پولٹرگیسیٹ 80

کہانی ایک بد قسمت فلم پولٹرگیسیٹ کی

کہانی ایک بد قسمت فلم پولٹرگیسیٹ کی ۔ ۔ ۔
عمومی طور پر فلموں میں جو کہانیاں دکھائی جاتی ہیں وہ عام زندگی سے متاثر ہو کر ہی لکھی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ چاہے وہ رشتوں پر بنائی فلم ہو یا سیاست پر ۔ ۔ ۔ اس کا بنیادی خیال اصل زندگی سے ہی لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن کیا کبھی آپ نے ایسی فلم دیکھی ہے جس کا اثر اصل زندگی پر پڑا ہو;;یعنی اس فلم میں جو واقعات دکھائے جائیں اصل زندگی میں بھی ویسا ہی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ سننے اور پڑھنے میں شاید عجیب لگے لیکن اس بات میں رتی بھر بھی جھوٹ نہیں کہ اب جس فلم کے متعلق میں آپ کو بتانے والی ہوں اس فلم نے دس سال کے اندر اندر ہر اس اداکار کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جس نے بھی اس فلم میں اداکاری کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ کہانی ہے ایک ایسی بدقسمت فلم کی جو اپنے متعدد اداکاروں کی زندگی ختم کر گئی ۔ ۔ ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فلم کے شراپ سے اس کا ہدایتکار اور پروڈیوسر بالکل محفوظ رہے لیکن اداکار وں کی بڑی تعداد وفات پا گئی ۔ ۔ ۔ ۔ انیس سو بیاسی میں اسٹیفن اسپیل برگ کے بینر تلے بننے والی اس فلم کا نام ’’پولٹرگیسیٹ‘‘ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی ہارر فلموں کی تاریخ میں اس فلم کی سیریز کو خاص اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ اسے عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ یہ سیریز اتنی مقبول ہوئی کہ جلد ہی اس کا دوسرا پارٹ ’’ پولٹر گیسیٹ ٹو ۔ ۔ دی ادر سائیڈ سنہ انیس سو چھیاسی اور تیسرا پارٹ ’’ پولٹر گیسیٹ تھرڈ سنہ انیس سو اٹھاسی میں پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس فلم کی کہانی ایک گھر اور اس میں موجود ایک بچی کے گرد گھومتی ہے ۔ ۔ ۔ کیلیفورنیا میں رہنے والی’’ کارول این ‘‘ اپنے گھر میں ہی غیر محفوظ تھی ۔ ۔ ۔ اس ے کمرے میں موجود الماری آسیب کی آماجگاہ تھی جنھوں نے اس بچی پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ ’’ کارول این‘‘ اور اس کا خاندان اس گھر میں نئے شفٹ ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ لیکن جیسے جیسے انھوں نے یہاں رہنا شروع کیا انھیں اس بات کا ادراک ہوا کہ ان کا گھر کسی پرانے قبرستان پر بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے گھر میں عجیب عجیب سے واقعات ظہور پذیر ہونے لگے ۔ ۔ ۔ بھی ان کے گھر ے پچھلے حصے سے انسانی ہڈیاں نکلتیں تو بھی ’’ کارول‘‘ ٹی وی کے سامنے بیٹھی بند ٹی وی سے باتیں کرتی پائی جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کارول کے والدین ی کوشش ہوتی کہ وہ اسے بھی اکیلا نہ چھوڑیں ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن پھر بھی ان کے گھر میں موجود عفریت اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ۔ ۔ ۔ ۔ ایک رات تو کارول کے والدین نے کارول کو گھر کے پچھلے حصے میں ہڈیوں ے ڈھیر میں بیٹھا پایا ۔ ۔ ۔ ۔ الغرض اس فلم میں دکھائے جانے والے مناظر اتنی خوبصورتی سے فلمبند کیے گئے تھے کہ ان پر اصل کا گمان ہوتا تھا ۔ ۔ ۔
فلم سیریز انتہائی مقبول ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ پروڈیوسر سے لیکر ڈائریکٹر ت سب انتہائی خوش تھے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن پھر اخبارات میں اس سیریز سے متعلق کئی خبریں جنم لینے لگیں ۔ ۔ ۔ اخبارات کا کہنا تھا کہ اس فلم میں کام کرنے والے اداکاروں پر بھی کسی آسیب کا سایہ ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ جانے انجانے انھوں نے کسی آسیب کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے ۔ ۔ ۔ جس کی وجہ سے ان اداکاروں کو اموات ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ پہلے پہل تو ان خبروں پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن آخر کب تک;;اس فلم سے جڑے اداکاروں کی اموات نے اس فلم پر کئی سوالیہ نشان اٹھانے شروع کر دیئے ۔ ۔ ۔ اس سیریز کے دوران اور اس کے اختتام تک اس میں مرکزی کردار نبھانے والے چار اداکاروں کی اموات ہوگئیں ۔ ۔ ۔ جبکہ متعدد اداکاروں کو مالی نقصان پہنچا ۔ ۔ لیکن اس بارے میں کچھ اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکا کہ ان کے ساتھ آخر ہوا کیا تھا ۔ ۔ ۔
۱)کارول این ۔ ۔ ۔ ( ہیتھر او رورکے)
اس سیریز میں کارول این کا مرکزی کردار نبھانے والی چھ سالہ بچی ہیتھر نے اپنی معصوم شکل اور حقیقت سے قریب تر اداکاری کی وجہ سے جلد ہی شائقین کا دل موہ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ سنہ انیس سو ستاسی میں ہیتھر کو ’’کروہن ڈیزیز‘‘ ( پیٹ کی ایسی بیماری جس میں مریض کا کھانے بالکل ختم ہو جاتا ہے اور وزن گرنے لگتا ہے) کے شبے میں اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ ۔ ۔ کچھ دن اسپتال میں رکھنے کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا لیکن چند ہفتوں بعد ایک بار پھر اسے فلو کا زبردست اٹیک ہوا ۔ ۔ ۔ اس کے ایک دن بعد ہی اسے دل میں درد کی شکایت ہوئی جس پر فوراً ہی اسے اسپتال میں ایڈمٹ کرنا پڑا ۔ ۔ ڈاکٹرز نے اس کے آپریشن کا مشورہ بھی دیا کیونکہ پیٹ میں اس کی آنتوں میں پانی بھر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن دوران ِ آپریشن وہ معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں ’’ کارول این‘‘ اختتام کو پہنچی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۲) دانا فریلننگ ۔ ۔ ۔ (ڈومینیک ڈن)
سیریز میں کارولاین کی بڑی بہن دانا فریلننگکا کردار نبھانے والی ڈومینیک ڈن بھی بد قسمت ثابت ہوئی ۔ ۔ ۔ انیس سو بیاسی میں ڈومینیک کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہوئی ۔ ۔ لیکن اسی سال نومبر میں اس کا شوہر واپس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اسے اپنے گھر رہنے کی اجازت دے کیونکہ وہ اپنے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہا تھا جبکہ ڈومینیک کی ہارر سیریز ہٹ ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ لیکن ڈومینیک نے اس بات سے انکار کر دیا ۔ ۔ دونوں کی تلخ کلامی ہوئی بالاخر اس کے شوہر سیونی نے غصے میں اس کا گلا دبا کر اسے مار دیا ۔ ۔ ۔ ۔ سیونی کو چھ سال قید کی سزا ہوئیلیکن وہ ساڑھے تین سال بعد ہی رہا ہو گیا ۔ ۔ ۔ یوں ڈومینیک صرف پہلی سیریز میں ہی کام کر سکی ۔ ۔ ۔ ۔ اور اختتام کو پہنچی ۔ ۔ ۔ ۔
۳)کین ۔ ۔ ۔ ۔ (جولین بیک)
اس سیریز کے دوسرے حصے میں پھوت پریت کو قابو کرنے والے کردار کین کو نبھانے والے جولین بیک بھی موت کی آغوش میں جا سوئے ۔ ۔ ۔ سنہ انیس سو تراسی میں جولین پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہو گئے ۔ ۔ ۔ اور اسی سیریز کے اختتام تک ان کی موت واقع ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں آخری وقت میں ان پر کوئی دوا بھی اثر نہیں کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
۴) ٹیلر ۔ ۔ ۔ ۔ (ول سیمپسن)
سیریز میں روحیں سے باتیں کرنے والے شخص ٹیلر کا کردار نبھانے والے ول سیمپسن بھی اس فلم کی بد قسمتی سے بچ نہ پائے ۔ ۔ ۔ اسی سیریز کے دوران انھیں دل کا عارضہ لاحق ہوا اور اسی کی سرجری کے دوران وہ وفات پا گئے ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں کہ اس فلم میں ان چار اموات کے بعد بھی کچھ کرداروں کی اموات ہوئیں یا کچھ لوگ بالکل تباہ ہو گئے ۔ ۔ ۔ لیکن پھر پریس کو ایسی تمام خبریں شاءع کرنے سے روک دیا گیا ۔ ۔ ۔ کیونکہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ خود اسٹیفن کو بھی متعدد نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس سے گھبرا کر انھوں نے مختلف پادریوں سے رابطہ قائم کیا اور اس سب کا توڑ کروایا ۔ ۔ ۔
جو لواگ اس سیریز میں کام کرنے کے بعد بھی بچ گئے ان خوش نصیبوں میں جو بیتھ ولیمز بھی شامل ہیں جنھوں نے دو سیریز میں کارول کی ماں ڈیان فریلنگ کا کردار نبھایا تھا ۔ ۔ ۔ ان کا ماننا ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر بھی متعدد واقعات پیش آئے لیکن فلم کے پروڈیوسر نے ان باتوں کو پھیلنے سے بچائے رکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس لیے بچ گئیں کیونکہ شاید انھوں نے پہلے سے اپنے لیے انتظام کر رکھے تھے ۔ ۔ ان کے والد خود کافی پادریوں کے دوست رہ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ جوبیتھ کے مطابق اسپیل برگ نے اس فلم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس سین میں جس میں کارول کو ہڈیوں کے ڈھیر پر بیٹھے دکھایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ اسپیل برگ نے مصنوعی ہڈیوں کے بجائے مختلف قبرستانوں سے اصلی ہڈیوں کا انتظام کیا تھا ۔ ۔ ۔ جو دیکھنے میں ہی انتہائی ڈراوَنی لگ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔
جو بیتھ ولیمز نے ایک اور بات کا انکشاف کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے آخری روز سیریز میں روحیں سے باتیں کرنے والے شخص ٹیلر کا کردار نبھانے والے ول سیمپسن نے ایک ایسے شخص کا بندوبست کیا تھا جس نے باقاعدہ آسیب کو قابو کرنے کا طریقہ وہاں آ کے نبھایا تھا ۔ ۔ ۔ جو بیتھ ولیمز کے مطابق اس رات شوٹنگ پر موجود ہر شخص انتہائی ڈرا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
ان باتوں میں کہاں تک سچائی ہے ۔ ۔ ۔ اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ آپ ایسی باتوں پر کتنا یقین رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ میں صرف یہ ہی کہوں کہ کہ اس فلم سے جڑے چار لوگوں کی اموات ایک واضح دلیل ہے کہ شاید اس فلم نے کسی آسیب کو ناراض کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مزید جاننے کے لیے کیوں ناں ایک دفعہ’’پولٹرگیسیٹ‘‘ دیکھ لی جائے ۔
لیکن اپنی ضمانت پر ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں ٹریلر ہم آپ کو دکھا دیتے ہیں 🙂

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.