عورت بچاؤ مہم 73

عورت بچاؤ مہم

بہت ہی حساس موضوع پر لکھی گئی تحریر جس کا عنوان ہے عورت بچاؤ مہم خاص طور سے جو خواتین حاملہ ہیں اور آپریشن سے بچنا چاہتی ہیں وہ ضرور پڑھیں اور صدقائے جاریہ کےلئے شئر بھی کریں۔

ڈاکٹر حاملہ خواتین کو بہت زیادہ کشتے کھلارہے ہيں ۔ ca اور آئرن کے supplements کو حکمت میں کشتہ کہتے ھیں ان سے بچیں…

جس نے بھی یہ تحریر لکھی ھے اس نے حقائق لکھے ہیں اکثر حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کو شدید مسائل کا شکار ہوتے دیکھا ھے اس تحریر میں اس کی وجوہات واضح تور پر بیان کر دی گئی ہیں. آپ سے اس تحریر کو شیئر کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ سمجھ سکیں ہسپتالوں میں ہوتا کیا ہے.

عورت بچاؤ مہم

ایک دوست کا سوال
آج کل ڈیلیوریز نارمل کیوں نہیں ھوتی ہیں ۔
حالانکہ آج کل جدید ترین ہسپتال طبی ، سہولیات میسر ہیں ۔۔۔
جب کسی خاتون کو امید ھوتی ھے تو وہ فورا لیڈی ڈاکٹر کے پاس جاتی ھے
نو ماہ اس کے زیر نگرانی باقاعدگی سے چیک اپ کرواتی ہیں
اس کی تجویز کردہ ادویات بھی کھاتی ہیں
ان کی مہنگی فیسیں بھی ادا کرتی ہیں ۔۔۔
مگر جب ڈیلیوری کا وقت آتا ھے تو پھر کیس نارمل کیوں نہیں ھوتا ۔۔؟؟
نو ماہ مسلسل فولک ایسڈ اور کیلشیم کی گولیاں کھانے ۔۔۔اورvenofer کی ڈرپس لگوانے کے باوجود ۔۔۔۔
ڈیلیوری کے وقت خون کی کمی کیوں ھو جاتی ھے۔۔۔؟؟

میرے عزیزو !

اس سوال کا جواب کچھ اس طرح ھے کہ
۔۔ڈیلیوری نارمل نہ ھونے کی سب سے بڑی وجہ۔۔۔ مسکولر ٹشوز کا سخت ھوناھے
اور رطوبت تلیہ۔Lymphatic liquids کا کم ھونا ھے

یاد رکھیں

عورت کے جسم میں جتنی لچک اور Flexibility ھو گی بچہ کے اتنے ہی چانسز نارمل کے ھوں گے
اور جتنے سخت ھوں گے اتنا ہی آپریشن کا امکان زیادہ ھو گا

مندرجہ ذیل عوامل عورت کے جسم کے مسکولر ٹشوز کو سخت اور راستوں کو تنگ کر دیتے ہیں اور ان کے اندر کی رطوبت تلیہlymphatic liquids بھی کم ھو جاتی ھیں
جو لبریکیشن کا کام کرتی ھیں فطرت اور نیچر کے خلاف جب ہم چلے گٸے تو فطرت ہمیں سزا ضرور دے گی
یعنی فطرت سے روگردانی کی سزا کی وجہ سےہمیں آپریشن سے گزرنا پڑتا ھے ۔۔قطع نظر اس کے کہ
بہت بڑی بڑی بلڈنگز ہیں ،
ہسپتال ہیں ۔۔۔
مہنگے ڈاکٹرز ہیں ۔۔
مہنگی ادویات اور مہنگے انجکشنز۔۔۔
اٸیر کنڈیشنڈ کمرے۔۔۔

یاد رکھیں

یہ سب کچھ کبھی بھی فطرت کا متبادل نہیں ھو سکتے۔۔۔ پیسے کا لالچ اور ہوس اور انسانیت سے دوری۔۔۔۔
مریض کی زندگی اور صحت سے زیادہ مریض کی جیب پر نظر کا ھونا دوسری بڑی وجہ ھے۔۔۔ عورتوں کا سہل پسند ھونا اور یہ تصور کہ حمل ھو جانے کے بعد کام نہیں کرنا
سارا دن فارغ بیٹھے رہنا۔۔۔مسکولر ٹشوز اور خصوصا اووری کے مسلز کو نرم اور flexible بنانے کے بجاٸے ۔۔stiff اور سخت بنا دیتا ھے ۔۔۔۔
فارغ سارا دن لیٹے رہنے کی بجاٸے اگر مخصوص ورزش خصوصا آخری مہینوں میں کی جاٸے
یا گھر کے کام کاج کیے جاٸیں ۔۔جیسے جھاڑو دینا ۔۔۔
ڈسٹنگ کرنا ۔۔۔
اس سے اووری کے مسلز کو حرکت ملے گی
جس سے حرارت پیدا ھوگی جو مسلز کو نرم کرے گی۔۔۔۔
خوراک میں جب ہم فولک ایسڈ یا venofer کے انجکشن لگاٸیں گے
تو یہ لوہا ھونے کی وجہ سے جسم کے مسلز کو انتہاٸی زیادہ سخت کرے گا
کیونکہ یہ مسلز کی خوراک ھے
جس سے راستہ کھلنے کے بجاٸے اور زیادہ تنگ ھو گا ۔۔۔
اس کی جگہ اگر
کالے چنے
مربہ ھڑڑ
مربہ املہ
مربہ بہی
سیب
پالک
ساگ
کلیجی
دودھ
انڈا
شھد
گھی
منقی
آڑو
لونگ
دارچینی
بادام
زعفران
کا استعال کیا جاٸے
تو اس سے جسم کو قدرتی فولک ایسڈ اور خون بھی وافر مقدار میں ملےگا
اور جسم کے مسکولر ٹشوز سخت ھونے کے بجاٸے طاقتور اور نرم ھو ں گے خوبصورت بچے پیدا ھوں گے ۔۔
اور گارنٹی سے کہتا ھوں لکھ کر دینے کو تیار ھوں بچہ بھی خوبصوت پیدا ھو گا ۔ دوسری طرف کیلشیم کی گولیاں یاد رکھیں ہڈیوں کو سخت کر دیتی ہیں ۔۔ نو ماہ بے دریغ کیلشیم کی گولیاں کھانے سے ماں اور بچے دونوں کی ہڈیاں سخت۔۔۔۔۔
تو آپ اندازہ کر لیں مسکولر ٹشوز بھی سخت ۔۔ہڈیاں بھی سخت ۔۔
اسی لیے بعض اوقات کہہ دیا جاتا ھے کہ
بچے کا سر بڑھا ھوا ھے
ماں کی ہڈی بڑھی ھوٸی ھے اپریشن ہی ھو گا۔۔۔
بھاٸی نو ماہ اندھا دھند گولیاں کھلا کھلا کر آپ نے نارمل ڈیلیوری کا چانس چھوڑا ہی کب ھے
کیونکہ اس سے کماٸی زیادہ ھے آپریشن سے تو پیسے بننے ہیں نارمل سے کیا ملنا ھے ۔۔۔۔
۔۔۔اگر قدرتی کیلشیم
دودھ
دھی
انڈے
گھی
کھلایا جاتا تو گارنٹی سے کہتا ھوں کبھی کیلشیم کی کمی نہ آتی
اور ہڈیاں مضبوط تو ہوتیں مگر۔۔بڑھتی نہ
۔۔سخت نہ ھوتیں
ہاں !!! دکان کی سیل کم ضرور ھو جاتی
کمیشن ضرور کم ھو جاتا۔۔۔
سٹور کی سیل کم ھو جاتی
آپس میں لڑاٸی پڑ جاتی
بنک بیلنس کم ھو جاتا ۔
آمدنی کم ھونے کی وجہ سے۔۔۔
کیونکہ عملی طور پر ہمارا یقین اللہ تعالی اور انسانیت پر زیرو ھے
تقریروں اور گفتگو میں 1000 فی صد ھے۔۔۔ڈیلوری نارمل نہ ھونے کی ایک بڑی وجہ ۔۔۔
جیسا کہ میں نے بتایا ھے ہڈیوں کا سخت ھونا ۔۔مسکولر ٹشوز کا سخت ھو کر ان میں لچک کا کم ھونا اور اس میں رطوبات صالح کی کمی کا ھونا ھے
جو لبریکیشن کا کام کرتی ہیں ۔۔۔ان سب کے لیے آخری ماہ۔۔ صدیوں سے آزمودہ فارمولہ جو ہماری ماٸیں استعمال کرتی آ رہی تھیں
ایک تو جسمانی مشقت اور ورزش تھیں
پاؤں کے بل۔۔۔۔تو دوسری اھم چیز
دیسی گھی ۔
چھواروں
زعفران
کا استعمال تھا ۔۔
دودھ میں ڈال کر۔۔۔
جس میں
فولاد
کیلشیم
گندھک
یعنی حرارت
وافر مقدار میں موجود ھوتی ہیں ۔۔
اس کا چھوڑ دینا ۔۔۔
اور سارا دن عورتوں کا بستر پر لیٹے رھنا
اور کیلشیم فولک ایسڈ کی گولیاں کھانا
اور venifer کے انجکشن لگوانا ھے۔۔۔ پھر ڈیلیوری کے روز اور دوران جو ظلم وستم ھوتا ھے ۔۔اللہ کی پناہ

ایک تو شرم و حیا کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں ۔۔
جسم دکھایا جاتا ھے ۔۔
چوڑے چمار تک جملے کستے ہیں ۔۔ ۔۔
سلفی بناٸی جارہی ھوتی ہیں..

*استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔*

پھر پیسے کے لالچ اور حرص میں ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ
۔۔نارمل کیسز کو کٹ لگوا کر جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ھے۔۔۔ ایک اور ظلم
جس کی طرف بطور خاص توجہ دلانا چاہتا ھوں ۔۔۔
کہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ھوتا ھے
تو اسکا درجہ حرارت ٧٠ سے ٩٠ تک ھوتا ھے ۔۔۔
لیبر روم میں اٸیر کنڈیشن ھونے کی وجہ سے ایک تو ماں کے عضلات سردی سے سکڑتے ہیں ۔۔۔یہ ساٸنس کا اصول ھے
کہ سردی سے چیزیں سکڑتی اور حرار ت سے پھیلتی ہیں۔۔۔۔
کمرے میں ١٦ درجہ کا ٹمپریچر ھونے سے رحم سکڑے گا یا پھیلے گا ؟؟
یقینا سکڑے گا تو یہ چیز نارمل ڈیلوری میں معاون ھو گی یا رکاوٹ؟؟
یقینی جواب ھے رکاوٹ ۔۔۔
۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔
نازک مزاج ڈاکٹر صاحبان کو گرمی لگے گی ۔۔۔۔
لہذا مریض جاٸے بھاڑ میں
یا موت کے منہ ۔
آں جناب کی طبع نازک یہ برداشت نہیں کر سکتی
ڈاکٹر ھو کر اس کی ناک پر پسینہ آجائے ۔۔
اتنا بڑا ظلم ۔۔۔
حد تو یہ ھے کہ ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہیں
لیبر روم کا صفاٸی والا عملہ
اس کا نخرہ
اور اس کا رعب
اللہ کی پناہ ۔۔۔
وہ آسمان پہ ھوتا ھے۔۔۔
مگر سلام ھے
ہماری ان ماؤں اور بہنوں کو جو لیبر روم میں انگھیٹیاں جلاکر پسینوں پیسنی ھو کر فطری عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی تھیں
گھر میں ہی۔۔۔۔ اسی سلسلے میں ایک اور مسٸلہ بچے کا سانس اکھڑنا اور incobeter میں ڈالنا۔۔۔۔۔

پیارے بھاٸی !

جب بچہ یک دم تقریبا ٨٠ ۔۔٩٠ کے ٹمپریچر سے یک دم سولہ کے ٹمپریچر پے آئے گا
تو اس کا سانس نہیں اکھڑے گا تو اور کیا ھو گا۔۔؟ پھر درد کے انجکشن لگوانے کی سزا بلکہ بھینسوں والے انجکشن پابندی کے باوجود لگاٸے جاتے ہیں ۔۔
جو عورت کو ساری زندگی کمر درد کی صورت بھگتنا پڑتی ھے وہ ایک الگ کہانی ھے۔۔۔ پھر ایک ایک دن کا گننا اور ایک دن بھی اوپر نہ جانے دینا کہ گاہک کسی اور دکان کا رخ نہ کر جاٸے ۔۔۔
ظلم پہ ظلم ۔۔۔
ڈاکے پہ ڈاکہ ۔۔۔
اس سلسلے میں صرف اتنا عرض کروں
کہ پھل جب پکتا ھے تو خود بخود نیچے گرتا ھے۔۔
دردیں قدرتی اور فطری ھونی چاہیے ۔
یاد رکھیں فطرت انسان کی دوست ھے دشمن نہیں
مصنوعی دردیں کہ ۔۔
گاہک دوسری دکان پر نہ چلا جاٸے کے خوف سے بھینسوں والے ٹیکے لگائیں گے
تو فطرت کے ساتھ بھیانک مذاق ھے پھر نتاٸج تو بھگتنا پڑیں گے ۔۔۔۔۔
سزا تو ضرور ملے گی
فطرت کسی کو معاف نہیں کرتی۔۔۔ پھر یاد رکھ لیں
بچوں کے اندر جتنے کیسز خون کی کمی کے آرہے ہیں ۔۔۔
وہ سب کے سب مصنوعی فولک ایسڈ اور مصنوعی کیلشیم کی وجہ سے ہیں
کیو نکہ اس سے تلی spleen کا فعل متاثر ھوتا ھے
جس سے وہ انیمیا کا شکار ھو جاتے ہیں ۔ ۔۔ *المختصر* ۔۔۔۔
فطرت سے جتنا دور ہٹیں گے اتنی ہمیں سزا زیادہ ملے گی
اس موضوع پر بہت کچھ ھے کہنے کو شاید اتنا بھی ہضم نہ ھو دکانداروں کو۔۔۔
لیکن میرے پیارے بھاٸیو!
یہ ہماری ماؤں ، بہنوں بیٹیوں کی زندگیوں کا مسٸلہ ھے
عورت بچاؤ مہم
اس تحریر کو اتنا like .اور share کیجیے comment کیجیے کہ یہ
عورت بچاو مہم
بن جاٸے ۔۔۔
اور حکمران Scandinavian belt
کی طرح سخت قوانین بنانے پر مجبور ھو جاٸیں
سوشل میڈیا کی طاقت سے جہاں پر
خاوند لیبر روم میں موجود ھوتا ھے۔۔۔
ہمارے ہاں تو اس کی زیادہ ضرورت ھے ۔۔
حتی المقدور نارمل کیس کی کوشش کی جاتی ھے آخری حد تک۔۔
ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ھو سکتا
مصنوعی دردوں کے انجکشن نہیں لگواٸے جاتے ۔۔
بلکہ قدرتی دردوں کو برداشت کرنے کا کہا جاتا ھے ۔۔۔
ھمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ھو سکتا ۔۔
*فرانس میں ھر حاملہ خاتون اور بچوں کو قانونا چنے روزانہ کھلاٸے جاتے ہیں*
*فولاد کی کمی پوری کرنے کیلیے ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ھو سکتا ؟؟*

بشکریہ
حکیم ملک مشتاق احمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.