکراہٹ پیدا ہوتی ہے مریض کو سانس لینے میں مشقت سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور وہ مسلسل ہانپنے لگتا ہے . جس مریض کو یہ مرض لاحق ہوتا ہے اسے سانس خارج کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور بار بار سانس پھولنے کی شکایت رہنے لگتی ہے . دمہ چونکہ الرجی كے سبب ہونے والی اک بےقائدگی ہے اور ماحول میں بے شمار الرجی کے عناصر ہوتے ہیں جیسے گرد یا دھول ، پھولوں كے زاردانی وغیرہ . یہ عوامل عموماً عام افراد میں کسی بیماری کا سبب نہیں بنتا لیکن دمے كے مریضوں كے لیے یہ شدید ردعمل کا باعث بنتے ہیں .
ایسا افراد کو اگر ان الرجیوں سے سامنا ہو جائے تو ان كے جسم کا معدافتی نظام شدید ردی عمل کا اظہار کرتا ہے اور یہ ردعمل جسم كے معدافتی نظام كے خالیات ظاہر کرتے ہیں . وہ مختلف نوعیت كے کیمیکل خارج کرنے لگتے ہیں جن كے باعث پھیپھروں میں سوجن ہو جاتی ہے اور ہوا کی نالیوں میں گاڑھی رطوبت خارج ہونے لگتی ہے . اِس كے نتیجے میں ہوا کی گزر گاہیں تنگ ہونے لگتی ہیں اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے .
علامت کی سنگینی کا انحصار اِس بات پر ہے کے ہوا کی یہ گزر گاہیں کتنی تنگ ہو چکی ہیں اِس لیے شدید کیفیت میں اگر بروقت امداد نا مل سکے تو پھیپھروں تک نا کافی ہوا پہنچنے کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے .

دنیا بھر میں دمے کی بیماری بڑھتی جا رہی ہے اِس مرض کی علامت میں وقفے وقفے سے اضافہ ہوتا رہتا ہے جبکہ کچھ مریضوں میں بظاہر کوئی علامت ظاہر ہی نہیں ہوتی اور دمے کا مرض لاحق ہو جاتا ہے . یہ بھی اک حقیقت ہے کے اگر دمے کی علامت بہت زیادہ عرصہ تک موجود رہیں اور ان کا مناسب علاج نا کیا جائے تو پِھر ہوا کی گزر گاھوں میں ایسی تبدیلیاں رونوماں ہو جاتی ہے جن کا علاج مشکل ہو جاتا ہے اِس لیے یہ ضروری امر ہے کے دمے کی مناسب تشخیص كے بعد فوری طور پر اِس كے علاج موالجے کی طرف دھیان دیا جائے . بچوں میں دمہ کی علامت یا ہیڈن دمہ یعنی پہچان میں نا آنے والا دمہ کی بڑی وجہ الرجی ہے . الرجی سے موتاثرہ بچے عام بے ضرر چیزوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں .

دمے کی علامت :

دمے كے علاج كے لیے پہلا قدم دورست تشخیص ہے عموماً جو علامت دمے کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ مندرجہ زیل ہیں .
. کھانسی
. سانس کی تنگی
. سینے کی جکڑن
. سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز انا
. بچوں میں کھانسی كے ساتھ الٹی کا ہونا
. رات اور صبح كے اوقات میں علامت میں زیادتی ہوتی ہے .
. سینے کی انفکشن بار بار ہوتی ہے
. ناک كے نتھنوں کا پھولنا جب سانس لیا جاتا ہے بلخصوص بچوں میں یہ علامت عام ہے
. جسم میں کُب نکل آنے کا انداز
. دورانِ نیند بیچینی ہوتی ہے
. سخت کھیل کود اور کام كے بغیر تھکن
. بچوں میں پسلیوں كے درمیان جگہ بننا یہ جگہیں دہنس سکتی ہیں جب بچہ اندر سانس لیتا ہے .

بعض مریضوں میں اک وقت میں 1 ، 2 علامت جبکہ کچھ میں ایک وقت میں کئی علامات بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں . اِس لیے کوشش کرنی چاہیے کے جونہی چند علامات یا ایک بھی علامت کا ظہور ہو فوراً مستند معالج سے رابطہ کریں .

دمے کی تشخیص :

دمہ كے مرض كے بروقت علاج كے لیے ضروری ہے کے اِس کی تشخیص بروقت ہو جائے کیوں کے اِس مرض کی عموماً ظاہر ہونے والی علامت دیگر بیماریوں کی بھی علامت ہو سکتی ہیں جیسے پھیپھرون كے امراض سانس کی نالی میں کوئی چیز چلے جانا یا تمباکو نوشی وغیرہ . اِس لیے جونہی دمے سے متعلقہ علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کر كے تشخیصی زرائع استعمال کرنے چاہیے . اِس سلسلے میں سانس کا ٹیسٹ ( پیکفلوریت ) چیسٹ ریڈیو گراف اور اسکن الرجی یا خون کا ٹیسٹ ضرور کرانا چاہیے .

دمے كے دوروں سے بچنے كے لیے ضروری ہے کے ایسی حالت سے بچا جائے جو کے دمے کی کیفیت کو برھانے کا سبب ہوتے ہیں . یہ عوامل الیرجین یا خارش پیدا کرنے والے ہوتے ہیں . گھریلو گرد اک عام الیرجین ہے اِس میں چھوٹے چھوٹے کیرے پائے جاتے ہیں جو کے سانس کی نالیوں میں جا کر دمے کی کیفیت پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں . اِس كے علاوہ قالینوں ، دبیز پردوں ، پُرانے گدوں اور نرم کپڑوں سے بنے ہوئے کھلونوں میں بھی یہ کیڑے کثیر تعداد میں ہوتے ہیں . قالین بچھے ہوئے کمرے جن میں ایر-کنڈیشنڈ بھی ہوتا ہے وہاں پر یہ کیڑے زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں کیوں کے کیڑوں کی افزائش میں ٹھنڈک اور نمی اور سورج کی روشنی اور تپش نا پہنچنا اہم کردار ادا کرتے ہیں .
ایسے افراد جن میں دمے کی کیفیت پیدا ہونے کا خدشہ ہو اُنہیں چاہیے کے گھر كے اندر ایسی حالت پیدا ہونے كے خلاف مناسب عمل کریں . اِس مقصد كے لیے گھر كے فرش کو روزانہ دھونا چاہیے دبیز اور بھاری پردوں کی جگہ ہلکی اور آسانی سے دھوئے جانے والے پردے اور بلینڈز استعمال کرنے چاہیے . بستر كے گدے کو پلاسٹک یا مائٹ پروف کور سے ڈھانپنا چاہیے . کپڑوں سے بنائے گئے کھلونوں کو یا تو مشین سے اچھی طرح دھو لینا چاہیے یا پِھر اُنہیں گھر میں رکھنا ہی نہیں چاہیے .
گھر كے باہر الرجیں پیدا کرنے والے عناصر میں گھاس اور درختوں اور پھولوں كے زاردانی ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے عموماً موسمی دمہ یا الرجی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے . اِس كے علاوہ لال بیگ اور دیگر حشراتوالعرض الرجی یا دمہ پیدا کرنے کا اک اہم سبب مانا جاتا ہے .
ایسے گھر جن میں اندر کتے بلیاں اور دیگر جانوروں کی رہائیش ہو وہاں پر بھی الرجی پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کے جانوروں کو رہنے والی جگہ پر نا آنے دیا جائے . تمباکو کے دووان ، گاڑیوں کا دووان ، تازہ پینٹ ، کیڑے مارادویات کا سپرے ، پرفیوم یا ایئر فریشینیر کا سپرے کرنے سے بھی دمے کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے .

درجہ حرارت اور نمی كے تناسب میں اچانک تبدیلی بھی دمے کی کیفیت کو بدترین بنا سکتی ہے . ایسے والدین جو کے سگریٹ نوشی کرتے ہوں ان كے بچوں میں تمباکو نوشی نا کرنے والے والدین كے بچوں کی نسبت دمہ كے نسبتان زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں . تمباکو نوشی دمے كے مریضوں كے لیے انتہائی مضر ہے اِس لیے اُنہیں ہر صورت میں خود بھی تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے اور ایسے ماحول میں بھی زیادہ دیر تک نہیں رہنا چاہیے جہاں تمباکو نوشی ہو رہی ہو .
دمے كے مریض کو متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے تا کے دوروں کا تسلسل ٹوٹ سکے . مریض کو ہمیشہ ایسی صحت بخش غذا کا انتخاب کرنا چاہیے جس کا بیشتر حصہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ہو .
غذائی عادت كے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں رائج ہیں جو کے عموماً ساقافتی اقاید كے سبب ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا . اک متوازن غذا جس میں مناسب غذائی اجزاء بدرجہ اطم موجود ہوں دمہ كے مریض كے لیے بہترین ہے .

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.